Monday, 4 June 2018

Nishan E Haider and Story of Major M Shabir Shareef Shaheed by M Tahir Tabassum Durrani




از قلم ۔محمد طاہر تبسم درانی

سلسلہ وار نشانِ حیدر کی پانچویں قسط

28 سال کی عمر میں پاک فوج کاسب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر پانے والے پانچویں عظیم انسان قومی ہیرو میجرشبیر شریف کی یاد میں تحریر
شہید کی جو موت ہے ، وہ قوم کی حیات ہے 
شاعر نے سمند ر کو کس خوبصورت انداز سے کوزے میں بند کیا ہے اگر اس شعر کی گہرائی میں جائیں تو اس شعر کی حقیقت معلوم ہو گی کہ وہ کون ساجذبہ ہوتا ہے وہ کون جوان ہوتے ہیں جو اپنی خوبصورت زندگیوں کو ملک و ملت کی بقا ء اور حُرمت پر قربان کر دیتے ہیں اور ان کی اس عظیم قربانی سے قوم امن اور سکون کی زندگی بسر کرتی ہے ،اس میں زرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں کہ پاک فوج کی جوان اپنی بہادری اور جرت کی وجہ سے پور ی دنیا میں اپنا ایک الگ مقام اور حیثیت رکھتے ہیں جذبہ شہادت دوسرے ممالک کی افواج سے پاک فوج کو ممتا ز کرتاہے ان بہاد ر اور نڈر فوجی جوانوں کی وجہ سے قوم کو زندگی ملتی ہے ۔
موت ایک مسلمہ حقیقت ہے جس نے ایک نہ ایک دن ضرور آنا ہے ۔ یہ نہ جوانی دیکھتی ہے نہ بڑھاپا ۔ یہ نہ صحت دیکھتی ہے نہ بیماری نہ ہی جاہ و جلال اور نہ ہی مرتبہ۔اور وہی لوگ زندہ و جاوید کہلاتے ہیں جو اپنی زندگی کو اللہ کی راہ میں اور ملک و قوم کی عزت و بقاء پر قربان کر دیتے ہیں اور جنت میں اعلیٰ مقام حاصل کرتے ہیں۔کبھی ہم نے سوچا جب سخت سردی کے موسم میں ہم گرم بستر کے مزے لُوٹ رہے ہوتے ہیں ہمارے یہ جوان بائیس ہزار فٹ کی بلندی پر سیاچین کے گلیشئر پر جہاں سردی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ خون رگوں میں منجمد ہو جاتا ہے ، جب سخت گرمی میں ہم اپنی بیوی بچوں کے ساتھ مل کر ائر کنڈیشنز میں مزے لے رہے ہوتے ہیں یہ فوجی جوان سرحدوں پر اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ہوتے ہیں ۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے والا جوان تنخواہ لینے کی غرض سے شمولیت اختیار نہیں کرتا بلکہ اُ س کے اندر ایک جذبہ ہوتاہے کہ وہ اپنے ملک کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شہید کہلائے گا اورجنت میں اعلیٰ مقام حاصل کرے گا۔ حالا نکہ دنیاوی زندگی کی بارے وہ جانتا ہے کہ اپنا کاروبار شروع کر کے مزے کی آزادانہ زندگی بھی گذار سکتا ہے ، وہ یہ بھی جانتا ہے سیاست میں اپنا نام کما سکتا ہے اور بعد میں اپنی نسل کو بھی سیاسی مقام دلا کر عیش و عشرت کی زندگی گذار سکتا ہے اُسے یہ بھی معلوم ہے کہ یورپ کا ویزہ لگا کر عیاشی کی زندگی بسر کر سکتا ہے لیکن ایک جذبہ جو اسے پاک فوج میں شامل ہونے پر مجبور کرتاہے وہ ہے زندہ رہا تو غازی اور اگر ملک و قوم کی بقاء کے لیے لڑتے لڑتے مارا گیا تو شہید کا رتبہ ملے گا۔شہید کے بارے قرآن پاک میں اللہ کریم کا ارشاد پاک ہے جس سے شہید کے رتبے کی اہمیت واضح ہو تی ہے ۔۔سورۃحج آیت نمبر۵۸ ترجمہ’’ اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور پھر قتل ہوگئے ،یا انہیں موت آگئی،تو یقیناًانہیں اللہ کریم بہترین رزق عطا کریں گے کہ بے شک وہ بہتر رزق دینے والاہے ‘‘
پاکستان کی معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اسے ختم کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور وہ کسی نہ کسی صورت میں نقصان پہنچانے میں کوئی نہ کوئی حربہ اختیار کرتا رہتا ہے لیکن ہمیشہ ناکامی اس کا مقدر بنتی ہے ۔ پاکستانی فوجی جوان بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کرتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں اپنی فوج پر مکمل بھروسہ اور اعتماد ہے کہ وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اور ماضی میں بھی ملتی ہے ۔قوموں/ ملکوں کی تاریخ میں کبھی کچھ ایسے دن بھی آجاتے ہیں جو بڑی بڑی قربانی مانگتے ہیں۔ماؤں سے ان کی لخت جگر ، بوڑھے باپ سے اُس کا چشم و چراغ، بیوی سے اُس کا سہاگ، بیٹی سے اُس کے باپ کا مطالبہ کرتے ہیں۔پھر قربانی کی داستانیں رقم ہوتی ہیں۔ کچھ جام شہادت نوش کر کے ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سُرخرو ہوتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ اللہ نے ہمیں مسلمان پیدا کیاہمیں شہادت ملے یا غازی دونوں پر ہی فخر ہے ۔ 
6 ستمبر 1965ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا دن ہے جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔اِن کاخیال تھا کہ وہ پاکستان پر حملہ کرکے اسے کمزور کر دیں گے۔ ان کے جرنیلوں کا خیال تھا کہ وہ راتوں رات پاکستان کی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور لاہور ناشتہ کریں گے۔ لیکن انہیں پاکستانی فوجی جوانوں کے جذبے مہارت اور پاکستانی قوم کا درست اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس غیور اور نڈر بہادر سپوتوں کے ساتھ لڑائی کرنے جا رہے ہیں ۔ وہ جذبہ وہ جرت قابل رشک تھی جب افواج پاکستان اور عوام نے مل کر دشمن کا مقابلہ کیا اور سیسہ پلائی دیوار بن کر حملے روکے اور ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ جسموں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ۔
بھارتی فوج نے 17 دنوں میں 13 بڑے حملے کیے لیکن لاہور ناشتہ کرنے کا خواب وہ پورا نہ کرسکے ۔ پاک فوج کی بہادر جوانوں نے اُن کا منہ توڑ جواب دیاکیوں کہ وہاں قوم کے بہادر سپوت سینہ سپر ہو کر کھڑے تھے ان بہادر جوانوں میں ایک جوان ایسا بھی تھا جس نے صرف 28 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کر کے پاک فوج کا سب سے بڑا فوجی اعزاز اپنے نام کیا میری مراد میجر شبیر شریف ہے ۔میجر شبیر شریف 28 اپریل1943ء کو پاکستان کے ایک شہر گجرات کے ایک قصبہ کنجاہ میں پیدا ہوئے ، ان کا خاندان سپہ گیری میں ایک الگ اور بلند مقام رکھتا ہے۔ میجر شبیر شریف نے لاہور کے سینٹ انتھونی سکول سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور وہ لاہور گورنمنٹ کالج کے بھی طالب علم رہے ۔ پاکستانی فوجی درسگاہ کاکول اور 19 اپریل1964ء میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی اس وقت ان کی عمر21 سال تھی ۔1965ء کی پاک بھارت جنگ میں میجر شبیر شریف کے ماموں میجر عزیز بھٹی نے جام شہاد ت نوش کیا۔ میجر شبیر شریف کم عمر شہید ہیں ۔ آ پ شروع سے ہی وطن عزیز پر مر مٹنے کا جذبہ رکھتے تھے،1965ء پاک بھارت جنگ میں انہوں نے سیکنڈلیفٹینٹ کی حیثیت سے جنگ لڑی اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی جنرل راحیل شریف پاک فوج کے سپہ سالار کے عہدے پر فائض رہے ہیں ۔
1971ء کی پاک بھارت جنگ میں نمایاں کارکردگی دکھانے اور جذبہ حب الوطنی (جب الوطنی کے معنی ہیں کسی شخص کی اپنے ملک اپنی وطن کی ساتھ بے پنا ہ خالص محبت اور اپنے ملک و قوم کی بقاء کے لیے اپنی جان کانذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کرنے کا مطلب ، حب الوطنی کہلاتا ہے)سے سرشار اس نوجوان نے سلیمانکی ہیڈ ورکس پر 3 دسمبر 1971ء کو ملک کی خاطر لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ وہ ایسی بہادری کے ساتھ لڑے کہ تاریخ رقم کر دی ان کی عظیم قربانی اور بہادری کی داستان ہمیشہ یاد رکھی جائے گی انہوں بیک وقت دشمن کی 43 فوجیوں کو جہنم واصل کیا28 فوجیوں کو قیدی بنایا اوردشمن کی 4 ٹینک بھی تباہ کیے اس بہادر شہید کو لاہورکے میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ان کی خدمات کے اعتراف میں پاک فوج کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدردیا گیا۔ ان کی بہادری اور جرت پر ان کو پہلے ستارہ جرت اور اعزازی شمشیر سے بھی نوازا گیا ۔یاد رہے 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں ان کی زیر قیادت 6ایف ایف رجمنٹ نے سلیمانکی ہیڈ ورکس پر بھارتی سورماؤں کو تہس نہس کر دیا۔ دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا اِن کے کئی ٹینک اور فوجیوں کو نقصان پہنچایا۔ اور اسی میدان میں بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نو ش کیا۔
میجر شبیر شریف جیسے جانثار بہادر جوانوں کی بدولت ملک خداداد ہمیشہ پھلتی اور پھولتی رہے گی اور قوم امن اور سلامتی کی زندگی گذارتی رہے گی۔جب تک مائیں ایسی لعل پیدا کرتی رہیں گے دشمن کبھی میلی آنکھ دیکھنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا ۔
ایہہ شیر بہادر غازی نیں۔ایہہ کسے کولوں وی ہردے نیں
اینا دشمناکولوں کی ڈرنا۔ایہہ موت کولوں وی ڈردے نیں


مکمل تحریر >>

Sunday, 20 May 2018

Nishan E Haider and Story of Raja Aziz Bhati Shaheed by M Tahir Tabassum Durrani




مکمل تحریر >>

Thursday, 3 May 2018

Nishan E Haider ........2nd Episode....Major Tofail Shaheed. by M Tahir Tabassum Durrani



میں کھٹکتا ہوں دل کفر میں کانٹے کی طرح

سلسلہ وار نشانِ حیدر کی دوسری قسط


پاک فوج کاسب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر پانے والے دوسرے عظیم انسان میجر طفیل کی یاد میں تحریر
میں جب سر زمینِ پاک پر آزاد گھومتا ہوں، میں جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بے خطر سفر کرتا ہوں، میں جب اونچے اونچے 
پہاڑوں میں سے گذر کر خوبصور ت جھیل کا دلکش نظارہ کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اس ملک کے امن و امان کو بحال رکھنے میں وہ نوجوان جو کم عمری میں اپنی جان کو وطن عزیز کی سالمیت پر قربان کرتے ہیں یہ اُن ہی کی منہون منت ہے جو آج ہم آزادی کی سانسیں لے رہے ہیں جب بھی دشمن نے اس پاک دھرتی کی طرف میلی نظر سے دیکھا میرے وطن کے ان شیر جوانوں نے اسے جہنم واصل کر کے ہی سانس لیا۔
خیبر سے کراچی تک امن کی صورت حال کا سہرہ بھی پاک فوج کے جوانوں کے سر ہے جنہوں نے جاڑے کی سردی اور ٹھٹرتی راتوں میں اپنے سکون کو بالا طاق رکھتے ہوئے قوم کو سکون مہیا کیا،سخت گرمی میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ہمیں پُر سکون ماحول فراہم کیا ۔ کبھی ہم نے سوچا برف باری ہو یا طوفان یہ فوجی جوان بھوکے پیاسے اپنوں سے دُور وطن عزیز کی عزت ، حُرمت اور حظاظت کے لیے چوکس کھڑے رہتے ہیں قوم و وطن کی عزت کے لیے 22 بائیس ہزار فٹ کی بُلندی پر ایک ایک سال پڑے رہتے ہیں اٹھارہ بیس کلو وزنی گَن/ کلاشنکوف تھامے تھکان سے چُور چوُر مگر چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے فرض کی ادائیگی میں مست رہتے ہیں۔اِ ن کے جذبے کو سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں جو اپنے بوڑھے باپ کی کمزور کمر کا سہار ا بننے کی بجائے ملک و قوم کی خاطر بارڈر پر دن رات کھڑا رہنا پسند کرتا ہے جو اپنی بیوی کو بیوہ ہونے اپنے بچوں کو یتیم ہونے کے ڈر سے بے فکر محاذ پر ڈٹے رہتے ہیں۔میں سلام پیش کرتا ہوں پاک فوج کے 
جوانوں کو، پاکستان کی پولیس کو، ائرفورس کی جانبازوں کو تینوں افواج کے سرفروشوں کو، رینجرز کے بہادر سپوتو ں کو ۔واللہ ،آپ کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پوری قوم آپ کے ساتھ ہر لمحہ ہر گھڑی کھڑی ہے ۔
شہید کے رتبے اور مرتبے پر مُسلم اوربُخاری شریف کی حدیث کا ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پیارے آقا کریم حضرت محمد ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ ’’کوئی شخص بھی جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں لوٹنے کے لیے تیار نہ ہوگا، خواہ دنیا میں جو کچھ مال اور اسباب بھی موجو د ہے اسے دے دیا جائے، مگر شہید جنت میں جو عزت اور مقام پائے گا تو وہ مزید تمنا کرے گا کہ دنیا میں لوٹ جائے اور اسی شہادت کا مرتبہ اور مقام حاصل کرے یہ خواہش وہ بار بار کرے گا‘‘۔
شہید کے دو معنی ہوتے ہیں حاضر ہونا، دیکھنا، شریعت کی اصطلاح میں اللہ کریم کی راہ میں مارے جانے والوں کوشہید کہتے ہیں،تدفین کے بعد شہید اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کرتے ہیں کہ مجھے دنیا میں پھر بھیجا جائے تا کہ اللہ کی راہ میں پھر جان کا نذرانہ دینے کی لذت اور سُرور سے لطف اندوز ہو ، جو اس سے پہلے مجھے ملی تھی، وفات کے بعد شہید کو رزق ملتا رہتا ہے اور شہید کا جسم زمین نہیں کھاتی اسلام نے شہید کو جو مقام اور مرتبہ عطا کیا ہے وہ اور کسی کو نصیب نہیں ہوا ،یہ تو بات بحیثیت مسلمان ہم خوب جانتے ہیں کہ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے لیکن شہید کو اللہ جلہ شانہ نے یہ عظیم رتبہ عطا کیا ہے کہ قبر میں اس کا جسم مٹی نہیں کھاتی یہ اللہ کریم کا ایک بڑا معجزہ ہے ۔
سورۃ العمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،’’ اسلام میں بہت کم لوگ شہداء کے مرتبے کے برابر ہیں، وہی شہداء جو سوچ سمجھ کر اور خلوصِ دل کے ساتھ معرکہ حق و باطل میں قدم رکھتے ہیں اور اپنے پاکیزہ خون کے آخری قطرات تک اللہ کی راہ میں نچھاور کر دیتے ہیں۔
آیئے قارئین پاکستان کے دوسرے عظیم انسان جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے پاک فوج کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر کو اپنے نام کیا اس بہادر قومی ہیرو کا نام ہے میجر طفیل ۔

میجر طفیل محمد شہید


طفیل محمد جن کے والد کا نام چوہدری موج دین تھا 22 جولائی 1914ء کو موضع کھرکال ضلع ہوشیار پور (بھارت) پنجاب میں پیدا ہوئے ، گُجر برادری سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان7 اگست 1958 ء بروز جمعرات کو سرزمین وطن کی خاطر بھارتی سورماؤں کو جہنم واصل کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔ ان کی شہادت کشمی پور ضلع کومیلا جو کہ مشرقی پاکستان اور آج بنگلہ دیش کے نام سے جانا جاتا ہے ، پر جان جانِ آفرین کے حوالے کی۔
ان کی عظیم قربانی ، جُرت اور بہادری کے پیش نظر نشانِ حیدر دیا گیا، نشانِ حیدر پانے والے یہ دوسرے فوجی ہیں جن کو پاک فوج کا سب سے بڑا اعزاز دیا گیا۔میجر طفیل محمد نے 1943ء میں 16 پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا ،اپنی بٹالین کے علاوہ شہری مسلح فورسز میں مختلف کمانڈ اور تدریسی تقرریوں پر مشتمل ایک امتیازی کیریئر کے بعد انہیں 1958ء میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)رائفلز میں تعینات کر دیا گیا۔7اگست 1958ء میں انہیں کچھ بھارتی دشمنوں کا صفایا کر نے کا مشن دیا گیا ۔ کہ بھارتی دستے لکشمی پور میں مورچہ بند تھے۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے رات کے وقت ایک مارچ کیا ور 7 اگست کو بھارتی چوکی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے انتہائی قریب جا کر صرف 15 گز کے فاصلے سے عقب سے حملہ آور پارٹی کی قیادت کی اور دشمن کی ہوش اُڑا دیے ا پنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر اتنی بہادری سے لڑے کہ تاریخ رقم کر دی۔گولیوں کی بوچھاڑ کی پرواہ کیے بغیر بہادر اور جُرت سے دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔
جب بھارتی فوج نے مشین گَن سے فائرنگ کی تو میجر طفیل چونکہ صف اول میں تھے اس لیے گولیوں کا شکار ہوئے جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے لیکن ان کا جذبہ دیدنی تھازخموں کی پرواہ کیے بغیر اپنے مشن کی ہدایات جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا حکم دیتے رہے ، جسم سے خون بہتا رہا جس سے ان کی زندگی کا چراغ آہستہ آہستہ مدہم ہونے لگا۔ جب دشمن کی دوسری مشین گن نے فائرنگ شروع کی تو میجر طفیل کے سیکنڈ ان کمانڈ اس کا نشانہ بن گئے میجر طفیل نے ایک پختہ یقین کے ساتھ گرنیڈ کے ذریعے اس گن کو بھی تباہ کر دیا۔ میجر طفیل محمد زخموں سے چُور چُور تھے لیکن وہ اپنے دستے کی کمانڈ جاری رکھے ہوئے تھے حملہ اُس وقت تک جاری رکھا جب تک دشمن کو چھٹی کا دودھ نہ پلا دیا بھارتی دشمن اپنے پیچھے 4 لاشیں اور 3 قیدی چھوڑکر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے اور اسی دن 7اگست 1958ء کو ز خموں کی تاب نہ لا سکے اور میجر طفیل محمد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے (شہید ہو گئے )ان کی بہادری اور قومی خدمات ، حب الوطنی اور بلند ہمتی پر انہیں فو ج کا سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر دیا گیا۔آپ کو فاتح لکشمی پور بھی کہا جاتا ہے 5 نومبر 1959ء کو کراچی میں ایوان صدر میں منعقدہ ایک خاص تقریب میں اِن کی بیٹی نسیم اختر کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل صد ر محمد ایوب خان نے یہ اعزاز دیا۔طفیل محمد شہید کا نام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور آ پ کی خدمات اور حب الوطنی کو یاد رکھا جائے گا۔قارئین یہ سلسلہ نشانِ حیدر جاری رہے گا انشاء اللہ۔ تا کہ ہمارے نوجوان نسل پاکستان کے ان غیور بیٹوں اور وطن عزیز پر اپنے خون کو نچھاور کرنے والے عظیم ہیروز کے بارے جان سکیں کہ کیسے وطن عزیزکی خاطر بہادری سے انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تا کہ نوجوانوں کے اندر جذبہ حب الوطنی اور پاک فوج کے ساتھ عقیدت پیدا ہو۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, 18 April 2018

Nishan E Haider and Story of Raja Sarwar Shaheed by M Tahir Tabassum Durrani



نشانِ حیدر


گلوبلائزیشن پر کریڈٹ سورس کی رپورٹ کی مطابق پاکستان آرمی /پاک فوج دنیا میں گیارہویں (۱۱)نمبر پر مضبوط ترین فوج کے طور پر جانی جاتی ہے ۔پاکستان میں چار بڑے فوجی اعزاز ہیں جو فوجی جوانوں کو اُن کی جرت اور بہادری پر دیئے جاتے ہیں ، یہ چار اعزاز نشانِ حیدر، ہلال جرت، تمغہ جرت اور ستارہ جرت ہیں ۔
نشانِ حیدر پاک فو ج کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے اِ س وقت تک پاک فوج کے دس (۱۰) فوجی جوانوں کو ان کی شجاعت ، بہادری اور پاکستان کی عزت و حرمت پر مٹ جانے پر دیا گیا ہے ۔ *(تاریخ میں کسی جگہ پر نشان حیدر صول پانے والے شہداء کی تعداد گیارہ بھی بتائی جاتی ہے گیارہویں بہاد ر کا ذکر بھی نشانِ حید رمیں ہی کیا جائے گا) ۔پاک فو ج کے مطابق نشانِ حیدر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے نام پر دیا جاتا ہے کیوں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا لقب حیدر کرار تھا، آپ کی بہادری اور شجاعت کی مثالیں ہمارے لیے آج بھی زندہ ہیں آپ کو اسد کا لقب بھی ملا یعنی اللہ کا شیر اسی بہادری کی مناسبت سے پاک فوج کے سب سے بڑے فوجی اعزاز کو نشان حیدر کہتے ہیں۔جن دس بہادر فوجی جوانوں کو یہ اعزاز دیا گیا اُن میں میجر طفیل شہید بڑی عمر کے فوجی تھے جن کی عمر لگ بھگ 44 چوالیس سال تھی جب انہوں نے شہادت پائی اسی طرح کم عمر فوجی جوان جس نے نشانِ حیدر پایا اُن میں راشد منہاس کا نام آتا ہے یہ اعزاز انہوں نے بیس یا اکیس سال کی عمر میں شہادت پا کر اپنے نام کیا۔
نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام یہ ہیں۔۱ ۔ راجہ محمد سرور شہید 2/1 پنجاب رجمنٹ ،عہدہ ۔کیپٹن محاذ۔ پاک بھارت جنگ 1947ء تاریخ شہادت۔ 27 جولائی1948ء ۲۔میجر طفیل محمد 16 پنجاب رجمنٹ مشرقی پاکستان رائفل پاک فوج ،عہدہ۔میجر
محاذ۔پاک بھارت جنگ 1947ء اورتاریخ شہادت۔7 اگست1958ء ۳۔میجر عزیز بھٹی 17 رجمنٹ عہدہ۔میجرمحاذ۔پاک بھارت جنگ 1965ء تاریخ شہادت۔10 ستمبر 1965ء ۴۔ راشد منہاس فائٹر کنورژن یونٹ ایف سی، عہدہ۔پائلٹ آفیسر
محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء ،تاریخ شہادت۔20 اگست 1971ء ۵۔میجر شبیر شریف فرنٹیئرفورس رجمنٹ پاک فوج عہدہ ۔میجر،محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء،تاریخ شہادت۔ 6 دسمبر 1971ء، ۶۔سوار محمد حسین 20 لانسرز (آرمرڈ کور) پاک فوج
عہدہ۔سوار،محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء،تاریخ شہادت ۔ 10 دسمبر 1971 ء، ۷۔میجر محمد اکرم 4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ پاک فوج ،عہدہ۔میجر، محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء تاریخ شہادت۔5 دسمبر 1971ء۸۔لانس نائیک محمد محفوظ 15 پنجاب رجمنٹ پاک فوج،عہدہ۔ لانس نائیک،محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء،تاریخ شہادت۔17 دسمبر 1971ء، ۹۔کرنل شیر خان سندھ رجمنٹ 12/ ناردرن لائٹ انفنٹری پاک فوج عہدہ۔کیپٹن،محاذ۔کارگل جنگ ( پاک بھارت)،تاریخ شہادت۔7 جولائی 1999ء ۱۰۔حوالدار لالک جان12/ ناردرن لائٹ انفنٹری پاک فوج،عہدہ ۔حوالدار،محاذ۔کارگل جنگ ( پاک بھارت)تاریخ شہادت۔7 جولائی 1999ء ۱۱۔ سیف علی جنجوعہ آزاد کشمیر رجمنٹ،عہدہ۔نائیک، محاذ۔پاک بھارت جنگ 1947ء ،تاریخ شہادت۔ اکتوبر 1948ء *(نوٹ) ان کو بہادری اور شجاعت پر ہلال کشمیر کے اعزاز سے نوازا گیا جبکہ 1995 ء میں گورنمنٹ آف پاکستان نے اعلان کیا کہ ہلالِ کشمیر اعزاز نشان حید ر کے برابر ہے لہذا اس کے بعد ہلال کشمیرحاصل کرنے والے اس بہادر سپوت کوگیارہواں فوجی جوان گِنا جاتا ہے جس کوسب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حید ر ملا۔
آیئے اب نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ان عظیم مرتبہ انسانوں کے بارے جانتے ہیں کب پیدا ہوئے ؟ کب پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور وطن عزیز کی خاطر کتنی بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان جانِ آفرین کے حوالے کر کے ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہوگئے۔ ہماری نئی نسل کو اپنے فوجی جوانوں کے کارنامے اور اُن کی جرت اور بہادری کی ان داستانوں اور کارناموں کا پتہ ہونا چاہیے تا کہ آج کے نوجوانوں کے اندر ملک کے لیے محبت اور اور اس کی حُرمت پر مر مٹنے کا جذبہ پیدا ہواور وہ اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کرردار ادا کر سکیں۔جی قارئین آج سے سلسلہ وار کالم شروع کرتے ہیں آج جس عظیم انسان کا ذکر کرنے جار ہے ہیں ان کا نام ہے

 راجہ محمد سرور شہید۔


سورہ البقرہ آیت نمبر 154 ترجمعہ۔’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے ‘‘ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے سورہ العمران ترجمعہ’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ہیں ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے راب کے پاس روزیاں دیے جاتے ہیں‘‘ پاک فوج کے جوانوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اگر وہ ملک کی عزت اور بقاء کی خاطر جنگ کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں تو انہیں شہید کا رتبہ ملتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں اور جو جنگ کے دوران بچ جاتے ہیں ان کو غازی کا نام دیا جاتا ہے ۔
راجہ محمد سرور پاک فوج میں کیپٹن تھے ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان کے ایک چھوٹے سے گاؤں جس کا نام سنگھوڑی ہے یہ علاقہ زیادہ تر بنجر اور غیر آباد تھا یہاں کو لوگ زیادہ تر فوج میں ملازمت کرتے ہیں۔ 10 نومبر 1910ء میں راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد محترم کا نام حیات خان تھا اوران کے والد کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا فوج میں بھرتی ہو کر ملک و قوم کا نام روشن کرے، ابتدائی تعلیم ایک سرکاری سکول سے حاصل کی ۔ سرور شہید نے سترہ سال کی عمر میں میٹرک فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تو والد صاحب کی خوشی کی انتہا نہ رہی چونکہ ان کے خاندان کے کافی لوگ پہلے ہی فوج میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے ا ور ان کے والد حیات محمد خان بھی فوج میں حوالدار کے طور پر کام کر رہے تھے ۔ ۔ سرور شہید کو فٹ بال اور کبڈی سے بہت لگاؤ تھا اور شاعری سے بھی دلچسپی رکھتے تھے اس لیے کئی شعر ان کو زبانی یاد تھے مارچ 1936ء میں ان کی شادی ان کے خاندان میں خوبصورتی اورانتہائی سادگی سے اسلامی طرز طریق سے ہوئی 1929ء میں بطور سپاہی انہوں نے پاک فو ج بلوچ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی ، کراچی سے ابتدائی فوجی کورس مکمل کیا۔1941ء میں اسی رجمنٹ میں حوالدارکے عہدے پرترقی ملی۔ پنجاب رجمنٹ میں 1944ء میں کمیشن حاصل کیا ، برطانیہ کی جانب سے انہوں نے دوسری عالمی جنگ میں بھی حصہ لیااور جرت و بہادری کی ایک عظیم داستان رقم کی۔فوجی خدمات کی پیش نظر فروری 1947ء میں انہیں کیپٹن 
کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
1948ء میں پنجاب رجمنٹ کی 2 بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر فائض ہوئے، انہیں کشمیر آپریشن پر مامور کیا گیا، 1948ء جولائی کے مہینہ میں کشمیر اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا اس حملے میں مجاہدین کی بڑی تعداد کو نقصان پہنچا۔کافی تعداد میں فوجی شہید اور زخمی ہوئے لیکن اس کے باوجودکیپٹن سرور نے جر ت اور بہادری کے ساتھ پیش قدمی جاری رکھی اور دشمن کے مورچوں کے قریب پہنچ گئے وہاں انہیں معلوم ہوا کہ دشمن نے خو کو محفوط کرنے کے لیے خاردار تاروں سے مورچوں کو محفوط بنا لیا ہے لیکن شجاعت اور بہادری کے ساتھ سرور حسین مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔
دشمن کی بے رحم گولیاں ان کے جسم میں داخل ہو چکی تھیں لیکن ان کا جذبہ رکنے کو تیار نہ تھا، زخموں کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھتے رہے اور ایک مشین گَن کا چارج سمھبال لیا،اُن کے ساتھ اس وقت صرف 6 جوان رہ گئے تھے ان بہادر جوانوں کے ساتھ مل کر خار دار تاروں کو کاٹ کر دشمن کے مورچے پر حملہ کر دیا۔دشمن نے اپنی توپوں کا رُخ کیپٹن سرور کی طرف کر دیا اور کیپٹن سرور کو ایک گولی سینے میں آلگی خون تیزی سے بہہ رہا تھا دشمن وار پے وار کر رہا تھا گولیاں دائیں بائیں اوپر نیچے سے گذر رہیں تھیں لیکن ان کا جذبہ ان کو آخری تار کاٹنے پر مجبور کر رہا تھا اور وہ سچی لگن سے اسے کاٹنے میں مصروف تھے کہ دشمن کی گولیوں نے سینہ چھلنی کر دیا اس کی باوجود انہوں نے ایک برسٹ دشمن پر پھینکا اوراللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔ دشمن اپنی چوکیا ں چھوڑ کر بھاگ گیا کیپٹن سرور زخموں کی تاب نہ لا سکے اور وہیں انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ اسی پہاڑی پر صج سبز حلالی پرچم کو لہراتے ہوئے سب نے دیکھا اور سلام عقیدت پیش کیا۔ ان کی عظیم اور شاندار خدمات ، جرت اور بہادری کے پیش نظر ان کو مختلف اعزازات سے نوازہ گیا۔ 1959ء میں ان کو سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا اور یہ اعزاز راولپنڈی میں منعقدہ ایک تقریب میں اُن کی بیوہ محترمہ کرم جان نے جنوری 1961ء میں صدر پاکستان محمد ایوب خان سے وصول کیا ۔کیپٹن سرور کی عظیم قربانی اور بہادی کی داستان ہمیشہ یار رکھی جائے گی اور وہ ہمارے سینوں میں آج بھی زندہ ہیں۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, 20 March 2018

وعدوں سے تکمیل تک کی تقریب رونمائی سٹار ایشیا نیوز پر


مکمل تحریر >>

سٹی 42 پر وعدوں سے تکمیل کی تقریب رونمائی کی خبر


مکمل تحریر >>

طاہر تبسم درانی کی کتاب ’’وعدوں سے تکمیل تک ‘‘ کی تقریب رونمائی



مقامی ہوٹل میں معروف کالم نگار طاہر تبسم درانی کی کتاب ’’وعدوں سے تکمیل تک ‘‘ کی تقریب رونمائی

آل پاکستان رائٹر ایسو سی ایشن( اپوا )کے زیر اہتمام معروف کالم نگار طاہر تبسم درانی کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور میں مکمل کیے گئے میگا پراجیکٹس پر لکھی گئی کتاب ’وعدوں سے تکمیل تک‘ کی مقامی ہوٹل میں تقریب رونمائی ہوئی۔جس میں صوبائی وزیر سپیشل ایجوکیشن پنجاب چوہدری محمد شفیق ،چئیر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو محترمہ صبا صادق ،ایم این اے وحید عالم خان ،جنرل سیکر ٹیری پاکستان مسلم لیگ (ن) ٹریڈرزونگ زبیر احمد انصاری سمیت معروف کالم نگاروں حبیب اکرم،نجم ولی خان،گل نو خیز اختر،حافظ محمد مظفر محسن ،سید بدر سعید ،عقیل انجم اعوان اور نوید چوہدی شامل تھے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقرر ین نے مصنف کی لکھی گئی کتاب ’وعدوں سے تکمیل تک ‘سے متعلق اظہار خیال کیا۔چوہدری محمد شفیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے نہ صرف لاہور بلکہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے لئے بھی بہت بڑے منصوبے مکمل کئے۔مخالفین جنوبی پنجاب میں جا کر دیکھیں ان کو سڑکوں کا جال،ہسپتالوں کی تعمیر اور یونیورسٹیوں کے لئے نئے تعمیر کیے گئے کیمپس ملیں گے ۔مخالفوں پر محض تنقید برائے تنقید اور طعنہ و تشنیع کے دور میں اچھے حکومتی اقدامات کو کتابی شکل دینا مصنف کا بہت بڑا کام ہے۔تقریب سے خطاب کے دوران چئیر پرسن چائلڈ پراٹیکشن بیورو صبا صادق نے کہا ہے کہ صحافی اور کالم نگار جہاں حکومت کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں وہاں اچھے حکومتی اقدامات اور منصوبوں کو بھی اپنی تحریروں میں جگہ دیں۔سچ بیان کرنے کی جرات نے مصنف طاہر درانی کا صحافتی قد بڑھا دیا ہے۔
ایم این اے وحید عالم خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم چینلز اور مختلف اخباری فورمز میں سیاسی مخالفین کے پروپیگنڈہ کا سامنا کرتے ہیں۔طاہر تبسم درانی کی یہ کتاب ہمارے لیے جواب تیار کرنے کا اچھا مواد مہیا کررہی ہے۔اس تقریب میں اپوا کے تمام عہدیداران بھی شریک تھے
مکمل تحریر >>

Friday, 2 March 2018

Say No to Firqa Wariyat by M Tahir Tabassum Durrani


Say No to فرقہ واریت

Rabi-ul Awwal is one of the most sacred month as Prophet Muhammad was born in this month, and with this blessing of this, that year people only got sons.
With this reference in this month muslims of Asia (in some countries) every year organize/celebrate Naat Khwani and Khutbas and in which they present tribute to Hazrat Muhammad  and make special duas for everyone.
I too luckily got a chance to be a guest of one of this Mahfil(sitting).
At the end all of us stood up in the respect of Our beloved prophet and present our Salam by reciting some verses with respect e.g Millions of blessing upon you Ya Ummati Ya ummati, these made me shocked. You will be definitely surprised that how these verses could make one surprised. Yes this is the question, when I considered these verses, the problems in my society came in front of my eyes and the condition of the whole nation(divided in groups)was in front of me. Why they/we do not recite it like Millions of blessing upon you Ya Wahabi Ya Wahabi (وہابی),  ya shia (شیعہ), ya daiu bandi (دیوبندی), or ya brailvi(بریلوی) etc we only say that ya Ummati Ya Ummati (یا امتی، یا  امتی) . Even on the day of judgement our beloved Prophet  will remembering of us as Ya Ummati Ya Ummati then only true Ummati will be happily going towards him. Then just think who will be the true Ummati? 
 That simply proves that we are one nation believing in one God and one book (Quran). We all know very well that all the blessings,  salamti is only for Umati then why this distribution/ religious Sectional. This distribution on the name of religion will never be acceptable in any case. We are one nation and need to follow only Quran and Suunah  in every matter. We should feel proud of being Ummati instead of going for other labels and tags. Secondly, this distribution is the only cause of raising social issues and breaks the peaceful environment. Our most of the social issues are just because of this unauthentic division. Solution is very simple and easy and that is “To hold Quran and Sunnah ” and be the leader of the nations.
Islam basically prohibits us from discrimination and hatred. Islam teaches us tolerance, morality and brotherhood. There are few pillars of Islamic State, if we follow them, then here and the Hereafter will automatically be set in the desired way. The pillar of Islamic state are life matters, income, morality, faith and amnesty.
In the Islamic society, the government is responsible for peace and security, and government has to play its role in raising peaceful environment for the public to build future. Government should ensure peace and prosperity in the society. Same goes for the each individual of the society to become a productive asset for the future generation, and play your role very positively and this is the only way that our society will be alright
مکمل تحریر >>