Thursday, 11 January 2018

زینب بیٹی ہے سیاست نہیں by m Tahir Tabassum Durrani



زینب بیٹی ہے سیاست نہیں


پاکستان ایسا ملک جہاں واقعات رونما ہونے کے بعد ایک دم سے پوری قوم یک جا ہو جاتی ہے ایسا لگتا ہے اس قوم کو نقصان پہنچانا جوئے شیر لانے کے برابر ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ماننا پڑے گا بطور قوم ہم بڑے بھلکڑ ہیں ، بھول جانا ہماری فطرت ہے واقعہ کوئی بھی ہو بہت دلخراش اور اذیت ناک ہوتا ہے یہ بس جس پر بیتتی ہے وہی جانتا ہے ۔ کوئی بھی واقعہ رونما ہونے کے بعد جو کردار میڈیا کرتا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے پاکستان میں جب میڈیا ابھی آزاد نہیں تھاواقعات ہیں جن کو دبا دیا جاتا تھا لیکن اب میڈیا نے قوم کو بیدار کر دیا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بات سامنے آتی ہے ایسے کئی دلخراش واقعات اس سے پہلے بھی رونما ہوتے تھے کئی سسکیوں کو دبا دیا جاتا ہوگا، کئی درد بھری آہوں کو بند کردیا جاتا ہوگا،انسانیت یونہی دم توڑتی رہتی ہوگی لیکن افسوس صد افوس کہ سیاسی مداری آج بھی اپنی دکان چمکانے کی خاطرمعاملے کو بڑھا چڑھا کر اسے سیاسی رنگ دے کر نمبر گیم شروع کر دیتے ہیں اور پھرہم بھی واقعہ رونما ہونے کے کچھ عرصہ بعد بھول جاتے ہیں اور پھر ایک نئے واقعہ کا انتظار کرتے ہیں کچھ سیاسی مفاد پرست واقعات پر خوب واویلا کرتے ہیں اور اپنی مشہوری کرنے کے لیے اظہار افسوس کرنے جاتے ہیں اور ریاست کے خلاف اکساتے ہیں حالانکہ ہونا تو یوں چاہیے کہ جب آپ کسی کی آواز بن رہے ہیں تو کریڈٹ اللہ کریم سے لیں لیکن ہم میڈیا پر بار بار اپنی تعریفوں کے پُل باندھنا شروع کر دیتے ہیں ، کمزور زہن لوگوں کو جذباتی تقریروں
کے ذریعے جذباتی کرتے ہیں جس سے ایک تو نقصان ہو ہی چکا ہوتا ہے دوسرا املاک کو اور قومی اداروں کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور پھر بالاآخر قانون نافذکرنے والے ادارے متحرک ہو جا تے ہیں جس سے مزید نقصان ہوتا ہے ۔ہمارے ملک پاکستان میں سیاسی مفاد کی خاطر کسی نے ہمیں لسان کی وجہ سے توڑا، کسی نے فرقوں میں بانٹ کر الگ کیا تو کسی نے صوبائیت کی بھینٹ چڑھا دیاکسی نے ایک پاکستانی نہ بننے دیا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم نہ نون ہیں نہ شین ہیں نہ قاف ہیں عین نہ الف ہیں اور نہ ب ہیں ہم صرف پاکستانی ہیں اور سب ایک ہیں ۔
ذینب بیٹی جیسے واقعات پر صرف ماتم کرنا اور مذمت کرنا کافی نہیں ایسے مجرم کو سرعام پھانسی دی جانی چاہیے تا کہ ایسا سوچتے بھی انسان کانپ اٹھے ۔ریاست کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک کے باشندوں کی عزتوں کی حفاظت کریں اور ایسے عناصر کو قرار واقعی سز ا دیں ۔ اگر ماضی میں ایسے گھٹیا عناصر کی سرکوبی کی ہوتی تو آج قوم کی بیٹی کی عزت یوں پامال نہ ہوتی اور وہ کچرے کی ڈھیر میں نہ ملتی ، انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہے یہ تو ایک واقعہ ہے جو میڈیا کے مثبت کردار، فیس بک (سوشل میڈیا) اور دیگر میڈیا کی وجہ سے منظر عام پر آگیا جس سے امید کی کرن پھوٹ رہی ہے کہ اس کومل جیسی معصوم بیٹی کی عصمت دری کا حساب اس ظالم درندے کوسزا دے کرلیا جائے گا ۔ معزز عدالت کا از خود نوٹس لینا ، اداروں کا متحرک ہونا اور آرمی چیف صاحب کاسیریس ہونا اس بات کی گواہی ہے کہ اب انشاء اللہ انصاف ضرور ملے گا۔ 
ایسے درندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے ۔
کسی ایک انسان کو قتل کرنا ساری انسانیت کا قتل کرنے کے برابر ہے:۔
مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْ? اِسْرَآءِ یْلَ اَنَّ?، مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَا?َا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا.(5: 32)
اِسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا، اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی انسان کو بچایا، اُس نے گویا تمام انسانوں کو بچا لیا۔جانتے بوجھتے ایک مومن کو قتل کرنے کا انجام ہمیشہ کی جہنم اور اللہ کا غضب اور اسکی لعنت ہے:۔
َمَنْ یَّقْتُلْ مُو?ْمِنًا مُّتَعَمِّداً فَجَزَاو?ُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیْھَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَاَعَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِیْماً(النساء 4/93)
’’اور جو کوئی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے:۔تم پر تمہارا خون، مال اور عزت کی حرمت اسی طرح ہے جیسے مکہ مکرمہ کی۔حضور پُر نور حضرت محمدﷺ کی حدیث پاک ہے کہ ، مسلمان ایک جسم کی مانند ہے اگر جسم کی کسی ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم محسو س کرتا ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کیسے مسلمان ہیں اتنی معصوم بیٹی کے ساتھ درندگی پھر اسے موت کی گھاٹ اتار دینا درندگی سے بھی بد تر فعل ہے جس کی مذمت نہیں بلکہ مرمت کرنی چاہیے۔
ذینب جیسے واقعات آج کے ترقی یافتہ دور میں ہونا اس بات کی نفی کرتا ہے کہ ہم نے ترقی کر لی کیونکہ ایسا زمانہ جہلیت میں ہوتا تھا لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے جس کے گھر بیٹی پیدا ہوتی تھی اس گھر میں صف ماتم بچھ جاتی تھی ،اگر آج بھی معصوم کلیوں کی عزتیں محفوظ نہیں آج کے ترقی یافتہ دور اور دور جہلیت میں کیا فرق ہے ؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے ۔زنا کسی بھی مذہب کسی بھی معاشرے ( سوسائٹی) میں پسند نہیں کیا جاتا ہے یہ ایک انتہائی گھٹیا اور ناپسنددیدہ عمل ہے ۔اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے خاندان متاثر ہوتے ہیں دنیا اور آخرت کی تباہی مقدر بنتی ہے ۔کسی بزرگ نے بہت ہی پیاری بات کی تھی کسی چھوٹے گناہ کوچند لمحوں کی تسکین کے لیے نہ کرنا کیونکہ لذت ختم ہو جائے گی جبکہ گناہ قبر میں اور دوذخ تک ساتھ جائے گا۔اللہ جلہ شانہ کا ارشاد پاک ہے ( سورۃالنور 2:24) ‘‘ چنانچہ زانیہ عورت اور زانی مرد ان دونوں میں سے ہر ایک کو تم سو کوڑے مارو اور اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر إیمان رکھتے ہو تو اللہ کے دین پرعمل کرنے کے معاملے میں تمہیں ان دونوں زانی اور زانیہ پر قطعاَََ ترس نہیں آنا چاہئے اور مومنوں میں سے ایک گروہ ان دونوں کی سزا کے وقت موجودہونا چاہیے۔ جبکہ اس پیاری بیٹی ذینب کے ساتھ تو دہرا ظلم ہوا ہے لہذا ایسے مجرم کے ساتھ نرمی کرنا یا معاف کرنا یا دیعت کا معاملہ کرنا ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے ۔
ہمیں ذاتیات اور مفاد سے بالا تر ہو کر بطور قوم ایک ہو کر رہنا چاہیے قومی سانحے پر صرف مذمتی بیان دے کر ہم اپنی ذمہ داری سے سبقدوش نہیں ہو سکتے ہیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے یک مشت ہو کر قوم کے لیے اچھا کرنے کی ضرورت ہے نا کہ اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے الزام تراشی کرنی چاہیے ۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ حکومت وقت کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی تیار کر یں اور قانون سازی کریں اور ایسے عناصر کی نشاندہی کریں تا کہ مجرم نشان عبرت بنیں۔خدا را ، نہ سندھی بنیں ، نہ بلوچی بنیں ، نہ پختو ن ، نہ پنجابی بلکہ صرف پاکستانی بن کر سوچیں کہ کس طرح دشمن ہمیں آپس میں لڑوا کر کمزور کر رہا ہے ۔بیٹیاں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں پھر ایسے واقعات پر سیاست کیوں؟خدا را زینب بیٹی ہے سیاست نہیں۔

مکمل تحریر >>

Monday, 8 January 2018

How Electronics Voting Machine Works




How Electronics Voting Machine Works:

This electronics voting machine has two unit one is a control unit and other a balloting unit. When a voter comes in front of the voting machine then first of all the candidates have to put his or her thumb on the screen. The thumb impression is registered with the..... Office that confirm the identity of the candidates and then on screen candidate can see all the elected candidates symbols. Now the person has to put his thumb on the symbol whom he or she wants to give vote. After this procedure machine mechanism works and a print comes out from the machine that is called ballot paper. Now you have to put this ballot paper in the ballot box which is close to the machine. This way your record can be save in two ways first a machine and then second is Ballot box.

This electronic voting machine is very useful for free and fair election of any country now as this machine is also introduced in the Pakistan so the next election would be totally genuine as no fake votes can be cast as it happens in all previous election in our country. The two way record saving will be the perfect way for this problem. In this Local Bodies election is not in a state to try this voting machine but in the next general election you can see that all the election would be cast through this Electronic voting Machine
مکمل تحریر >>

Saturday, 6 January 2018

مظھر چوہدری سب ایڈیٹر روزنامہ پاکستان کا تبصرہ

پاکستان ادب پبلشرز کی کتاب ' وعدوں سے تکمیل تک' پر تبصرہ

پاکستان ادب پبلشرز کے روح رواں Sami Ullah Khan کی جانب سے بڑی محبتوں کے ساتھ بھیجی گئی چار کتابوں (وعدوں سے تکمیل تک، صدائے عِلم، شگوفہ سحر، Eve 2000 ) میں سے پہلی کتاب (وعدوں سے تکمیل) پر تفصیلی تبصرہ پیش خدمت ہے. کتابوں پر تبصرے سے پہلے پاکستان ادب پبلشرز کے بارے اتنا ضرور کہوں گا کہ اس مہنگائی کے دور میں یہ ادارہ کتاب دوستی کا صحیح حق ادا کر رہا ہے. ویسے تو ادارے کی شائع کردہ زیادہ تر کتابوں کی قیمت مارکیٹ کے لحاظ سے کافی کم ہے لیکن پاکستان ادب پبلشرز نے کچھ کتابیں no profit, no loss کی پالیسی کے تحت بھی شائع کی ہیں جو میرے خیال میں علمی و قلمی جہاد سے کم نہیں. کتابوں کی پرنٹنگ کا معیار بھی بہت اعلی ہے

محمد طاہر تبسم درانی کی کتاب ' وعدوں سے تکمیل تک' بنیادی طور پر موجودہ حکومت کے پنجاب سمیت پورے پاکستان میں تکمیل شدہ منصوبوں اور اصلاحات کی روداد ہے. کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں وفاق اور پنجاب حکومت کے مختلف منصوبوں اور اصلاحات کی ضروری تفصیلات کے ساتھ ساتھ انکی افادیت و اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے. کتاب میں سی پیک منصوبہ، بھکھی پاور پلانٹ، ساہیوال کول پاور پلانٹ، خادم پنجاب سکول پروگرامز، میٹرو بسز منصوبے، اورنج لائن ٹرین منصوبہ، پنجاب موٹر بائیک ایمبولینس سروس، پنجاب سیف سٹی منصوبہ، صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے، پکیاں سڑکاں، سوکھے پینڈے، پاکستان کڈنی اینڈ لیور سنٹر، گریٹر اقبال پارک، چیف منسٹر سکالر شپ پروگرام، چائنہ اور ترکی لینگویج پروگرام، آن لائن وہیکل رجسٹریشن کی سہولت، اجالا پروگرام، ہنر مند افراد کے لئے بلا سود قرضہ سکیم، لیپ ٹاپ سکیم، ہیپاٹائٹس فری پاکستان، سپیڈو بس سروس، کسان پیکجز، ای روزگار ٹریننگ پروگرام، وزیر اعلی اپنا روزگار سکیم، بلوچستان کے طلبہ و طالبات کے لیے پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈز اور دانش سکول سسٹم جیسے منصوبوں اور پروگرامز پر معلوماتی اور تجزیاتی تحریریں شامل ہیں

176 صفحات پر مشتمل کتاب میں موجودہ حکومت کے ترقیاتی و فلاحی منصوبوں اور پروگرامز پر تحریروں کے علاوہ کچھ اور تحریریں بھی ہیں لیکن ان تحریروں کا محور بھی حکومت کے کارنامے ہی ہیں. کچھ تحریریوں میں حکومت اور شریف خاندان پر ہونے والی تنقید کا مدلل جواب دیا گیا ہے. میرے نزدیک کتاب کی واحد خامی مصنف کی حد سے زیادہ مثبت اور تعمیری اپروچ ہے. اگر وہ حکومتی پراجیکٹس اور پروگرامز کی تعریف کے ساتھ ساتھ ان کا مثبت انداز میں تنقیدی جائزہ بھی لے لیتے تو یہ کتاب قدرے متوازن ہو جاتی.

 کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی کم قیمت ہے کہ پاکستان ادب پبلشرز نے یہ کتاب no profit, no loss کی پالیسی کے تحت چھاپی ہے. کتاب کی پرنٹڈ قیمت صرف 300 روپے ہے اور اگر کتاب گھر اس پر 30 فیصد بھی ڈسکاؤنٹ دیں تو یہ 200 روپے میں مل سکتی ہے. لاہور میں بک ہوم، کتاب سرائے اور ادارہ مطالعہ تاریخ، ملتان میں نیشنل بک فاؤنڈیشن، فیصل آباد میں مثالی کتاب گھر اور کراچی میں رنگِ ادب پبلیکیشنز سے یہ کتاب حاصل کی جا سکتی ہے. گھر بیٹھے کتاب منگوانے کے لئے ان نمبروں پر رابطہ کریں
04237245072
0619201281
03217830996
03452610434
پاکستان ادب پبلشرز سے براہ راست منگوانے کے لئے اس نمبر پر رابطہ کریں. 03339838177


مکمل تحریر >>

Thursday, 4 January 2018

Presenting my Book ...وعدوں سے تکمیل تک... to Chairman of the Steering Committee for LOMT.

Presenting my Book ...وعدوں سے تکمیل تک... to Chairman of the Steering Committee for Lahore Orange Line Train Khaja Ahmad Hassan..He is really very nice and distinguished personality. it was wonderful meeting. Delegation of Pakistan Cable Association and Vice President APWA Column Writer MM Ali was there.

خواجہ احمد حسان نے مصنف کے کام کی تعریف کی اور کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اور امید ظاہر کی کہ مسلم لیگ ن پاکستان کے عوام کی خدمت کرتی رہے گی اور ملک کی تقدیر بدل دے گی۔





مکمل تحریر >>

Monday, 1 January 2018

وعدوں سے تکمیل تک۔۔۔۔ نام اور کام میں فرق-نجم ولی خان



نام اور کام میں فرق

تحریر و تبصرہ ۔۔ نجم ولی خان
 صحافی، کالم نگار، اینکر پرسن


جناب محمد طاہر تبسم درانی کی تحریروں کا مجموعہ’’وعدوں سے تکمیل تک‘‘ میرے سامنے موجود ہے جس میں موجودہ حکومت کے مختلف منصوبوں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ جب ہم ’’ صحافت‘‘ کی عمومی تعریف اور پہچان کی طرف جاتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ صحافت صرف تنقید کرنے اور دوسروں کی عزتیں پاما ل کرنے کا نام ہے۔ صحافی ایک مکھی کی طرح ہے جس کا کام ہی زخم اور گندگی کو ڈھونڈنا اور پھر اس پر منڈلاتے رہنا ہے ۔مگر پا کستان جیسے ترقی پذیر اور نیم جمہوری معاشرے میں ترقی اور جمہوریت کی حمایت ایک جہاد سے کم نہیں ہے اور یہی عظیم اور مقدس لڑائی محمد طاہر تبسم درانی نے اپنے قلم سے لڑی ہے۔ ہمارے بہت سارے مہربان اپنے قلم اور کیمرے کو آئین، جمہوریت اور ملکی ترقی پر حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ان کے ہاں یہی قلم ان تینوں کے دفاع اور حفاظت کے لیے استعمال ہوا ہے۔
صحافت ملک کے لیے کردار ادا کرنے والوں کو خراج تحسین بھی پیش کرتی ہے یہ کسی صحرا میں بہت محنت سے کھلنے والے پھولوں کی خوبصورتی اور رات کی سیاہ گھپ اندھیرے میں چمکنے والے ستاروں کو سراہنے کا بھی نام ہے۔صحافت کبھی نا انصافی نہیں کرتی جب اس کا ایک پلڑا بہت ہی جھکا ہوا ہے اور ’’وعدوں سے تکمیل تک ‘‘ کی صورت میں یہ تصنیف اس ترازو کے دوسرے پلڑے کو متوازن کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ 
یہ بات مان لینی چاہیے کہ کہیں اسٹبلشمنٹ کے کچھ مہروں کی دیدہ و نادیدہ سرپرستی ہوتی ہے اور کہیں خود نمائی کابڑھتا ہوا شو ق کہ سیاستدانوں کی کردار کشی کو رواج بنا لیا گیا ہے اور اس میں ہمارے بعض سیاستدانوں نے بھی غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔
وہ سیاست کے درخت کی اس ٹہنی کو کاٹ رہے ہیں جس پر خود بیٹھے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں عمومی طور پر سمجھا جا تا ہے کہ حکمرانوں اور سیاستدانوں پر تنقید ہی آپ کہ عوامی اور مقبول لکھاری بناتی ہے مگر یہ تصور کافی حد تک ناکارہ اور غلط ثابت ہو چکا ہے یہ تصور قائم ہی اس بنیاد پر ہوا تھا کہ عوام محرومیوں کا شکار ہیں اور ان کی محرومیوں کے خلاف آواز بلند کرناہی مقبول ترین صحافت کی دلیل ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوامی محرومیوں کا ازالہ ہو رہا ہے ایک آئینی، سیاسی اور جمہوری دور عوامی خدمت کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے مدت پوری کر رہا ہو، انفراسٹکچر، صحت، تعلیم، کھیل، صاف پانی، بجلی کے کارخانوں کے منصوبوں سمیت بے شمار شعبوں میں تاریخ ساز کام ہو رہے ہوں تو ایسے میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ہی ملک و قوم کی حقیقی خدمت ہے۔ یہ مجموعہ ہمیں بتا رہا ہے کسی بھی محب وطن پاکستانی کا قلم اپنے وطن کی تعمیر، ترقی اور مضبوطی پر اسے سراہے بغیر نہیں رہ سکتا،
محمد طاہر تبسم نے جتنے بھی منصوبوں کی بات کی ہے وہ محض خیالی اور کتابی نہیں بلکہ یہ تمام منصوبے پنجاب سمیت ملک بھر میں پھیلے ہوئے اپنے وجود کا احساس دلا رہے ہیںیہ تصنیف ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے ووٹ کاحق ان کے لیے استعمال کریں جو ہمارے مسائل کو حل کر رہے ہیں، ہم اپنے اس ووٹ کو ان کے لیے احتساب کی صورت بھی بنا دیں جو ہمارے محض کھوکھلے دعوے کرتے اور بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں۔جنہوں نے سی پیک سمیت ترقی کے مختلف منصوبوں کا راستہ روکا اور جمہوریت کی راہ کو بھی کھوٹا کرنے کی کوشش کی ہے۔پاکستان کے عوام ایک حقیقی اور موثر تبدیلی کے خواہاں ہیں اور ہمیں اس تبدیلی کی ایک مکمل اور بھر پور گواہی اس کتاب میں ملتی ہے۔ اللہ کرے کہ ہم جو خواب دیکھ رہے وہ شرمندہ تعبیر ہوں اور ہم ایک آئینی، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے مطمئن شہری ہوں۔
نجم ولی خان۔
( صحافی، کالم نگار، اینکر پرسن)
مکمل تحریر >>

Sunday, 31 December 2017

’’وعدوں سے تکمیل تک ،کے شاہکار کارنامے ‘‘ مجید احمد جائی کیا کہتے ہیں


’’وعدوں سے تکمیل تک ،کے شاہکار کارنامے ‘‘

تحریر و تبصرہ: مجیداحمد جائی ،ملتان شریف
خواب کون نہیں دیکھتا ،ہر فرد جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتا ہے اور سوتے ہوئے بھی ،لیکن خوابوں کی تکمیل اُن لوگوں کی ہوتی ہے جو خوب محنت اور لگن سے ہمہ تن جدوجہد کرتے رہتے ہیں ۔اِسی طرح وعدوں کی تکمیل ہے ۔وعد ہ کروتو وفا کرو،وعدے پورے کرنے کے بارے میں احادیث موجود ہیں لیکن میرے جیسے کم فہم لوگ کہتے ہیں بلکہ اکثریت یہی کہتی ہے ’’وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے ‘‘ان کے لیے خوش خبری ہے کہ وہ جان لیں کہ وہ غلط ہیں ۔
انسان جو وعدہ کرتا ہے اُس کی تکمیل کے لیے پوری پوری جدوجہد کرتا ہے لیکن دُشمن عناصر راستوں میں دشواریاں ضرور پیدا کرتے ہیں اور اپنے اندر کے حسد کو باہر نکالتے ہیں ۔میں نے حسد کرنے والوں کی عاقبت خراب ہی دیکھی ہے ۔
وعدوں کی بات چل نکلی ہے تو ’’وعدوں سے تکمیل تک ‘‘محمد طاہر تبسم درانی کی کتاب ،میرے دل و دماغ کی اسکرین پر آ جاتی ہے ۔میں محمد طاہر تبسم درانی کو ادبی دوست کی حیثیت سے جانتا ہوں ،جن کا رشتہ قلم اور کتاب سے ہے وہ میرے یار ،دوست ہیں ۔یہ بھی سچ ہے کہ کتابوں سے زندگی بدل جاتی ہے ۔ قیصر عباس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’’اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ کتابوں سے زندگی نہیں بدلتی تو یہ جان کے خوش ہو جائیے کہ آپ غلط ہیں ،‘‘
میں کہتا ہوں آپ چاہتے ہیں کہ ’’ہم ہمیشہ زندہ رہیں تو کتاب پڑھا کریں ،کتا ب لکھا کریں ۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا لاکھ شکر گزار ہوں کہ اُس ذات نے مجھے کتب بینی کی طرف راغب کر رکھاہے ،جب تک کسی کتاب کا کچھ حصہ نہ پڑھ لوں نیند نہیں آتی ہے ۔اگر یہ بیماری ہے تو بھی مجھے قبول اور بے حد عزیز ہے ۔لوگ نیند کی گولیاں لے کر نیند کی وادی میں جاتے ہیں اور میں کتنا خوش قسمت ہوں کہ میں کتاب پڑھ کر سوتا ہوں۔اور پُر سکون سوتا ہوں۔
تاریخ گواہ ہے قوموں کی ترقی کا راز کتابوں میں پنہاں ہے ۔کوئی ملک کسی حریف پر حملہ کرتا ہے تو اُس کا پہلا حدف لائبریوں کو ختم کرنا ہوتا ہے ،اس ملک ،اُس قوم کو ترقی نہ کرنے دی جائے ۔یعنی کتاب سے دُوری ترقی سے دُوری۔
آپ چاہتے ہیں کہ شعور کی بلندیوں پر پہنچ جائیں ،ترقی کر جائیں ،اچھے انسان بن جائیں تو میرا مشورہ ہے کتاب پڑھا کریں ۔چند دن قبل میرے پاس بھی ’’وعدوں سے تکمیل تک‘‘کتاب پہنچی،جی ہاں یہ کتاب کا نام ہے جس کے لکھاری ،میرے پیارے شفیق دوست،بھائی ’’محمد طاہر تبسم درانی‘‘ہیں ۔آپ اِسے جانتے ہوں گے لیکن میں ’’وعدوں سے تکمیل تک ‘‘سے پہلے انہیں نہیں جانتا تھا ،مطلب ان کے چھپے فن سے واقف نہیں تھا۔
’’وعدوں سے تکمیل تک ‘‘‘‘جب ورق ،ورق،لفظ ،لفظ پڑھ چکا توحقیت،بلکہ ’’محمد طاہر تبسم درانی ‘‘کی مکمل شخصیت کھل کر سامنے آجاتی ہے ۔یہ کتاب وعدے کراتی ہے ،وعدے نبھاتی ہے ،وعدوں کی تکمیل کی طرف لے کر جاتی ہے ۔سرورق بہت پیارا ڈئزائن کیا گیا ہے ۔بیک فلاپ پر موجودہ حکومت ،موجودہ وعدوں کی تکمیل کی تصویری جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔
’’وعدوں سے تکمیل تک‘‘کی سیر کرنے نکلیں تو 176صفحات پر مشتمل پیاری اور معیاری کتاب ہے ۔جسے میرے ادبی دوست اور پاکستان ادب و پبلشر کے روح رواں محمد سمیع اللہ نے نہایت خوبصورتی اور محنت کے ساتھ شائع کیا ہے ۔خوش کن بات یہ ہے کہ اس ادارے کی پالیسی بہت پیاری ہے اوران کا وعدہ جو باخوبی نبھایا جا رہا ہے ۔’’No Profit,No Loss‘‘اس ادارہ سے ہر آنے والی کتاب مجھے اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ۔اپنا گرویدہ بناتی ہے ۔
’’وعدوں سے تکمیل تک ‘‘،سفید ،موٹے پیپر پر اپنے رنگوں کی کہکشاں سجائے ہوئے ہے ۔جس کی کمپوزنگ صفیہ خاتون نے کی ہے اور حرف بینی کے فرائض ’’احمد علی کیف‘‘نے نبھائے ہیں ۔لیکن مجھے احمد علی کیف سے شکوہ ہے کہ اُنہوں نے پروف بالکل بھی نہیں کیا ،ہاں ہو سکتا ہے اس کتاب کی پروف ریڈنگ سوتے میں کی گئی ہو۔ہر تحریرمیں چھ،دس کے کلیہ سے غلطیاں موجود ہیں جو پڑھتے ہوئے چاشنی کو کرکرا کر دیتی ہیں ۔فرض معاف نہیں ہیں اور اس کے بارے پوچھ گچھ ضرور کی جائے گی ۔موصوف نے اگر ذمہ داری لی تھی تو نبھاتے بھی ۔۔۔۔۔
’’وعدوں سے تکمیل تک ،‘‘دسمبر2017میں شائع کی گئی ہے جس کی نہایت اور مناسب قیمت 300روپے رکھی گئی ہے ۔میں محمد طاہر تبسم درانی کا نہایت شکر گزار ہوں کہ اُنہوں نے خلوص ،محبت و چاہت کے ساتھ تحفتاً ارسال کی ہے ۔یہ کتاب کہاں کہاں سے دستیاب ہو سکتی ہے صفحہ نمبر 6پر تفصیل موجود ہے ۔
’’نام اور کام کا فرق‘‘کے عنوان سے نجم ولی خان لکھتے ہیں ’’صحافی ایک مکھی کی طرح ہے جس کا کام ہی زخم اور گندگی کو ڈھونڈنا اور پھر اس پر منڈلاتے رہنا ہے ‘‘جانے کس غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔خود صحافی ہو کر منفی سوچ رکھتے ہیں ،صحافی مکھی کی طرح ہی کیوں،صحافی گلشن کا پھول کیوں نہیں ۔؟صحافی پھو ل کی طرح ،شگفتہ ،نرم دل اور حساس ہوتا ہے ۔جو مسلنے والے ہاتھوں میں بھی خوشبو چھوڑ جاتا ہے ۔مکھی تو زخم پر بیٹھ جائے تو اُس کو ناسور بنا دیتی ہے لیکن صحافی زخموں کا مداوا کر تا ہے ،کراتا ہے ،ناسور نہیں بننے دیتا۔صحافی انصاف دلاتا ہے ،صحافی گندگی کو ڈھوننے کی بجائے ،گندگی کو ختم کرانے کی کوشش کرتا رہتا ہے ۔صحافی زخموں پر مرہم لگاتا ہے ،منڈلاتا نہیں۔
’’سچ لکھنے کی طاقت‘‘ کے عنوان سے شہزاد چوہدری کہتے ہیں ،طاہر درانی کی تحریر میں تابانی بھی ہے اور روانی بھی ہے اس کا انداز فکر مثبت ہے ،آپ سچ کہتے ہیں ۔
’’وعدوں کی تکمیل‘‘ کے عنوان سے میاں شہاز(پروف کی غلطی )۔۔۔۔میاں شہباز غوث مشیر وزیراعلی پنجاب کہتے ہیں اچھائی کے راستے میں رکاوٹیں ضرور آتی ہیں مگر جو صبر اور استقامت کے ساتھ ان رکاوٹوں کو عبور کر جاتے ہیں وہی کامیاب کہلاتے ہیں ۔اسی لیے تو کہتے ہیں صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے ۔
’’محمد طاہر تبسم دارنی میری طرح بزدل نہیں‘‘ میں گل نو خیز اختر لکھتے ہیں ’’سب سے بڑی بات یہ کہ ریگولر لکھتے ہیں ورنہ عموماًکالم نگار بیس پچیس کالموں کے بعد ہاپننے لگتے ہیں ،گل نو خیز اختر کو چاہے کہ جو ہاپننے لگتے ہیںیا لکھنا چھوڑ جاتے ہیں ان کی وجہ بھی جاننے کی کوشش کریں ۔آخر کیا محرکات ہیں جو اُنہوں نے قلم سے رشتہ توڑ دیا ۔۔۔۔کہیں واسطہ یا بالواسطہ اس میں ہم تو ملوث نہیں ،،سوچ طلب بات ہے ۔
’’سچائی کا نقیب‘‘،وقار عظیم نے عمدہ رائے سے نوازہ ہے اورمیرے پیارے ہر دل عزیز فرخ شہباز وڑائچ دلچسپی سے کہانی سناتے ہوئے کہانی بنا بھی دیتے ہیں ۔بڑی گہری اور سچی باتیں کر تے ہیں۔
’’ویلڈر سے رائٹر تک‘‘ ،لکھاری کا کچھ مکمل اور کچھ نامکمل تعارف ہے ۔اس کی زندگی میں کیا کیا نشیب و فراز آئے ،کتنے طوفانوں کا رُخ موڑا،کن کن مشکلات سے ٹکرائے ۔سب اس میں ملے گا ۔لیکن ان طوفانوں ،مشکلات ،مصبیتوں میں ہمت،حوصلے ،صبر سے کیسے مقابلہ کرتے ہیں ،یہی تحریر سیکھاتی بھی ہے ۔کامیاب وہی ہوتے ہیں جو مشکلات کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔جو صراط والے راستے پر گامزن رہتے ہیں ۔
’’محمد طاہر تبسم درانی‘‘ کی کہانی مجھ سے ملتی جلتی ہے جیسے انہوں نے فیکٹریوں میں خود کو تراشا،تلاش کیا ،خود کو ہیرا بنایا،کچھ اسی طرح میں بھی حالات سے نبردآزما ہوں ۔طاہر تبسم درانی آخر میں کہانی کو گول کرکے جلدی ختم کردیتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ کہانی تو ابھی باقی ہے ۔’’اظہار تشکر‘‘ میں رشتے داروں کے علاوہ درجنوں اپنے دوستوں کے نام گنواتے ہیں ۔ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ،ان کے بے حد مشکور ہیں ۔
’’وعدوں سے تکمیل تک ‘‘’’موجودہ حکومت‘‘یعنی مسلم لیگ نون کے وعدوں اور ان کی تکمیل پر لکھی گئی ہے ۔وعدوں سے تکمیل تک معلومات فراہم کرتی عمدہ کتاب ہے ۔مسلم لیگ نون کا پس منظر ایک کتاب سے مدد لے کر مختصر بیان کیا گیا ہے ۔جس میں تشنگی باقی رہ گئی ہے ۔زیادہ ترذکر میاں محمد نواز شریف کا کیا گیا ہے اور ان کے وعدوں کے حوالے سے بات کی گئی ہے ۔کہیں اس کو موجود ہ دور کا شیر شاہُ سوری کہا گیا ہے تو کہیں کچھ ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس حکومت نے سب سے اہم اور ضروری کام کیے ہیں ۔
خامیاں کس میں نہیں ہے ۔وہ انسان ہی کیا جو غلطی نہ کرے ۔غلطیاں سر زد ہوتی ہیں اور جو غلطیوں سے سُدھار کی طرف آئے وہ کامیاب رہتا ہے ۔اور جو غلطیوں کی ٹوہ میں لگ جائے وہ خود کو برباد کرتا ہے ۔دُشمن بھی ہر شخص کے ہوتے ہیں اور موجودہ حکومت کے دوست نما دُشمن تو بے شمار ہوں گے ،جو اپنے ہتھکنڈیوں سے ماحول کو آلودہ کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں ۔جو کچھ نہیں کرتے وہ انسانوں کو لڑاتے ہیں ،ان میں نفرتیں پھیلاتے ہیں اور جونفرت کی فضا ء پیدا کرتے ہیں ،ان سے محبت بھلا کون کرے گا۔؟
مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف اور خادم اعلیٰ محمد شہباز شریف نے واقعی لوگوں کے دِلوں میں گھر کر لیا ہے ۔پنیسٹھ تحریریں ،یعنی 65وعدوں کی بات کرتی ’’وعدوں سے تکمیل تک پڑھنے والی خوبصورت کتاب ہے ۔جس میں چند ایک مقام پر بات کو بار بار دُہرایا گیا ہے ۔وعدوں سے تکمیل تک کی مکمل بات کی جائے تو بہت اچھی کتاب ہے ۔اس میں خامیاں کم اور اچھائیاں زیادہ ہیں ۔اُمید ہے محمد طاہر تبسم درانی صاحب یونہی مثبت سوچ کو لے کر لکھتے رہیں گے۔۔میں ان کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اُنہوں نے جامع اور معلوماتی کتاب لکھ کر ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے ۔وعدوں سے تکمیل تک کو ہر لائبریری کی زنیت بننا چاہے تاکہ اس پاک وطن کا ہر طالب علم اس سے افادہ حاصل کر سکے ۔یہ طلبہ کے لیے بہت ہی اچھی کتاب ہے ۔طالب علموں کو اس سے ضرور بہ ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

مکمل تحریر >>

Friday, 29 December 2017

Presenting My Book to Mr Mehr Ijaz Ahmad Achlana Provincial Minister for Disaster Management

Presenting My Book,  to Mr Mehr Ijaz Ahmad Achlana Provincial Minister for Disaster Management

وعدوں سے تکمیل تک






مکمل تحریر >>

Thursday, 28 December 2017

Presenting My Book to Press Secretary to Chief Minister Shahbaz Sharif Mr Shoaib Bin Aziz

اپنی کتاب وعدوں سے تکمیل تک ۔۔ شعیب بن عزیز ۔پریس سیکرٹری ٹو چیف منسٹر پنجاب کو پیش کرتے ہوئے


مکمل تحریر >>

طاہرتبسم درانی اپنی کتاب ۔۔۔وعدوں سے تکمیل تک۔۔ سینئر صحافی جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کو پیش کرتے ہوئے


طاہرتبسم درانی اپنی کتاب ۔۔۔وعدوں سے تکمیل تک۔۔ سینئر صحافی چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان جناب مجیب الرحمن شامی صاحب کو پیش کرتے ہوئے، سینئر صحافی نے نوجوان صحافی طاہر درانی کو مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

مکمل تحریر >>

Wednesday, 27 December 2017

عطا ء الحق قاسمی پروفیسر آف اُردو لٹریچر By M Tahir Tabassum Durrani



عطا ء الحق قاسمی پروفیسر آف اُردو لٹریچر

وہ ایک شخص کہ منزل بھی راستا بھی ہے
وہی دعا بھی وہی حاصل دعا بھی ہے ! عطاء

عطاء الحق قاسمی سے کو ن واقف نہیں ، وہ استاد بھی ہیں ، سفارتکار بھی ہیں ،مزاح نگار بھی ہیں ،کالمنگار 
بھی ہیں اُ رد و ادب کے ماہر بھی ۔ اُردو ادب میں وہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں ان کا نام ہی ان کی پہچان ہے اور سب سے بڑی بات وہ استاد ہیں کیوں کہ استا د کا رتبہ سب سے اعلیٰ و اکبر ہے ۔ وہ قومیں جو استاد کی عزت اور احترام نہیں کرتیں کبھی کامیابی کی منزلوں کو نہیں چھو سکتیں ۔استاد ہی کی وجہ سے انسان نے آسمان کی بلندیوں کو چھوا۔اسلام میں بھی استاد کا بہت ادب اور مقام ہے استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا ہے ،مولا علی شیر خدا کا فرمان ہے ’’جس شخص سے میں نے ایک لفظ بھی پڑھا میں اس کا غلام ہوں،چاہے وہ مجھے بیچ دے یا آزاد کردے‘‘۔ اتنی بڑ ی ہستی کے اس فرمان سے ہمیں استاد کی عزت و احترام و مرتبے کا خوب اندازہ ہو جاتا ہے کہ استاد کا کتنا مقام ہے ۔آقا کریمﷺ نے خود کو معلم کہا اور صحابہ کرام رضوان اللہ آپ ﷺ کے شاگرد آپ کا کتنا احترام کرتے تھے ، استاد کی عزت اور قدر کرنے والوں میں حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان ہی دیکھ لیں جنہوں نے اپنے استاد کی عزت کی خاطر خود کو تکلیفوں میں رکھا اور پھر آج وہ کس مقام و مرتبے پر فائض ہیں ۔
ہارون الرشید خلیفہ وقت نے ایک بار امام مالک سے درخواست کی کہ مجھے حدیث پڑھا دیا کریں جس پر امام مالک فرماتے ہیں ’’علم کے پاس لوگ آتے ہیں ، علم لوگوں کے پاس نہیں جایا کرتا،تم کچھ سیکھنا چاہتے ہوتو میرے حلقہ درس میں آسکتے ہو‘‘
عطا ء الحق قاسمی پاکستان کا فخر ہیں انہوں نے اُردو ادب کی اشاعت و تبلیغ میں گراں خدمات پیش کی ہیں ، انہیں گورنمٹ آف پاکستان نے 1991ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس کے ایوارڈ سے نواز ہ اور اس وقت کے صدر نے یہ ایوارڈ پیش کیا، ان کی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں ستارہ امتیاز سے نوازہ گیا، 2014ء میں ان کی عزت افزائی میں ہلالِ امتیاز ایوارڈ صدر پاکستان جناب ممنوں حسین نے پیش کیا۔ ایسے لوگ کم ہی پیدا ہوتے ہیں قاسمی صاحب کی اردو ادب کے لیے خدمات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے لیکن افسوس کچھ کم ظرف ان پر بہتان لگا کر اپنی دکان چمکانا چاہتے ہیں کچھ نااہل اور بے ادب لوگ جن کا ادب سے کوسوں واسطہ نہیں اور سستی شہرت کی خاطر ان کی شخصیت پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں ان کو پہلے اپنے گریبانوں میں دیکھنا چاہیے یہ وہ لوگ ہیں جن کے اپنے دامن کیچڑ سے بھرے ہوئے ہیں اور ایسے شفیق انسان ،خوش گفتاراور حلیم انسان پر بہتان اندازی کر رہے ہیں
قاسمی صاحب بھارت کے شہر امرتسر میں جب پاکستان ابھی آزاد نہیں ہوا تھا 1943ء میں پیدا ہوئے ان کے والد محترم ایک مذہبی شخص تھے جن کے نام مولانا بہاوالحق قاسمی امرتسر میں ایک معلم تھے ۔ پاکستان بننے کی بعد قاسمی صاحب کے والد پاکستان ہجر ت کرکے پنجاب کی شہر وزیر آباد میں آباد ہوئے جبکہ کہ بعد میں لاہو ر میں سکونت اختیار کی جہاں قاسمی صاحب نے اپنی ابتدا ئی تعلیم مکمل کی ۔ایم اے او کالج لاہور سے انہوں نے بی اے کی ڈگری مکمل کی ، اس کے بعد انہوں نے پاکستان کے معروف اردو اخبار میں بطور سب ایڈیٹر نوکری شروع کی اس اخبار کے ایڈیٹر جناب مجید نظامی صاحب تھے ۔ کچھ عرصہ بعد قاسمی صاحب نے بطور کالمنگار روزنامہ جنگ میں لکھنا شروع کردیا۔ ان کے لکھنے کا انداز دوسرے کالمنگاروں سے مختلف تھا آپ نے عوام کے سنجیدہ مسائل کو مزاحیہ انداز میں بیان کر کے لوگوں کی توجہ حاصل کی اور مسلہ ارباب اختیار تک پہنچایا ، ان کا انداز بیان دھیمہ اور پر لطف ، اور مزاح مزاح میں دل کی بات کر دینے والا ۔ 1997 تے 1999ء تک وہ ناروے اور تھائی لینڈ کے سفیر کے طور پر بھی اپنی خدمات پیش کر چکے ہیں ۔ ان کے بے شمار کتابیں مارکیٹ اور اہل علم و دانش کی لائبریریوں کی زینت بن چکی ہیں، ہنسنا منع ہے، مزید گنجے فرشتے ، عطایئے ،شوقِ آوارگی اورگوروں کے دیس میں نے قارئین بہت مقبولیت حاصل کی اس کے بعد روزن دیوار سے ، دنیا خوبصور ت ہے ، جرم ظریفی، ملاقاتیں ادھوری ہیں، 1991ء میں دلی دور است اور ایسی بے شمار تصانیف ہیں جو ان کے مزاح اور لکھنے کی ترجمانی کرتی ہیں ان کے ٹی وی ڈرامے اپنی شناخت خود رکھتے ہیں ان کے مشہور ڈرامہ جات ’’خواجہ اینڈ سن، شب دیگ اور شیدا ٹلی نے شہرت کے جھنڈے گارھے ۔شاعری میں بھی قاسمی صاحب کا کوئی ہم پلہ نہیں انہوں نے اپنی منفرد شاعری سے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائی ۔
قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز کو یاد کرتی ہیں ، ان کے کارناموں کو یاد کرتے ہوئے خیراج تحسین پیش کرتی ہیں ،لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا
پڑتا ہے ہمارے معاشرے میں ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کی روش نے ہمیں ایک دوسرے کی احترام اور عزت کو بھی بھلا دیا ہے ۔ہم قدر نا قدرے اور خود غرض ہو چکے ہیں کہ ہمیں استاد کی عزت کرنا بھی نہیں آتی ، ہم اکثر ہمسایہ ملک کی نقل کرتے ہیں لیکن وہ تو اپنے فلمی ہیروز کو بھی اتنی عزت دیتے ہیں کہ تاریخ میں ایسی نظیر نہیں ملتی ادھر ہم وہ ہیں جو صرف چڑھتے سورج کے پجاری ہیں جب قاسمی صاحب برسر اقتدار تھے تو کسی کی جرت نہ تھی ان کی بارے ایک لفظ بھی نکا ل سکے لیکن جیسے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا مخالفین نے بغلیں بجانا شروع کر دیں۔لیکن آخر میں ایک بات ضرور کروں گا، یہ مقافات عمل ہے ، جو کرو گے وہ بھرو گے آج اگر ہم اپنے سینئرز کی عزت نہیں کریں گے اپنے بڑوں کے ساتھ شفقت اور احترام سے پیش نہیں آئیں گے تو آنے والا کل ہمارے ساتھ بھی یہی ہونے جا رہا ہے بس وقت کا انتظار کریں۔



مکمل تحریر >>