Tuesday, 19 December 2017

کاش ہم صرف اُمتی ہوتے By M Tahir Tabassum Durrani



www.sama.pk/epaper/page/10/
www.abtak.com.pk/qaalam.htm




مکمل تحریر >>

کاش ہم صرف اُمتی ہوتے By M Tahir Tabassum Durrani


کاش ہم صرف اُمتی ہوتے 

ربیع الاول شریف کا مہینہ اسلام میں بہت اہمیت کا حامل ہے کیوں کہ اس ماہ مقدس میں ہمارے پیارے نبیﷺ جلوہ افروز ہوئے تھے۔ ایک روائت کے مطابق اللہ کریم نے اس مہینہ کی برکت سے جب نبی آخرالزمان کو اس دار فانی میں بھیجا تو اس مہینہ ہر گھر میں صرف بیٹے پیدا کیے۔اس ماہ مقدس میں محافل ذکر و ازکار و نعت خوانی کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ کل مجھے بھی اسی طرح کی ایک محفل میں جانے کا شرف نصیب ہوا ، لوگوں نے اپنے اپنے انداز سے اظہار محبت کیا اور گلہائے عقیدت حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیے یقیناََ لطف و کرم اور رحمت کے اس عالم میں مجھے بھی چند گھڑیاں نصیب ہوئیں۔محفل کی آخر میں درودو سلام کے لیے سب احتراماََ کھڑے ہو گئے درودوسلام کے ایک شعر نے مجھے محو حیرت کردیا ۔ امتی امتی تیری قسمت پے لاکھوں سلام۔ اب آپ سوچیں گے کہ اس شعر کی وجہ سے کیسے حیرت طاری ہو سکتی ہے ؟ جی ہاں میں نے جب اس شعر پر غور کیا تو اپنے معاشرے میں ہونے والے مسائل میری آنکھوں کے سامنے آ گئے اور ٹولیوں میں بٹی ہوئی پوری قوم کی حالت زار میرے سامنے آگئی ۔
اس شعر کو ایسے کیوں نہیں پڑھا گیا۔وہابی تیری قسمت پے لاکھوں سلام، ایسے کیوں نہ پڑھا گیا سُنی تیری قسمت پے لاکھوں سلام، ایسے کیوں نہ پڑھا گیا ، شعیہ تیری قسمت پے لاکھوں سلام ، دیوبندی تیری قسمت پے لاکھوں سلام۔ جب سلام ہے ہی امتی کے لیے تو پھر یہ تفرقہ بازی کیوں؟ٹھیک ہے جو جس مسلک سے ہے وہ اپنے مسلک سے اپنی عبادات کو جاری رکھے لیکن ہیں تو ہم سب ایک نبی ﷺ کے امتی ، کاش ہم صرف امتی ہوتے تو جن مسائل کا آج سامنہ کر رہے ہیں وہ خود بخود ختم ہو جاتے کیونکہ آقا کریم ﷺ نے ہمیشہ اپنے امتی کہہ کر مخاطب کیا، نہ کہ اوپر بیان کردہ مسالک کے ساتھ نام لیا۔حتیٰ کہ قیامت والے دن بھی ایک آواز آ رہی ہو گی ۔ ’’یا رب امتی۔یا رب امتی ‘‘اے اللہ میری امت ، اے اللہ میری امت ۔ اور ہمارا حال دیکھیں ایک دوسرے کے دشمن بنے بیٹھے ہیں، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے 
کے لیے کیا کچھ نہیں کر رہے جبکہ قرآن مجید میں اللہ کریم ہمیں کسی مسلمان بھائی کا مذاق اڑانے سے بھی منع فرما رہا ہے تو نقصان پہنچانا ایزا دینا کتنا بڑا گناہ ہے۔ (سورہ الحجرات پارہ نمبر 26 آیت نمبر 11 )ترجمہ’’ اے ایمان والو مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں، ممکن ہے یہ ان مذاق اڑانے والوں سے بہتر ہوں۔اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے یہ ان مذاق اڑانے والی عورتوں سے بہتر ہوں۔اورآپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ۔اور نہ کسی کو برُے القاب سے پکارو۔ ‘‘ اب ذرا غور کریں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔ جب تک ہم فرقوں میں بٹے رہیں گے دشمن ہمیں یوں ہی نقصان پہنچاتا رہے گا اور ہم صرف ماتم کر سکیں گے نہ کہ اپنی مشکلات کا حل ڈھونڈ سکیں گے۔ اسلام تو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں اللہ کریم نے تمام خوبیاں رکھ دی ہیں اور دین اسلام کو پسند فرمایا ہے ’’ ان الدین الا اسلام‘‘یقیناََ دین اللہ کے نزدیک دین اسلام ہے۔آقا کریم ﷺ کے ارشاد پاک ہے اس شخص نے اسلام کی حلاوٹ پالی جس نے اللہ کو اپنا رب ، اسلام کو اپنا دین اورمحمد ﷺ کو اپنا رسول تسلیم کر لیا۔سورہ آ ل عمران آیت نمبر 103 میں اللہ کریم نے واضع پیغام دیا ہے کہ ترجمہ’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مظبوطی سے تھامے رکھو، اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘
اسلام ہمیں تفرقوں اور نفرتوں سے منع فرماتا ہے اسلام ہمیں رواداری ، اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اسلامی ریاست کے درج ذیل ستون ہیں اگر ہم ان پر عمل پیرا ہو جائیں تو دنیا اور آخرت خود بخود سنور جائے گی۔سورہ مائدہ میں اللہ کریم کا فرمان ہے ’’اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ‘‘ 
اور ہم نے دین کو اپنے اپنے طریقے سے اپنا یا ہوا ہے ۔اسلامی ریاست کے ستون ،معامالات،معاشرت،اخلاقیات،عبادات اور ایمانیات پر مشتمل ہیں اسلامی معاشرے میں حکومت وقت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ، خارجی امور، فوج اور دفاع کے معاملات میں اپنا کردار ادا کرے امن و امان اور امور داخلہ کی حفاظت محکمہ پولیس کو حکم صادر کرے کہ وہ معاشرے میں امن و اما ن کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اسی طرح قوم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اخلاقیات، تقوی ٰ محبت روادری ، اخوت ، خوش کلامی ، شرم و حیا کے دامن کو نہ چھوڑے اور بحیثیت مسلمان اپنی عبادات کو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقہ کی مطابق ادا کرے، نماز ، روزہ، حج ، ذکوٰۃ،کو اپنی زندگیوں میں شامل کریں ، نرم گوئی،صبر و شکر،تواضع و انکساری اگر یہ تمام چیزیں ہم اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو معاشرہ خوبخود درست ہو جائے گا اور 6 سالہ معصوم بچی سے زیادتی کے بعد قتل جیسے واقعات وقوع پذیر نہ ہوں۔ظلم و ستم و بربریت کی انتہا دیکھیں پہلے اپنی حوس کا نشانہ بنایا پھرحوا کی بیٹی کو کھیتوں میں پھینک دیا۔کیا یہ انسانیت ہے ؟ ہم اسرائیل امریکہ اور دیگر ممالک کو اپنا دشمن گردانتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے معاشرے میں ایسے دشمن عناصر اور درندہ صفت انسان موجود ہیں جن کا قلع قمہ کرنا زیادہ ضروی ہے ۔ کچھ ذمہ داری ہمارے علماء کرام پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں اور حکومت وقت کے ساتھ مل کر قانون سازی کریں تا کہ ایسے افراد جرم کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں اور گناہ کرنے سے اجتناب کریں۔
ہم اخلاقیات میں اتنے گر چکے ہیں کہ ہماری آنکھوں پر بے شرمی اور حوس کی پٹی اس قدر مضبوطی سے بندھ چکی ہے کہ ہم ماں بہن بیٹی کے عظیم رشتے کو بھی نظر انداز کر چکے ہیں۔بطور پاکستانی ہم حکومت وقت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے افراد کو سرعام چوک میں لٹکایا جائے اور ایسی عبرت ناک سزا دی جائے کہ ایسا سوچتے بھی انسان کانپ جائے ۔ اسلام میں تو ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کا بھائی کہا گیاہے تو کیسے ممکن ہے ایک بھائی دوسرے بھائی کو تکلیف دے ۔ یہ اس لیے ممکن ہے کیونکہ ہم فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔آئیں مل کے یہ عہدکریں کہ ہم صرف امتی بن کر پاکستان کی سلامتی اور وقار بلند کرنے میں اپنا مثبت کردارا اد ا کریں گے۔
مکمل تحریر >>

Monday, 11 December 2017

مسلمانوں کی غیرت ایمانی پر ٹرمپ کا وار By M Tahir Tabassum Durrani

My Today Article 
http://www.abtak.com.pk/qaalam.htm
dailysama.epapers.pk/10




مکمل تحریر >>

مسلمانوں کی غیرت ایمانی پر ٹرمپ کا وار By M Tahir Tabassum Durrani


مسلمانوں کی غیرت ایمانی پر ٹرمپ کا وار

کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے 

وہ کیا گردوں تھا، تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارہ!
حکیم الاامت قلندر لاہور شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال نے کیا خوب نوجوانوں کی توجہ مبذول کروائی ہے کہ آج کے نوجوان کے اندر وہ جوش اور ولولہ دیکھائی نہیں دیتا جو پہلے مسلمان نوجوانوں میں تھا۔دشمن اپنے ناپاک ارادوں سے پہلے ہمیں یکجا ہونے سے روکتا رہا پھر ہم میں نفرتوں کے بیج بو کر ہمیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں تقسیم کرتا رہا اور ہمارے رہبرو رہنما ان کے اشاروں پر ناچتے رہے اور آج وہ ہمارے مقدس مقامات کی بے حرمتی کر رہا ہے اور ہم خواب غفلت میں سونے کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ ڈاکٹر علامہ اقبال کے اس شعر کی اگر گہرائی میں جائیں تو پتہ چلتا ہے وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں ،وہ آج کے نوجوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ایک وقت تھا جب ایک سترہ سالہ نوجوان سات ہزار کی فوج لے کر ہندوستان کی طرف روانہ ہوا اور دیبل پر حملہ کیا اور کامیابی سے ہمکنار ہوا اور اسے فتح کرتے ہوئے راجہ داہر کو جہنم واصل کیا اور وہاں سے عورتوں بچوں کو آزاد کرایا۔ یہ جنگ صرف ایک خط کی وجہ سے لڑی گئی تھی ایک مظلوم عورت نے مسلمان ہونے کے ناطے مدد مانگی تھی یہ غیرت مسلمانی کا ایک واقعہ ہے جو بیان کیا۔ حضرت محمد ﷺ کی حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی کی طرح رہنا چاہیے ایک اور جگہ فرمایا مسلمان ایسے رہے کہ اگر مشرق میں ایک مسلمان کے پاؤں میں کانٹا چبھے تو مغرب کے مسلمان کو اس کی تکلیف محسوس ہو۔
اب آئیں ذرا سرزمین مقدس کی طرف اس کی کیا اہمیت ہے قرآن اور حدیث نے اس کا بہت ذکر کیا ہے ۔ حضو ر پُر نو رﷺ کی دعا سے پہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نما ز ادا کرتے تھے ، 2 ہجری 624 ء تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ تھااسے قبلہ اول بھی کہتے ہیں۔ یورپی زبان میں اسے یروشلم کہتے ہیں عربی میں اس کا نام مقدس یعنی پاک ہے اور منصنفین اسے بیت المقدس لکھتے ہیں یعنی پاک سر زمین۔بیت المقدس سے مراد ایسا پاک گھر جن کے ذریعے گناہوں سے پاک ہونا ہے۔بیت المقدس پہاڑوں پرآباد ہے اور ان میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صیہون ہے ۔ کوہِ صیہون کے نام کی وجہ سے ہی یہودیوں نے عالمی تحریک صیہونیت کی بنیادر کھی۔اس مقام کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے سورہ الااسراء (سورہ بنی اسرایل پارہ نمبر15) آیت نمبر 1 ترجمہ’’ پا ک ہے وہ ذات جو لے گئی اپنے بندے کوایک رات میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگر د ہم نے برکت رکھ دی ہے‘‘۔
اس آیت کریمہ کی روشنی میں ہمیں یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اس مقام کی اللہ کریم کے ہاں کتنی اہمیت اور برکت ہے۔فلسطین اور شام کا علاقہ بھی بابرکت ہے۔اس سر زمین کے مقدم اور با برکت ہو نے کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشا د پاک ہے سور ہ المائدہ آیت نمبر 21، ’’اے میرے قوم کے لوگوداخل ہو جاؤ اس سرزمینِ مقدس میں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے‘‘آج اگر دیکھا جائے توبہت کم مسلم ممالک ہیں جہاں امن ہے باقی تمام مسلمان ممالک یہودو نصاریٰ کے ظلم و ستم اور بربریت کا شکار ہیں ، شام فلسطین، ایران ، عراق، بوسینیا، کشمیر ، لیبیا، یمن ، روہنگیا جیسے کتنے ممالک ہیں جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم ہے ۔نہتے مسلمان بہن بھائیوں پرظلم کیا جا رہا ہے ، زندہ مسلمانوں کو جلایا جا رہا ہے ،زندہ لوگوں کی گردنیں کا ٹی جا رہی ہیں اور پھر بھی الزا م ہے کہ مسلمان دہشتگردہیں۔اور ہم زندہ لاشیں صرف ماتم کرنے اور مذمت کرنے کے لیے رہ گئے ہیں۔
غیرت مسلمانی یکسر ختم ہو چکی ہے کیونکہ ہم نے اپنے محور و مرکز کو چھوڑدیا ہے ۔ اللہ اور اس کے پیارے نبی کی باتوں کو بھلا بیٹھے ہیں۔ صرف اپنی ذات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج دشمن کھل کر سامنے آچکا ہے اور وہ غیرت مسلمانی کو للکار رہا ہے لیکن ہم سو رہے ہیں کیونکہ ہماری سوچ کو بھی محدود کر دیا گیا ہے کہ یہ میرا معاملہ نہیں جب میری بات ہو گی تو دیکھیں گے لیکن دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا چلا جا رہا ہے۔مسلمانوں پر ظلم و ستم کا دائرہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے جس پر اقوام عالم کی سپر طاقیتں بھی خاموش ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل کو موبائل اوردیگر لغویات پر لگا دیا گیا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ کی پسندیدہ کھیل نیزہ بازی، تیراکی ، تیر اندازی ،گُھڑ سواری جیسے کھیل تھے کیونکہ اس سے جسم چست اور توانا رہتا ہے بیماریاں گھیرا نہیں ڈالتیں اور دشمن کا مقابلہ جم کر کیا جاتا ہے مگر آج کے نوجوان کو کمروں کی حدود تک محدود کر دیا گیا ہے وہ ان ڈور کھیل کھیلنا پسند کرتا ہے جس سے جسم بیکار اور بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔ دشمن ہمیں اندرونی طور پر کمزور کر رہا ہے ۔
بیت المقدس پر حملہ مسلمانوں پر حملہ تصور کیا جانا چاہیے ۔ قبلہ اول کی توہین کی گئی ہے ۔کاش ہم فرقوں میں نہ بٹے ہوتے ۔ کاش ہم نفرتوں کے شکار نہ ہوتے کاش ہم صرف مسلمان ہوتے ۔کاش ہم نے قرآن کو اپنی زندگی کا رہبرو رہنما بنا لیا ہوتا ۔ کاش ہم نبی کریم ﷺ کی سیرت مبارکہ پر عمل پیرا ہوتے تو آ ج ہم ظلم و ستم و بربریت کا شکار نہ ہوتے اور امریکہ کو جرت نہ ہوتی کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کادارلحکومت بناتا ۔
ہم بہت کچھ بن گئے لیکن مسلمان نہ بن سکے۔ہم نے اسلامی تعلیمات کو چھوڑ کر غیر کی تعلیمات کو اپنا لیا۔یہودو نصاریٰ کبھی بھی مسلمانوں 
کے دوست اور خیر خواہ نہیں ہو سکتے قرآن مجید نے ہمیں اس کی تلقین کی ہے سورہ المائدہ آیت نمبر 51 ترجمہ’’اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوستی کرے گاوہ بے شک انہیں میں سے ہے ۔ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دیکھاتا‘‘۔کہاں گیا وہ محمد بن قاسم والا جذبہ ، کہاں گئی غیرت ایمانی؟
مکمل تحریر >>

Friday, 8 December 2017

Child Labor: Endangering our Future. by Naeema Siddiqui

A very informative article by Naeema Siddiqui.
 Iqbal Masih was born in 1983. He was a Pakistani child who became a symbol of abusive child labour in developing countries. His family sold him at the age of 4 to return the amount of six hundred rupees, borrowed by them. Iqbal had to work twelve hours a day, seven days a week with only a thirty-minute break. Despite working day and night, he was unable to pay the debt due to increasing interest. Iqbal escaped his slavery after he got to know that the Supreme Court of Pakistan had declared bonded slavery as illegal.
Later, he joined a school for the victims of bonded labour, Bonded Labour Liberation Front (BLLF) and completed a four-year education in just two years. He made speeches and initiated a movement against child labour throughout the world. In 1994, he got the Reebok Human Rights Award. Regrettably, he was murdered in Muridke when he was just 12 years old. Iqbal became an inspiration for the creation of the organizations like ‘Free the Children’ a Canada-based charity and Iqbal Masih Shaheed Children Foundation.
The unfortunate Iqbal is still alive in all the children who are victims of child labour in Pakistan. This is not just a story of a single child but of the millions of children who are living in a state of despondency with never ending labour hours. Pakistan is a developing country and it has a lot of social and political problems which demands an immediate response of the government and of its people. Amongst those, a major problem is of child labour. Child labour is a curse which not only destroys the present of a country but also endangers its future. The children of a country are known to be its future. If they are living in a pathetic condition then the future of that country is not safe and it will make the situations even worse.
The basic health facilities, the right to education, food and clothing of children must be the top priority of a government. A country where the access to educational facilities is limited and children must work to feed their families, does not expect a better future because child labour starts a vicious cycle of poverty which continues to operate. The sufferings and pains which these children have to bear every single day are beyond description. The government only should not be blamed for this, but the society which allows child labour to exist is also subject to criticism.
When people see the children suffering, they shut their eyes without taking any step towards its eradication. Why? Because they believe that these kids are born to suffer and it is their destiny. If they had felt their pain, they would have taken an action for bringing it to an end. As a society, we need to awaken our value system because the people in government are the same as we are. If as a society, we are so inconsiderate then we should not expect our governments to take any notice of this.
The heinous crime has spread like an epidemic across both rural and urban Pakistan. Moreover, in rural areas children mostly work in agriculture and in urban areas, their work is more of a diversified nature. They work in restaurants, hotels, rag-picking, auto-workshops and begging. The worst form of child labour is where they are exposed to the perilous work environment, forced to do the work heavier than their physical capabilities. They also have to bear physical, psychological and sexual abuse and they are forced to work for longer hours. Most of the time, they also have to work with dangerous tools and machinery which could cause physical injury and may result in their death.
One of the main causes of child labour in Pakistan is poverty. According to the report of Asian Development Bank, in Pakistan 29.5% of its population lives below the national poverty line. This poverty results in child labour and other evils in Pakistan. The children have to work to provide their families with meals three times or maybe two times a day. The 18th Amendment in the constitution of Pakistan delegates all child welfare and labor problems from the Federal Government to the four Provincial Governments. According to the United State, Bureau of International Labour Affairs, Pakistan made a moderate advancement in efforts to eliminate the worst forms of child labor in 2016. The government of Punjab took an initiative by passing the legislation ‘The Punjab Restriction on Employment of Children Ordinance 2016’. According to this ordinance, the children below the age of 15 are prohibited from doing any kind of labour and adolescents between the age of 15 and 18 are prevented from doing any hazardous work. This law will help to eliminate the child labour issues but the implementation of the law is the real challenge before the Punjab Government.
The solution of child labour could be the replacement of it with adult labour. On the one hand, this measure could reduce the rate of unemployment in the country and on the other hand the adult labour force will get better wages as compared to child labour. On an individual level and as a society as well, we can boycott those brands in which child labour is being employed. As most of our industries are based on child labour, so to save them from a heavy loss, a deadline can be given to replace child labour with adult labour. In addition to, the government must make it mandatory for the children attending schools and provide them with free education, books and uniforms.
Campaigns can be started to encourage and motivate illiterate families about the importance of education in a child’s life that it doesn’t only offer a better present but also ensures a bright future. If we all start taking small steps to improve the conditions of these deprived and unfortunate children, it will lead to a greater impact on their lives, inculcate a new soul in our society and will contribute towards a better Pakistan.
مکمل تحریر >>

Monday, 4 December 2017

کشکول توڑا جا سکتا ہے مگر کیسے؟ By M Tahir Tabassum Durrani


میرا نیا کالم۔کشکول توڑا جا سکتا ہے مگر کیسے؟ ایک بار ضرور پڑھیے گا اور اپنی آراء سے مستفید فرمایے گا۔۔
روزنامہ سماء لاہور

کشکول توڑا جا سکتا ہے مگر کیسے؟

جب سے پاکستا ن آزا د ہوا ہے اس اسلامی مملکت خداداد کو مختلف قسم کے مسائل کا سامنا ہے غربت بے روزگاری، تعلیم کی کمی، دہشتگردی اور بے شمار مسائل ہیں جس کے وجہ سے ترقی کی پہیہ آہستگی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ بچپن سے سنتے پڑھتے آ رہے ہیں ملک میں ترقی کا پہیہ جام ہو چکا ہے ملک بیرونی امداد پر چل رہا ہے ، سیاست دان ملک لوٹ کر کھا گئے ، امیر امیر سے امیر تر ہو رہا ہے جبکہ غریب ، غریب سے غریب تر ہو تا چلا جا رہا ہے ۔ فلاں حکومت نے قومی خزانے کو خالی کر دیا فلاں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد قوم بدحالی کا شکار ہو گئی۔ ایسے کئی سوال ہیں جو ہم بچپن سے سنتے آر ہے ہیں مگر صورت حال وہی ہے زندگی اپنی روانی سے آخرت کی طرف کا سفر کر رہی ہے ۔ بطور قوم ہم نے اخلاقیات اور اخلاص کا تو جنازہ ہی نکا ل دیا ہوا ہے ہم نے ڈگریاں بھی لے لی ہیں نام کے ساتھ انجینئر، ڈاکٹر بھی لگوا لیا ہے لیکن عمل سے خالی زندگی ہے۔دوسروں کو نیچا دکھانے کی خاطر ہم اپنا ایمان تک بیچ دیتے ہیں ۔ الزام تراشی کو ہم نے اپنا اشعار بنا رکھا ہے سب سے سبقت لے جانے کے دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ۔

سوشل میڈیا نے تو تمام حدیں ہی پار کر دی ہیں ہر سیاسی پارٹی کا ورکر دوسروں پرکیچڑ اچھالنے میں مشغول ہے اگر کوئی ایک کو بُرا سمجھتا ہے تو دوسرا دوسری پارٹی کو بُر ا سمجھتا ہے تو جناب عالی پھر کون سی سیاسی پارٹی ملک و قوم کی رہبر و رہنما ہے تو عرض یہ ہے کہ پہلے ملک و قوم کے لیے کام کر کے دکھائیں پھر بلند و باگ نعرے لگائیں۔ملک ترقی کی منزلوں کو تب ہی پارکر سکتا ہے جب تک ملک کا ہرفرد اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کر لیتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ صرف حکومت وقت اپنے حصے کا کام درست نہیں کر رہی جس کی وجہ سے ملک تباہی کے دہانے کھڑا ہے جبکہ اگر غورسے اس مسلے کی طرف رجوع کریں اور اپنی آنکھوں پر سے انا کی پٹی اتار یں اور صرف ملک و قوم کے بارے سوچیں تو یقین مانیں ہم اپنے اندر خود شرمندہ ہوں گے کہ ہم بطور قوم بھی کچھ نہ کرنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔جبکہ اللہ کریم نے کامیابی کے لیے قرآن مجید میں واضع ارشاد فرمایا ہے ۔ سورہ النجم آیت نمبر-40 38-39 ’’وان لیس لل انسان اِلا ما مسعیٰ‘‘
ترجمہ ’’اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کو وہ کوشش کرتا ہے ‘‘ اس آیت کریمہ کی روشنی میں اگر ہم تھوڑا غور کریں اور اس کی گہرائی میں جائیں تو پتہ یہ چلتا ہے کہ جب تک انسان محنت نہیں کرتا اپنے کل کے لیے حکمت عملی تیار نہیں کرتا تو کامیابی کیسے مل سکتی ہے کامیابی کے لیے سعی یعنی محنت کی ضرورت ہے یہ آیت کریمہ اس بات پر توجہ مبذول کرواتی ہے یہ تقا ضہ کرتی ہے کہ ہمیں باہمی تعاون اور قومی اتحاد کی اشد ضرورت ہے دشمن قوتیں ہمیں لسان، علاقوں ،قوموں میں بانٹ رہی ہیں آج ہم صرف پاکستان کا نہیں سوچتے صرف اپنی ذات کی تسکین کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ روز محشر ہم سب نے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے ، اللہ سبحان تعالیٰ پوچھیں گے کہ ہم نے جو تم کو عطا کیا وہ تو نے کیسے خرچ کیا جو وقت دیا وہ کیسے گذارا ، اگر ہم اپنے کام صرف ایمانداری ، خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ کریں تو وہ گذرا وقت بھی ہمارے لیے باعث رحمت ہوگا۔ ہمارے لیے پہلے پاکستان ہونا چاہیے پھر دوسری بات۔ سورہ النجم کی اگلی آیت میں اللہ کریم فرماتے ہیں ، ترجمہ ’’اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی، پھر اسے پور ا بدلہ دیا جائے گا‘‘ ان آیات کریمہ کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے ملک و قوم کے لیے جتنی دل و جان سے بہتری کی کوشش کریں گے اللہ ہمارے ملک پاکستان کے لیے آسانیاں اور ترقی کی راہیں کھولیں گے۔
جب قوموں میں تضاد اور برائیاں زیادہ ہو جاتی ہیں تو اللہ کریم اس علاقے پر اپنا عذاب نازل فرما دیتے ہیں ۔ یہ سارے مسائل صرف اسے لیے ہیں کہ ہم نے قرآن سے دوری اختیار کر لی اور اغیار کی گو د میں جا بیٹھے آج ہم قرآن پاک کی تعلیمات کو یکسر بھلا چکے ہیں اللہ تعالیٰ نے سورہ الدخان آیت نمبر 10-11 میں فرمایا۔’’ تو تم اس دن کے منتظر رہو جب آسمان ایک ظاہر دھواں لائے گا یہ ہے درد ناک عذاب‘‘۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت نمبر 15 ۔۔ ’’ ہم اس عذاب کو تھوڑی دیر کے لیے ہٹا دیں گے مگرتم پھر بھی وہی کرنے والے ہو‘‘۔
آج ہم طرح طرح کی آزمائشوں اور مصیبتوں میں گھرے ہوئے ہیں اپنے آپ کو درست کرنے کی بجائے دوسروں پر تنقید کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ ہم حکومت وقت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں کہ وہ ملک کو قرضوں پر چلا رہے ہیں کبھی ہم نے یہ سوچا کہ جب ہماری آمدنی ایک سو روپے ہے اور ہمارا خرچہ ایک سو پچاس روپے تو ظاہر سی بات ہے ہمیں پچاس روپے قرضہ ہی لینا پڑے گا یہی حال ہمارے ملک کا ہے ہم دفتروں میں فیکٹریوں میں جہاں جہاں بھی روزگار کمار ہے ہیں کام ایمانداری سے نہیں کرتے پور وقت کام کو نہیں دیتے ، بلا وجہ اپنے ذاتی مفادات کو ملحوظ رکھ کرہرتالیں کر دیتے ہیں، راستے روکتے ہیں جس کے وجہ سے معیشت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے ادارے خسار ے میں چلے جاتے ہیں اور آخر میں ادارے کے مالکان کو قرضہ لینا پڑتا ہے جس کا بوجھ پاکستان کی معیشت پر پڑتا ہے اور حکومت وقت کو مجبوراََ قرضہ لینا پڑتا ہے اگر ہم اپنے حصے کا کام ایمانداری اور لگن سے کریں تو یقین مانیں پاکستان ترقی کرے گا اور کشکول خود بخود ٹوٹ جائے گا۔


مکمل تحریر >>

Thursday, 9 November 2017

میری پہلی کتاب ۔ وعدوں سے تکمیل تک by M Tahir Tabassum Durrani

الحمد اللہ ، اللہ کے فضل و کرم سے میری پہلی کتاب تکمیل کے مراحل میں۔۔۔۔بہت جلد منظر عام پر ہوگی۔ وعدوں سے تکمیل تک۔
ٹائٹل پیج آپ کی نظر۔۔




مکمل تحریر >>

Wednesday, 1 November 2017

عورت شرم و حیا کا پیکر bt M Tahir Tabassum Durrani


مکمل تحریر >>

عورت شرم و حیا کا پیکر bt M Tahir Tabassum Durrani


عورت شرم و حیا کا پیکر

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو عرصہ دراز سے دہشتگردی کا شکار ہے ۔ پاکستان کی عسکری طاقت بھر پور طریقہ سے اس کے دفاع میں اپنی جان جوکھوں میں دالے وطن عزیز کی حفاظت کر رہی ہے اور آج امن کی فضا قائم ہو چکی ہے ۔میڈیا جسے جمہوریت کا چوتھا ستون گردانا جاتا ہے مثبت کر دار ادا کرنے کی بجائے منفی کردار ادا کرتا دیکھائی دیتا ہے ۔21 اگست کو پیمرا رولز میں ترمیم کے بعد الیکٹرانک میڈیاکوڈ آف کنڈکٹ 2015 لاگو کیا گیا،جس کے تحت الیکٹرانک میڈیا کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی نشریات میں کوئی ایسا مواد نشر نہ کرنے کے پابند ہیں جو متنازعہ اور نفرت انگیزی پر مشتمل ہو۔ جاری کردہ ہدایت نامہ کے مطابق یہ بھی لکھا گیا کہ میڈیا کوئی ایسا پروگرام نشر نہ کرے گا جو اسلامی روایات ، افواج پاکستان،نظریہ پاکستان، قومی سلامتی اور عدلیہ کے خلاف ہو۔
اگر حقیقی نظروں سے دیکھا جائے تو پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز پر اس حکم نامہ کی خوب دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں ۔ مارننگ شوز، ڈراماز اور یہاں تک کہ ٹی وی پر چلنے والے اشتہار ات میں بھی نیم عریاں خواتین اور مرد وں کو دیکھایا جارہا ہے ۔نجی چیینلز پر اس قدر اسلامی روایات کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے کہ بیان سے باہر ہے ۔تاریخ کے اواق پلٹیں تو پتہ چلتا ہے الیکٹرانک میڈیا کی عمر ابھی 13 سال ہی اور اس کا رویہ کسی امیر باپ کی اکلوتی بگڑی ہو الاد جیسا ہے ۔ اس کی روک ٹوک اور حدود و قیود نہ ہونے کے برابر دیکھائی دیتی ہیں۔ ٹی وی ایک ایسا ذریعہ ابلاغ ہ ے جو لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کا آسان اور موثر طریقہ ہے جسے دیکھ کر لوگ جلدی عمل کرتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب صرف پی ٹی وی ہوا کرتا تھا اتنے اچھے اور معیاری ڈرامہ ہوا کرتے تھے ان میں معاشرتی مسائل اور ان کا حل بھی بتا یا جاتا تھا کیونکہ ان کو مانیٹر کرنے کے لیے حکومت وقت کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ اپنی حدوو و قیود میں رہتے ہوئے کام کرتا تھا۔لیکن اب پرائیویٹ ٹی وی چینلز نے جب سے انٹری ڈالی ہے ہمارے تہذیب کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے ۔اخلاقیات کی ساری حدیں کراس کر چکا ہے ۔پہلے ڈراموں کے نام اتنے اچھوتے اور شاندار ہوتے تھے کہ کہانی کا اندازہ صرف نام سے ہی لگا لیا جاتا تھا، آج کل کے ڈرامے ہماری نئی نسل کو تباہ و برباد کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔حال ہی میں ایک نجی چینل پر ڈرامہ آن ائر ہوا جس کا نام ’’ میں ماں نہیں بننا چاہتی ‘‘ ۔اسلامی روایات اور تقدس اور رشتوں کے تقدس کو برابر ایزا پہنچائی جا رہی ہے لیکن پیمرا خامو شی سے تماشہ دیکھا رہا ہے ۔وہ باتیں جن کو اللہ کریم جلہ شانہ نے سات پردوں میں رکھا وہ سب باتیں آزادی صحافت کے نام پر کھلم کھلا کہہ دیتے ہیں ۔
اسلامی روایات کو بھلا کر ہم نے اغیار کو کا کاپی کرنا شروع کر دیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں تو اسے خام خیالی ہی کہا جائے گا کیونکہ ہم سرا سر گمراہی میں ہیں ۔قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے سورہ النساء آیت نمبر139 ترجمہ’’وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کہ اپنا دوست بناتے ہیں کیا ان کے ہاں عزت چاہتے ہیں، سو ساری عزت اللہ ہی کے قبضہ میں ہے ‘‘ اس آیت کریمہ کی روشنی میں اگر ہم تھوڑا غو ر کر لیں تو ہمیں خود ہی اپنا احتساب کرنے میں آسانی ہوگی کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور کتنا اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔ اگر آج ہم نے اپنے بچوں کی مثبت تربیت نہ کی توہمارا کل بہت تاریک ہوگا۔نجی ٹی وی چینلز اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیے اسلام کے منافی پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اور لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔علم کی کمی کی وجہ سے لوگ اس سازش کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ایک المیہ یہ بھی 
ہے کہ ہم لوگ تحقیق بھی نہیں کرناچا ہتے ۔ علم سے دوری نے ہی ہمیں اندھیروں کی طرف دھکیلا ہے ۔
یہ کہاں کی انسانیت ہے کہاں کا اسلام ہے کہ ایک عورت طلاق کے بعددوبارہ اپنے پہلے خاوند کے پاس واپس جانے کے لیے حلالہ چاہتی اور اور اپنے لیے شوہر خود ڈھونڈتی ہے ۔جبکہ اسلام میں پورے ارادے کے ساتھ حلالہ جائز نہیں۔۔۔ ایک طلاق یافتہ عورت اپنے دوست کے گھر غیر محرم مرد کے ساتھ رہتی ہے جبکہ اس کے ساتھ نکاح بھی نہیں کرتی۔ پیسوں کی خاطر دوست کی بیوی کو طلاق دلوا کر اس سے نکاح کر تا ہے ۔۔۔ایسی خرافات سے معاشرے میں صرف بیگاڑ ہی پیدا ہوتا ہے ۔اور ایسے مقدس رشتوں جن کو اللہ تعالیٰ نے بے حد پسند فرمایا ہے ان کی تذلیل کی جا رہی ہے جو سرا سر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے جس سے اللہ کا عذاب نازل ہوگا کیونکہ اللہ کی حدود کو کراس کرنا گناہ ہے ۔سورہ النساء آیت نمبر 14 کا ترجمہ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کر ے اور اس کی حدود سے نکل جائے (اللہ)اسے آگ میں ڈال دے گا ‘‘ ایک اور جگہ اللہ تعالی ٰ نے فرمایا (سورہ الطلاق آیت نمبر1 ف 5) ترجمہ ’’ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو اس کی حدوں سے آگے بڑھا بے شک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ تمہیں نہیں معلوم شائد اللہ اس کے بعد کو نیا حکم بھیجے‘‘۔
عورتوں کے لیے اللہ نے پردے کا حکم فرمایا ہے آج اگر کسی بہن کو پردے کی تلقین کریں تو فرماتی ہیں پردہ دل اور آنکھوں کا ہوتا ہے اُن بہنوں کو خدمت میں عرض ہے ۔ (سورہ النور آیت نمبر 31)ترجمہ۔’’اے ایمان والیوں سے کہہ دواپنی نگاہ نیچی رکھیں ، اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں ،اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں کھلی رہتی ہے اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں ،اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں،مگر اپنے خاوندوں اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں،یا اپنے بھائیوں ، یا بھتیجوں،یا اپنی عورتوں، یا اپنے غلاموں،یا اپنے خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پرجو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہو جائے اور اے مسلمانوں !تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تا کہ تم نجات پاؤ۔
الحمد اللہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باشندے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیمرا سو گیا ہے ؟ کیا اسلامی روایات اور نظریہ پاکستان کی تذلیل کرنے والوں کے لیے کوئی قانون نہیں جو عملی طور پر ان چیزوں کو مانیٹر کر ے او ر روک سکے؟؟
مکمل تحریر >>

Monday, 16 October 2017

by M Tahir Tabassum Durraniارے سچح تو میٹھا ہے http://www.abtak.com.pk/qaalam.htm http://sama.pk/epaper/page/10/

My Today Article published in daily Sama and Daily Abtak Lahore
http://www.abtak.com.pk/qaalam.htm
http://sama.pk/epaper/page/10/





مکمل تحریر >>