Tuesday, 28 August 2018
Thursday, 16 August 2018
Monday, 2 July 2018
پاک فوج کے ساتویں۔۔۔عظیم ہیرو۔۔میجر محمد اکرم شہید کی یاد میں By M Tahir Tabassum Durrani
By
wordreel
پاک فوج کے ساتویں۔۔۔عظیم ہیرو۔۔میجر محمد اکرم شہید کی یاد میں ایک تحریر
آج کے روزنامہ جہاں پاکستان میں ۔۔۔۔پاک فوج کو خیراج تحسین پیش کرتے ہوئے
بقائے حیات پانی خطرے میں ہے By M Tahir Tabassum Durani
By
wordreel
بقائے حیات پانی خطرے میں ہے
بقائے حیات پانی خطرے میں ہے
سورۃ انبیاء آیت نمبر تیس (30) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا،’’اور ہم نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا فرمایا‘‘ قرآن مجید فرقان حمید کی اس آیات کریمہ کی روشنی میں ہمیں پانی کی اہمیت کا خوب اندازہ ہوتا ہے کہ پانی نعمت خدا وندی ہے اور کائنات کی بے شماراور لازوال نعمتوں میں سے ایک اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے ۔انسانی جسم کو 60فیصد پانی کی ضرورت ہوتی ہے ، سا نئسی تحقیق کے مطابق ایک صحت مند جسم کو دن میں8 گلاس پانی انتہائی ضروری ہیں ۔
کسی بھی جاندار کے زندہ رہنے کے لیے تین عناصر بے حد ضروری ہیں ہوا، روشنی اور پانی، ان تنیوں میں سے اگر ایک عنصرکی ہماری زندگی میں کمی واقع ہو جائے یا نکا ل دیا جائے تو زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے لیکن اگر پانی نہ ہوتو موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ صحت اور زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہوا ، روشنی کے بعد پانی بے حد ضروری عنصر ہے تندرستی کو قائم رکھنے کے لیے پانی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا صاف ستھری ہوا کی طرح صاف ستھر ا اور جراثیم سے پاک پانی انسانی جسم کے لیے اہمیت کا حامل ہے ۔ جیسے صحت مند معاشرے کے لیے خالص ہوا ضروری ہے بالکل اسی طرح صحت مند جسم کے لیے خالص پانی کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ اگر پانی گدلا ، بدبو دار ہو یا جراثیم سے پاک نہ ہو تو انسانی جان کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور بہت سے موزی امراض کے شکار ہو سکتا ہے جیسے پیٹ کے امراض، قبض،ٹائیفائیڈ اور ہیضے کے امراض جیسی جان لیوا بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔پانی زندگی ہیاور پانی کی اہمیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ تمام غذاؤں کوہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بہت سی بیماریوں سے نجات دلاتا ہے جیسے پیشا ب کی جلن اور یرقان جیسی مہلک بیماریوں سے بچا ؤ کے لیے صاف اور کثرت سے پانی پینا مفید ثابت ہوتا ہے ۔ پانی ہمیشہ صاف ستھرا اور میل کچیل سے پاک پینا چاہیے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے ۔ ایک اچھے اور صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں پینے کا پانی صاف اور جراثیم سے پاک ہو۔
پاکستان ایک ترقی پزیر زرعی ملک ہے اور اس کی آبادی میں دن بد ن اضافہ ہو رہا ہے ۔لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ملک بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن بہت سے مسائل سے بھی دو چار ہوتاچلاجا رہاہے ۔ جگہ جگہ فیکٹریاں ، کارخانے لگائے جا رہے ہین جن سے فضائی آلودگی تو پھیل ہی رہی ہے وہیں پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے جو انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے ۔ آلودگی کے بڑے اسباب میں سے چند کاذکر کر رہا ہوں۔ کارخانوں ،گاڑیوں اور چیزوں کے جلنے سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں اور زرات جو پانی میں شامل ہو کر پانی کو آلودہ کر رہے ہیں۔ کارخانوں سے نکلنے والا فالتو اور مضر صحت کیمیائی مواد جو پانی میں شامل رہا ہے ، گھریلو اور ہسپتالوں کا کوڑا کرکٹ جراثیم ملامواد جو پانی میں شامل ہو کر پانی کو زہریلا اور جراثیم شدہ بنا رہا ہے ۔کیمیائی کھادیں ۔ کیڑے مار ادویات اور سپرے بھی پانی کو آلودہ کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت پانی کو آلودہ کرنے کی ایک بہت بڑی وجہ شاپنگ بیگ کابے دریغ استعمال ہے یہ شاپنگ بیگ استعمال کے بعد جب کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیے جاتے ہیں تو نکاس آب کی رکاوٹ تو بنتے ہی ہیں لیکن جب ان کو جلا یا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والا زہریلادھواں پانی میں شامل ہو کر پانی کی آلودگی کا باعث بنتا ہے ۔ شہروں میں پینے کے پانی اور گٹروں کے پانی کے پائپ ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں اور اتفاق سے یہ پائپ پرانے اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے مختلف جگہوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکا رہوتے ہیں جس کے وجہ سے صاف پانی میں گٹر وں کا پانی شامل ہو جاتا ہے اور پینے کے پانی کو آلودہ کر دیتا ہے ۔ جس سے ہیضہ پیٹ کی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور یقیناََ معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان مین شہری آبادیوں میں 44 فیصد آبادیاں ایسی ہیں جو صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں جبکہ 90فیصد دیہاتی آبادیا ں ہیں جو پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ایسویٹس (PCRWR) کے مطابق صاف پینے کے پانی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ایک اندازے کے مطابق تقریباََ 2 لا کھ سالانہ کے حساب سے بچوں کی اموات واقع ہو رہی ہیں۔
صاف پانی تو مسلہ ہے ہی لیکن اس سے زیادہ تشویش نا ک بات یہ ہے کہ پانی کی سطح مزید نیچے ہوتی جار ہی ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو اگلے چند سالوں میں ملک پاکستان کوپانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔پاکستان کی زمین سر سبز و شاداب او ر زرخیز زمین جو کہ نعمت خدا وندی ہے ۔ اس زمین پر جنگلات بھی ہیں جو کسی بھی ملک کی ترقی اور آب و ہوا کو متوازن رکھنے کے ضامن ہوتے ہیں درخت زمین کا زیور ہیں درختوں کی حفاظت کر کے ہم اس زمین کو جنت نظیر بنا سکتے ہیں۔درخت کسی جگہ کی آب و ہوا کوتبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔درختوں کے پتوں سے پانی کے بخارات ہوا میں داخل ہوتے ہیں تو ہوا میں نمی کا تناسب موزوں رہتاہے۔ اور آب وہوا خشک نہیں ہونے پاتی۔ یہی بخارات اوپرجاکر بادلوں کی بناوٹ میں مدد دیتے ہیں جس سے بارش ممکن ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی درخت بادلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور مو سم معتدل ہو جاتا ہے ۔جب بارش سے سیلاب آتے ہیں تو جنگلات کے درختوں کی جڑیں زمین کو اسفنج کی طرح بنادیتی ہیں۔اور یہ زمین بہت سا سیلابی پانی روک لیتی ہے۔ جس سے سیلاب کے پانی کی رفتار کم ہوجاتی ہے اس لئے وہ زمین کا کٹاؤ کرنے کے قابل نہیں رہتا اور زمین کی زرخیزی بھی بڑی حد تک ضائع ہونے سے بچ جاتی ہے۔ دراصل درختوں کی جڑیں مٹی کے ذرات کوباہمی طورپر اچھی طرح پکڑلیتی ہیں۔ جس سے زمین نہ صرف سیلابی پانی کے کٹاؤ سے محفوظ رہتی ہے بلکہ سیلاب کے گزرجانے کے بعد ہوا کے کٹاؤ سے بھی زمین کی اوپری سطح کی زرخیزمٹی کو اڑاکر دورچلے جانے سے روک لیتی ہے
پاکستان میں جگہ جگہ رہائشی سکیمیں متعارف کرا ئی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے درخت کاٹے جا رہے ہیں اور سر سبز شاداب اور زرخیز زمین کو کبھی ختم کیا جار ہا ہے جس کی وجہ سے ماحولیات پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں گرمی کا زور بڑھ رہا ہے ۔ ایک وقت تھا جب دوبئی میں درجہ حرارت بہت زیادہ رہتا تھا لیکن آج وہاں درخت لگائے جا رہے ہیں اور گرمی کی شدت پر کافی حد تک کنٹرول کیا جا چکا ہے لیکن پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجو د یہاں پر ہر سال گرمی کا زور بڑھ رہا ہے جس کی اہم وجہ صرف درختوں کی کٹائی اور ززخیز زمینوں پر رہائشی سکیمیں ہیں۔درخت زمیں کی زرخیزی کو قائم رکھتے ہیں،پیارے پاکستان میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پاکستان کی خوبصورتی کو بڑھانے کے ساتھ اس کی فضا میں بسنے والوں کے لئے تازہ ہوا کا بھی بندوبست کرتے ہیں اوردرختوں کی ہریالی سے موسم خوبصورت ، ٹھنڈا اور معتدل رہتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور اہم مسلہ پانی کی حفاظت کرنا ہے جس پر بالکل توجہ نہیں دے جا رہی ، اگر اس مسلے پر آج توجہ نہ دی گئی اور اس پر کوئی حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو آنے والا کل پاکستان کے لیے بہت بھیانک ثابت ہوگا۔
ایک رپورٹ کی مطابق بھارت صرف دریائے سندھ پر چودہ چھوٹے ڈیم اور دو بڑے ڈیم مکمل کر چکا ہے ،یہی وجہ ہے کہ منگلا ڈیم اکتوبر 2017 سے خالی پڑا ہے جبکہ تربیلا ڈیم بھی اس وقت بارش کا محتاج ہے ، پانی کے حوالہ سے ہمارا مستقبل بہت دردناک ہے، دو سال قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے محتاج کر دے گا اور اوپر بیان کردہ منصوبہ جات اور ڈیمزکی صورت حال سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس پر عمل کر رہا ہے۔ بھارت دریائے چناب پر سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم سمیت چھوٹے بڑے 11ڈیم مکمل کر چکا ہے۔ دریائے جہلم پر وولر بیراج اور ربڑ ڈیم سمیت 52ڈیم بنا رہا ہیدریائے چناب پر مزید24ڈیموں کی تعمیر جاری ہے اسی طرح آگے چل کر مزید190ڈیم فزیبلٹی رپورٹس، لوک سبھا اور کابینہ کمیٹی کے پراسس میں ہیں ۔لیکن افسوس ہم آج بھی آپس کی لڑائیوں میں محو ہیں ہمارے لیڈران ایک دوسرے کے گریبانوں کو نوچنے میں مصروف ہیں ۔ سب اپنے اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں کسی بھی سیاسی پارٹی نے ملک میں پانی کو محفوظ کرنے درختوں کی کٹائی سے روکنے کے لیے کوئی مثبت حکمت عملی اختیار نہیں کی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان مختلف مسائل کا شکار ہے ۔اگر مجھ جیسے ناتواں کو یہ حقائق ملکی مستقبل کے لیے فکر مند کرسکتے ہیں تو ہمارے نام نہاد دانشور اور میڈیا ہاؤسز کیوں ان موضوعات پر بات نہیں کرتے؟آج سرسبز شاداب پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ہم بھی آنے والے مستقبل کوصاف ہودار اور روشن بنانے کے لئے ایک پودا ضرور لگائیں یہی وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہم حکومت وقت سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ ڈیم بنائیں تا کہ پانی کو محفوظ کیا جاسکے اور سرسبز شاداب و زرخیززمین پر رہائشی سکیموں کے مالکان کے ساتھ مل کر مثبت حکمت عملی اختیار کریں تا کہ سر سبز زمین کو نقصان سے بچایا جا سکے ۔محکمہ ماحولیات اس بات کا پاپند ہے کہ جب بھی کوئی سڑک، پیٹرول پمپ، کارخانہ یا کوئی رہائشی سکیم بنائی جائے تو اس جگہ جتنے درخت کاٹے جائیں گے وہ ادارہ اتنی ہی تعداد میں درخت لگانے کا پابند ہے لیکن اس پر کتنا عمل درآمد ہو رہا ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟
Friday, 22 June 2018
Eid al-Fitr celebrations around the world By M Tahir Tabassum Durrani
By
wordreel
Eid al-Fitr celebrations around the world
Sunday Magazine Jehan Pakistan
www.jehanpakistan.pk
Eid al-Fitr celebrations around the world
عید کے لفظی معنی خوشی ، مسرت و شادمانی کے ہیں۔ اسلام ایک مکمل ظابطہ حیا ت ہے اور وہ انسان کو آسانی اور راحت کی زندگی گذارنے کے طریقے سیکھاتا ہے ۔اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو، میں اکثر سوچتا ہوں کہ میرا اللہ کتنا بڑا رحیم اور کریم ہے کہ اس نے مزدور کو اتنے بڑے حق سے نوازا، تو وہ ذات پھر اپنے مقرب بندوں کو کیسے کیسے نوازتی ہوگی!مقرب بندوں سے مراد جو اللہ کریم کے احکامات بجا لاتے ہیں ، سرکشی نہیں کرتے بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق اپنی زندگیوں کو گذارتے ہیں تو اللہ اُن کو کس شان سے نوازتے ہیں۔جب ایک مسلمان گرمی کی شدت میں اس کو راضی کرنے کے لیے چلتا ہے،سورج کی حرارت کے باجود اس کی خاطر بھوکا پیاسا رہتا ہے،موسم کی شدت کو دیکھے بغیر ننگے پاؤں اس کے گھر کا طواف کرتا ہے،یقیناً اس کی محنت کا صلہ... اس کے عمل کا اجر... اس کی مشقت کا انعام... دینے میں وہ کیسے تاخیر کر سکتا ہے؟ یقیناً وہ بھی اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اسے عطا کرتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشا د باری تعالیٰ ہے (سورۃ الاعلیٰ آیت نمبر ۱۵) ترجمہ ’’ بے شک مُراد کو پہنچاجو ستھرا ہوا،اور اپنے رب کا نام لے کرنما ز پڑھی۔اگر اس آیت کریمہ کی تفسیر کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ستھرا ہونا سے مُراد صدقہ فطر دینااور رب کا نام لینے سے عید گاہ تک تکبیریں کہنااور نماز سے مراد نماز عید ہے۔ماہ صیام میں صدقہ فطر کی وہ حیثیت ہے جیسے نماز میں سجدہ سہو، یعنی رمضان کے روزے رکھنے کے دوران جو غلطی کوتاہی سر زد ہو جاتی ہے اُن غلطیوں کا کفارہ صدقہِ فطر کے طور پر ادا کر دینے سے اُن غلطیوں کی معافی مل جاتی ہے دوسرا یہ کہ غریب لوگوں کی مدد بھی ہو جاتی ہے ایسے لوگ جو عید کی خوشیوں سے محروم ہوتے ہیں ان کو صدقہِ فطر دینے ان کی مدد ہو جاتی ہے جس سے معاشرے میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’تم (رمضان البارک کی)مطلوبہ گنتی پوری کرو اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے ہدایت دی تاکہ تم شکرادا کرو. احادیث مبارکہ میں آیا ہے کہ عید الفطر کی رات فرشتے حکم الہٰی سے راستوں اور گلیوں میں ندا کرتے ہیں: ’’اے مسلمانو! تمہیں اِس ماہ مبارک کے روزے رکھنے کا حکم تھا، تم بجالائے۔ تمہیں راتوں میں نماز پڑھنے کا حکم ملا،تم کا ربندر ہے، اب اُٹھو اور عید گاہ میں جاکر اپنے پروردگار کے سامنے صف بستہ مؤدب کھڑے ہو جاؤ، جب تم وہاں سے لوٹو گے تو تمہارے سب گناہ بخشے ہوئے ہوں گے۔‘‘ حدیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ عید الفطر کی رات کو فرشتے گلی کُوچوں میں صدادیتے ہیں، جسے جِنّ و انسان کے سوا تمام مخلوق سُنتی ہے:’’اے امت محمدؐ اپنے پروردگار کے حضور آؤ۔ تمہارا پروردگار بے حد بخشنے والا ہے۔ چھوٹی سی نیکی بھی قبول کرلیتا ہے۔ اور بہت بڑا گناہ معاف کردیتا ہے۔‘‘ جب لوگ عیدگاہ میں صف بستہ باادب حاضر ہوتے ہیں توا للہ تعالیٰ پوچھتا ہے ’’اے فرشتو! بتاؤ کہ محنت سے اپنا کام کرنے والے مزدور کا معاوضہ کیا ہونا چاہیے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: ’’یااللہ! معاوضہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری دی جائے۔‘‘ ارشاد ہوتا ہے: ’’اے فرشتو! گواہ رہو، میں اپنے نیک بندوں کو رمضان کے روزے اور راتوں کی نمازوں کے بدلے اپنی خوش نُودی اور ان کے گناہوں کی مغفرت سے مالا مال کرتا ہوں۔‘‘
عید کی خوشیوں اور رسم و رواج کا آغاز یکم شوال یا عید کا چاند نظر آجانے کے ساتھ ہی ہوجاتا ہے، رمضام المبارک اسلامی مہینوں میں مبارک و برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے، جب کہ شوال اسلامی کیلنڈر کا دسواں مہینہ ہے۔ رمضان المبارک میں قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا، مسلمانوں پر روزے فرض کیے گئے،نمازِ تراویح، شبِ قدراس مہینے کی خاص عبادات اور تحفے ہیں۔ چھوٹے اپنے بڑوں کو چاند کا سلام کرتے اور بڑے ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔ عید الفطر کا دن پور ی دنیا کے مسلمان جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔
پاکستان میں عید الفطر
پاکستان میں تو جیسے ہی شوال کے چاند کے نظر آنے کی خبر ملتی ہے لو گ چاند رات کو بھی خوب انجوائے کرتے ہیں۔ سب سے پہلے اعتکاف میں بیٹھے اپنے پیاروں کو مسجد سے واپس گھر وں کو ٹولیوں کی شکل میں نعت خوانی کرتے اور اللہ کا ذکر کرتے واپس لاتے ہیں جو کہ ایک بہت ہی خوب صورت محفل نعت کا سا سماں ہوتا ہے ہرچہرہ مسکرا رہا ہوتا ہے ، خواتین چاند رات کو خوب بناؤ سنگھار کرتی ہیں ، ہاتھ پاؤں کو مہندی کے ڈیزاینوں سے خوب سجاتی ہیں ، رنگ برنگے، بھڑکیلے کپڑے پہنتی ہیں لیکن کچھ گھریلوخواتین کا سار ا وقت کچن میں کھانا بنانے اور مہمانوں کی مہمان نوازی میں گذر جاتا ہے ، اصل عید تو بچوں کی ہوتی ہے ، بچوں کو پیسوں کی شکل میں خوب عیدی ملتی ہے جسے وہ اپنی مرضی سے خرچ کر کے خوش ہوتے ہیں ۔ عید کے دن صبح سویرے لوگ نماز عید کے لیے تیار ہو جاتے ہیں نئے کپڑے پہنتے ہیں ، خو شبو لگاتے ہیں ، کوئی میٹھی چیز کھاتے ہیں چاہے کھجور ہی کیوں نہ ہو پھر مسجدوں ، عید گاہوں کا رُخ کرتے ہیں، نماز عیدالفطر ادا کرنے کے لیے مسلمان ایک راستے سے جاتے ہیں جبکہ دوسرے راستے سے واپس آتے ہیں،راستوں میں تکبیرات کی صدائیں اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الااللہ واللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمدبلند کرتے مسجدوں ، عید گاہوں کی طرف جاتے ہیں۔دو رکعت عیدالفطر ساتھ زائد چھ تکبیرات کے نماز مکمل کرنے کے بعدایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں، رمضان کے روزوں ، تراویح اور عید کی مبارکباد دیتے ہیں اجتماعی دعا کی جاتی ہے جس میں مسلم اُمہ اور ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کی دعائیں بھی کی جاتی ہیں ، موبائل فون ، انٹرنیٹ فیس بُک نے ایک بہت خوبصورت رسم کو بالکل ختم کر ڈالا ہے ، لوگ اپنے پیاروں کو مہنگے دیدہ زیب اور
خوبصورت عیدکارڈ بھیج کر اپنی محبت اور خلوص کا اظہار کرتے تھے لیکن اب یہ رسم بالکل ناپید ہو کر رہ گئی ہے ،بس واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا پر ورچوئلی ہی عید کی مبارکباد دے دی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کرتے ہیں قبروں کی مرمت کرتے ہیں اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ چونکہ یہ میٹھی عید کہلاتی ہے اس لیے اس عید پر حلوائی اور مٹھائی کی دکانوں پر خو ب رش ہوتا ہے لو گ اپنے پیاروں کو مختلف قسم کی مٹھائیاں، کیک، رس گُلے، گُلاب جامن، میٹھی سویاں، پھیونیاں حلوہ جات ایک دوسرے کے گھروں میں تحفے کے طور پر بھیجنے کا رواج قائم ہے ۔
سعودی عرب میں عیدالفطر
سعودی عرب میں بھی عید خوب مزے اور جوش و جذ بے سے منائی جاتی ہے ، شہری اپنے اپنے رشتے داروں سے ملنے جاتے ہیں ، گلے ملتے ہیں مختلف قسم کے پکوان بنا کر رشتے داروں عزیز و اقارب اور دوستوں کی خوب تواضع کرتے ہیں۔گھروں کو خوب سجایا جاتا ہے ۔نماز عید کے بعد سب خاندان آبائی گھروں میں جمع ہوتے ہیں بچوں کو تحفے سے بھرے بیگ دیے جاتے ہیں جن میں چاکلیٹ، کینڈیز وغیرہ ہوتی ہیں یہ بچوں کی خوب عیدی ہوتی ہے ۔سعودی عرب کی ایک یہ بھی روایت ہے کہ لوگ بڑی بڑی مقدار میں چاول اور دیگر اجناس خرید کر غریب لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں تا کہ وہ بھی عید کو خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
امریکہ میں عیدالفطر
دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح امریکہ میں مسلمان عید کی نماز کی ادائیگی کے لیے اسلامک سینٹرز میں اکٹھے ہوتے ہیں اور اس موقع پر پارک میں بھی نماز کی ادائیگی ہوتی ہے اور عید کی تقریبات تین دن تک جاری رہتی ہیں۔تمام مسلمان مل کراللہ جلہ شانہ کے حضور سجدہ بسجود ہو کر شکر ادا کرتے ہیں گلے ملتے ہیں اور عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔ مخیر حضرات اس بابرکت موقع پر بڑی بڑی پارٹیوں کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ اسلامک سینٹرز میں عید ملن پارٹیوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ بچوں کو عیدی دی جاتی ہے جبکہ خاندان آپس میں ایک دوسرے کو تحفے/ تحائف دے کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
چین میں عیدالفطر
عوامی جمہوریہ چین میں بھی مسلمان طبقہ کو عید منانے کی اجازت دی گئی ہے عید کے روز مسلم اکثریتی علاقوں میں سرکاری چھٹی ہوتی ہیں،ان علاقوں کے رہائشی مذہب سے بالاتر ہو کر ایک سے تین روز تک کی سرکاری چھٹی کر سکتے ہیں۔ یہاں پر بھی مسلمان اپنے رسم و رواج اور اسلامی اقدار کے مطابق عید مناتے ہیں ۔
انڈونیشیا میں عیدالفطر
انڈنیشیا میں عیدالفطر بڑے مذہبی جوش و جذبے او ر اسلامی اقدار کے عین مطابق منایا جاتا ہے ۔یہاں کے لوگ عید کے پُر مسرت دن پر ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کردیتے ہیں تمام شکوے گلے مٹا کر ایک دوسرے کے بغل گیر ہوتے ہیں اور اسلامی اخوت کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ جیسے پاکستان میں چاند رات منانے کی اہتما م کیا جاتا ہے ایسے ہی انڈو نیشیا میں بھی چاند رات منانے کا خوب اہتمام کیا جاتا جسے ان کی زبان میں ’’تیکرائن‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس رات سب لو گ مل کر ’’ ماشاء اللہ ‘‘ کہتے ہیں ، جس سے ماحول گونج اٹھتا ہے جبکہ گلیوں بازاروں میں نعرہ تکبیر بلند کیا جاتا ہے جو کہ ایک خوبصورت روایت ہے ۔گھروں کے دروازوں پر لالٹین ، موم بتیاں اور دیے جلا کر رکھے جاتے ہیں جو کہ ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں۔یہاں عید کو ’’ عید الفطری اولیباران‘‘ بھی کہا جاتا ہے شاپنگ سنٹر پر خوب رش ہوتا ہے لوگ عید کے لیے بڑے بڑے شاپنگ مالز کا رخ کرتے ہیں۔پرانی تلخیاں بھلا کر ایک دوسرے سے معافی مانگی جاتی ہے اور سسرالی خاندان کے خصوصی دورے کیے جاتے ہیں۔
ترکی میں عیدالفطر
ترکی میں عیدالفطر بڑے جوش اور جذبے سے منائی جاتی ہے یہاں کا ایک نہایت خوبصورت انداز یہ کہ بزرگوں کے دائیں ہاتھ پر بوسہ دے کران کی عزت وتکریم کی جاتی ہے بچے اپنے رشتہ داروں کے ہاں جاتے ہیں عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور اپنی عیدی وصول کرتے ہیں۔یہاں کی مشہور سوغات ‘‘بکلاوا ‘‘نامی مٹھائی ہے جو لو گ ایک دوسرے کو تحفے کے طور پر دیتے ہیں۔اس کے علاہ رقم اور چاکلیٹ بھی تحفے کے طور پر دیتے ہیں۔ترکی میں عید کے دن مکمل چھٹی ہوتی اور لوگ عید کو خوب مزے سے گذارتے ہیں اور رشتہ داروں سے ملنے جاتے ہیں۔
برطانیہ میں عیدالفطر
برطانیہ میں عیدالفطر قومی تعطیل کا دن نہیں مگر یہاں بیشتر مسلمان صبح نماز ادا کرتے ہیں اس موقع پر مقامی دفاتر اور اسکولوں میں مسلم برادری کو حاضری سے استثنیٰ دیا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیائی مرد جبہ اور شیروانی میں ملبوس نظر آتے ہیں جبکہ خواتین شلوار قمیض سے عید کا آغاز کرتی ہیں اور مقامی مساجد میں نماز ادا کر کے دوسروں سے ملا جاتا ہے۔یہاں پر بھی اپنے پیاروں سے ملنے ملانے اور تحفے تحائف دینے اور مبارکباد دینے کا سلسلہ پورا دن جاری رہتا ہے جبکہ مٹھائیاں اور روایتی پکوان ایک دوسرے میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔
نائیجیریا میں عیدالفطر
نائیجیریا میں عید کو‘چھوٹی’’ صلوۃ‘‘کانام دیا جاتا ہے اور لوگ مل کر اس دن کو مذہبی جوش و جذبے سے مناتے ہیں، اس موقع پر تین دن کی تعطیلات بھی دی جاتی ہیں۔
مصرمیں عیدالفطر
مصرمیں عید تین روزہ تہوار کے طور پر منائی جاتی ہے۔ عید کے موقع پر یونیورسٹیوں، اسکولوں اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں عام تعطیلات ہوتی ہیں اور عید کے موقع پر بڑے بڑے سٹورز اور ریسٹورانٹس بھی بند رہتے ہیں۔ عید کے دن کے آغاز پر بڑے بچوں کو لے کر مساجد کا رخ کرتے ہیں جبکہ خواتین گھر میں اہتمام کرتی ہیں۔ عید کی نماز کے بعد ہر کوئی ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتا ہے۔ پہلے دن کو خاندان دعوتوں میں مناتے ہیں جبکہ خواتین کے لیے خصوصی تحائف کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔
ملائیشیا میں عیدالفطر
ملائیشیا میں عید کا مقامی نام’’ ہاری ریا عیدالفطری‘‘ ہے جس کا مطلب ہے کہ منانے والا دن، ملائیشیا میں عید کے دن لوگ خصوصی لباس پہنا جاتا ہے اور گھروں کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے جاتے ہیں تاکہ خاندان، ہمسائے اور دوسرے ملنے والے لوگ آ جا سکیں۔ عید پر روایتی آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے جس میں چین سے خصوصی طور پر منگوائے گئے کریکرز استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس آتش بازی کو دیکھنے کے لیے چھوٹے بڑے بچے، عورتیں بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ ملائیشیا میں عید کے موقع پر بچوں کو عیدی دی جاتی ہے جیسے‘دوت رایا’کہا جاتا ہے
بنگلہ دیش میں عیدالفطر
یہاں پر بھی دیگر مسلمان ممالک کی طرح دن کا آغاز نماز عید الفطر سے ہوتا ہے لوگ صبح سویرے نئے کپڑے پہن کر عیدگاہوں ، مسجدوں کا رُک کرتے ہیں ۔بنگلہ دیش میں بھی عید کا تہوار تین روز تک منایا جاتا ہے اور سرکاری چھٹیاں دی جاتی ہیں۔ اور اس کے بعد رشتہ داروں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ عید کے موقع پر زکوٰۃ اور فطرانہ بھی دیا جاتا ہے۔ گھروں میں خصوصی دعوتوں کا اہتمام ہوتا ہے اور خواتین اپنا ایک ہاتھ مہندی سے سجاتی ہیں۔
تیونس میں عید الفطر
تیونس میں عید الفطر تین سے چار روز تک منائی جاتی ہے جن میں صرف عید کے پہلے اور دوسرے روز ہی چھٹی ہوتی ہے۔ دوستوں اور عزیزوں کی تواضع کے لیے خاص کوکیز بنائے جاتے ہیں جن میں ترکی کی روایتی مٹھائی اور کئی طرح کے کیک بھی شامل ہوتے ہیں۔
عید کے دن رقص و موسیقی کی محافل سجائی جاتی ہیں جب کہ تحفے تحائف دینے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ شام کے وقت عید کی مناسبت سے خاص طور پر تیار کیے گئے پکوان دستر خوان کی زینت بنتے ہیں۔
افغانستاں میں عیدالفطر
عیدالفطر افغانستان کے مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل دن ہے جسے تین دن تک پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ پشتو بولنے والی برادری عید کو ’’کوچنائی اختر‘‘کہتے ہیں ہیں۔ عید کی تیاری دس روز پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے گھروں کی صفائی ہوتی ہے اور عید سے چند روز قبل بازاروں کا رخ کیا جاتا ہے تاکہ مٹھائیاں اور نئے کپڑے خریدے جا سکیں۔ عید کے خوبصورت موقع پر مہمانوں کی تواضع کرنے کے لیے جلیبیاں اور کیک بانٹا جاتا ہے جسے ’’واکلچہ ‘‘کہا جاتاہے۔لوگ عید والے دن لوگ گلے ملتے ہیں۔ نئے کپڑے پہنتے ہیں دوستوں اور مہمانوں کی خوب خاطر مدارت کرتے ہیں۔
دیگر اسلامی ممالک میں عیدالفطر
رمضان المبارک کی بابرکت سعا دتوں میں 14رمضان کے بعد خلیجی ممالک (گلف ریجن )ایک رمضا ن میلے کا انقعا د کرتے ہیں۔ہر ریجن اس کا انعقاد مختلف ناموں سے کر تا ہے۔گارنگیوں اورگاراگاؤ ایک روائتی بچوں کا عید تہوار ہے۔جو کہ چودہ رمضان یعنی کہ وسط رمضان سے عید کی تقریبات کے سلسلے کی شروعات ہے۔ اس تہوار میں بچے اپنے خوبصورت لباس میں اپنے پڑوسیوں کے ہاں جاتے ہیں اور وہ پیار سے تحفے دیتے ہیں۔ یہ تہوار خلیجی ممالک میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ مثلاً قطر اور بحرین میں اسے ’’گاراگاؤ‘‘سعودی عرب میں ’’کارکیان یا کاریکان‘‘۔ کویت میں ’’گارگیان‘‘ عراق میں ’’الماجینا کرکیان‘‘ عمان میں ’’گارنگاشوچ‘‘ اطبلاح یا قارناکوش اور ہیگ الیلا متحدہ عرب عمارات میں کہا جاتا ہے۔دادیاں ، نانیاں(grandmothers) رمضان کے آخری عشرے میں شام کے وقت تحفے لے کر اپنے اپنے گھر کے دروازوں پر بیٹھ جاتی ہیں اور تحفے بانٹتی ہیں۔
بحرین میں عید کی تقریبات پانچ روز تک منائی جاتی ہیں اور پندرہ رمضان ہی سے تیاریاں کی جانے لگتی ہیں۔ عراق میں لوگ صبح نماز عید ادا کرنے سے پہلے ناشتے میں بھینس کے دودھ کی کریم اور شہد سے روٹی کھاتے ہیں۔ مصر میں عیدالفطر کا تہوار چار روز تک منایاجاتا ہے۔
عرب ممالک میں قدیم روایات کے ساتھ وہ جدید یعنی نئے کھانے بھی رواج پاگئے ہیں جن میں فاسٹ فوڈ بھی شامل ہے۔ عید کے روز عربوں کی سب سے پختہ روایت اعلیٰ اور قیمتی لباس زیب تن کرکے رشتے داروں اور دوستوں کے گھر جاکر ملنا ہے۔ شام کے وقت عید کے سلسلے میں منعقد کردہ میلے اس تہوار کی رونق کچھ اور بڑھا دیتے ہیں۔ دیہات میں اونٹوں کی ریس کا بھی رواج ہے۔
الغرض پوری دنیا کے مسلمان عید کے اس پُر وقار اور عالیشان دن کو خوب مناتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں












