Thursday, 28 July 2016


آزاد میڈیا کا ہماری زندگی پر اثر
انسانی معاشرے کی بقا ء اور تعمیر و ترقی اور ملک کی ترقی میں ذرائع ابلاغ کو ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے اور اسے مملکت کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔میرا آج کا موضع بالکل الگ تھلگ ہے اور شائد کسی کو اچھا بھی نہ لگے کیوں کہ پچھلے ایک دو مہینوں سے ایک عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوں اخبار پڑھو تو لگتا ہے جیسے بس اب دنیا ختم ہونے والی ہے ، ٹیلی ویژن پر ٹالک شو دیکھ لو تو لگتا ہے جیسے جنگ لگنے والی ہے اور ہم اس دنیا سے بس رخصت ہونے والے ہیں ہر طرف افراتفری کا عالم ہے بے چینی سی ہر طرف پھیلی نظر آتی ہے ہمارے آزاد میڈیا نے تو ساری حدیں ہی پار کر ڈالیں اتنی آزادی بھی کیا جس میں آپ معاشرے میں ایک کھلبلی سی مچا دیں لوگوں کا زندگی سے اعتبار اُٹھ جائے ، کسی کے گھر کا چراغ بجھ جائے اور آپ اس کا براہ راست انٹرویولوگوں کو دکھا کر اپنے چینل کا بھاؤ بڑھایں ، ایک ماں کا لال کسی حادثے میں انتقال کر جاتا ہے اس دھکیاری ماں سے یہ پوچھنا کہ اب آپ کیا محسوس کر رہی ہیں ، اس کی کمی سے کیا فرق پڑا ؟ اور اب آگے آپ کیا کرنا چاہتی ہیں؟ کیا اسی کو آزادی صحافت کہتے ہیں؟ کسی علاقے میں دو سیکنڈ کا زلزلہ آ جائے توآپ پورے2 گھنٹے ٹی وی سکرین ہلا ہلاکر دنیا کو دہلاتے ہیں۔ ایک شریف پا پردہ خاتوں جو کسی دفتر میں کام کرتی ہے اپنی عزت کی حفاظت کے لیئے نقاب کرتی ہے ہمارا یہ آزاد میڈیا تب تک اسے نہیں بخشتا جب تک اس کا نقاب اتر نہ جائے، لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں۔ ایک دوست سے بات چیت کے دوران اس نے بتایا کہ لندن میں ہر سال تقریباََ پچاس ہزار لوگوں کا خون ہوتا ہے ، وہاں بھی سٹریٹ کرائم ہوتے ہیں ، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں وہاں بھی ہوتی ہیں ، وہا ں بھی لوگ خودکشی کرتے ہیں لیکن وہاں ایسی خبر چلانا سخت منع ہے جس سے معاشرے میں بے چینی پھیلے اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا ہو وہا ں کا میڈیا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا اور اس سے بھی اہم بات وہا ں کے لوگ
انوسٹیگیٹڈ(investigated information) انفارمیشن کے بنا کسی خبر پر یقین نہیں رکھتے اگر کسی نے بنا تصدیق کے کوئی خبر چلادی اور بعد میں وہ خبر جھوٹی نکلے تو بھاری بھر کم جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔
ہمارے میڈیا کے کیا کہنے کہیں آگ برساتا ہے تو کہیں بارش، کسی کی دھوتی اچھالتا ہے تو کسی کی پگڑی ، کتے نے انسان کو کاٹ لیا تو معمولی خبر انسان نے کتے کو کاٹ لیا تو بریکنگ نیوز۔ واہ رے کیا کہنے ۔اگر پولیس ، آرمی یا رینجر کسی مطلوب دہشت گرد، چور ڈاکو یا گینگسٹر کو پکڑنے کے لیئے اپنی حکمت عملی اپناتے ہوئے کوشش کرتی ہے تو ہمارا آزاد میڈیا اس کی اتنی مشہوری کر دیتا ہے اور بار بار اپنے چینل پر اس کی کوریج دیتا ہے کہ دشمن مذید چکنا (ہوشیار)ہو جاتا ہے اسے پل پل کی خبر مل رہی ہوتی ہے ایسے حالات میں ضابطہ اخلاق کی پابندی کرانے والے ادارے سو کر اپنی نیندیں پوری کر رہے ہوتے ہیں اگر ایسا نہیں تو جب نجی ٹی وی پر اہلِ بیت کی شان میں گستاخی کی گئی تھی تو اس کی خلاف ایکشن لیتے ہوئے اسے تاحیات بند کیوں نہیں کیا گیا اگر اس وقت ایسا کیا جاتا تو باقی چینلز کو نصیحت ہو جاتی اور کبھی کوئی ایسا 
پروگرام نشر نہ کیا جاتا جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی۔اگر کوئی لڑکی گھر سے بھاگ کر شادی کر لے تواسے پسند کی شادی کا نام دے کر اس بے حیائی کو پھیلایا جاتا ہے اور خوب اس لڑکی کا ساتھ دیا جاتا ہے اور اسے ایک ہیرو کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ہمار ا اسلام پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے مگر بھاگ کر والدین کی عزت کو قدموں میں روند کر نہیں بلکہ ولی کا ساتھ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ایک اور زندہ مثال سوشل میڈیا کے ذریعے بلندیوں کوچھونے کے خواب سجائے ایک ماڈل ہے جس کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے سے تھا ، اس ماڈل گرل نے اپنے کیرئیر کی شروعات ایک بس ہوسٹس سے کی اور سوشل میڈیا کو استعمال کرتے شوبز کی دنیا میں اپنا مقام پیدا کرنے کی کوشش کی 2013 سے 2016 کا سفر اس خوبرو دوشیزہ نے بہت جلد طے کیا۔ اور اسی سال اپنے بھائی کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔اس قلیل مدت میں میڈیا نے اپنا کردار خوب ادا کیا اس ماڈل گرل کو اپنے چینل کی ریٹنگ بڑھانے کے لیئے خوب استعمال کیا اور تواور اسلام کا مذاق اُڑانے میں بھی اس ماڈل کو استعمال کیا اسے اتنی زیادہ کوریج دی کہ وہ ایک قلیل مدت میں اپنے آپ کو بالی ووڈ کی کسی مشہور ایکٹریس سے کسی بھی حال میں کم نہیں سمجھتی تھی ، آزاد میڈیا نے اس کے بھائی کی غیرت جگانے میں اہم کردار ادا کیا اور جب اس کی موت واقع ہوئی تو بڑی ہوشیاری اور مکاری سے اس واقع کو دوسروں پر ڈال کے چلتا بنا۔اللہ تعالیٰ مرحومہ پر ااپنی خاص رحمت اور جنت میں جگہ نصیب فرمائے آمین۔
میری باتیں بالکل عام سی اور سادہ سی ہیں لیکن میرا مقصد معاشرے میں ایک شعور بیدا ر کرنے کا ہے کہ ہماری زندگی میں اس آزاد میڈیا نے کیا کردار ادا کیا ہے ، اس سے ہمیں کتنا فائدہ اور کتنا نقصان پہنچا ہے ۔مارننگ شو میں میزبان خاتون کے اگر کپڑوں کی ہی بات جائے تو لگتا ہی نہیں کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ پروگرام دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو کلمہ کی بنیا د پر آذاد ہوا تھا ، جس میں شریعت محمدی ﷺ کے مطابق زندگی بسر کرنا تھا، اغیار کو کاپی کر کے ہمارا آزاد میڈیا ہمیں نیکی کا درس دیتا ہے تمام چینلز پر دشمن ملک کے تمام پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں گھر گھر میں کارٹون سے لیکر ڈرامہ فلم تک دشمن ملک کی دیکھائی جا رہی ہے انڈین کلچر پورے ملک میں عام ہو رہا ہے بچوں کی نفسیا ت پر اس کا گہرہ ا ثر پایا جا رہاہے ۔ (پروگرام ہوسٹس)سیٹ پر بیٹھی وہ حسینہ جس نے کم از کم 25 ہزار کا سوٹ پہنا ہوتا ہے وہ سادگی اور سادہ زندگی کا درس دے رہی ہوتی ہے ۔رمضان کریم میں اینکر حضرات ایک جید عالم اور مفتی کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں اور جیسے ہی چاند رات کا پروگرام کرتے ہیں تو جیسے راتوں رات انہوں نے خرافات و فحاشیا ت کی اعلیٰ ڈگری حاصل کر لی ہو۔
ٹی وی پر بیٹھا ایک اینکر بیک وقت بہت سے خوبیاں لیئے بیٹھا ہوتا ہے اللہ اللہ یہ کسی معجزے سے کم نہیں ایک انسان میں اتنی خوبیاں وہ ایک اچھا طبیب، ایک ماہر انجینیئر، بہترین موٹر مکینک، بہت ہی زبردست کُک (chef)ڈاکٹر ، اور ڈاکٹر بھی ایسا جس کے پاس تمام بیماریوں کا علاج موجود ہوتا ہے ایک شعلہ بیان مقرر اور سب سے بڑی خوبی اسلام کی سمجھ اور علم سے اس کا ہر پلو بھرا ہوتا ہے غرض ہر میدان میں وہ اپنی مثال آپ ہوتا ہے اس عظیم انسان پر کس قدر مہربان ہے میرا رب ذوالجلال جو بیک وقت اتنی خوبیوں سے کوٹ کوٹ بھر ا ہوتا ہے ۔
اس آزاد میڈیا کے بھی کیا کہنے امیر شہر کا بیٹا گم ہوجائے تو پوری کی پوری حکومتی مشینری کو جگا نے میں ایک بھر پور کردار ادا کرتا ہے اور غریب کی اولاد گُم ہو جائے تو ایف آئی آر لکھوانے میں کئی مسائل کا سامنا بیچارے والد کو اکیلے ہی کرنا پرتا ہے ، پنجاب میں آج کل ایک نیا مسلہ پیدا ہو گیا جس کا سدِباب ابھی تک نہیں کیا جا رہا اور ارباب اخیتار اپنی کرسی کے نشے میں مست سوئے ہوئے ہیں اور کئی ماؤں کے جوان سال کم عمر بچے اغوا کیے جار ہے ہیں ہماری التجا ہے کہ اس مسلے کی طرف حکومتِ وقت اور آزاد میڈیا مل کر توجہ دے اور اس کے ادراک میں اپناکلیدی کردار ادا کرے ۔
اسلام میں ذرائع ابلاغ کا مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے عوام الناس تک سچی اور صحیح خبر پہنچائی جائے اور اس میں مرچ مسالے کو استعمال نہ کیا جائے ذرائع ابلاغ (آزاد میڈیا)سچ کے اظہار میں کسی لالچ یامداہنت کا شکار نہ ہو اور صرف ایسی معلومات کی اشاعت کا بندوبست کریں جس سے عوام کے اندر نیکی اور تقویٰ کا عنصرپیدا ہووہ کسی ایسی خبر کی اشاعت سے ہرگز باز رہیں جس کا مقصد ان کے اخلاقیات پر حملہ کرنا ہویا اس سے دوسروں کی دل آزاری ہوجہاں میڈیا کو آزادی دی گئی ہے وہاں اسے بہت سی اخلاقی شرائط اور سماجی و معاشرتی قوانین کا پابند بھی کیا گیا ہے میڈیا کو آزادی دی گئی ہے اور کوئی اس آزادی کو سلب نہیں کرسکتا ساتھ ہی ساتھ میڈیا پر بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ حکومت وقت کے دیئے گئے ضابط اخلاق پر سختی سے عمل کریں اور معاشرے کی تعمیرو ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
مکمل تحریر >>

Thursday, 26 May 2016

یوم تکبیر ۔ آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا

بقول شاعر( میں کھٹکتا ہوں دلِ کفر میں کانٹے کی طرح)
قوموں کی زندگی میں بعض لمحات اتنے منفرد اہم اور تاریخی ہوتے ہیں کہ ان لمحوں کی اہمیت اور حثیت کا مقابلہ کئی صدیاں بھی مل کر نہیں کر 
سکتیں۔یہ منفرد قیمتی لمحات تاریخ کا دراصل وہ حساس موڑ ہوتے ہیں جہاں قوم اپنے لیئے عزت و وقار غرور و تمکنت ، زلت و رسوائی یا غلام محکومی میں سے ایک راستہ چُن لیتی ہے ، بزدل ، ڈرپوک ابن الوقت غلام ذہنیت کے لوگ ان تاریخ ساز لمحات کی قدر نہیں جانتے اور نہ ہی ان کے دل و دماغ کسی چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور نتیجتا ایسی قومیں غلام رہ جاتی ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑی بھی نہیں ہو سکتیں پھر ایسی قوموں پر ایک وقت ایسا آتا ہے جب یہ ماضی کے گرد میں کھو کر تاریخ کی بوسیدہ کتابوں کا حصہ بن جاتی ہیں پاکستانی قوم غیرت اور ملکی سالمیت پر مر مٹنے والی قوم ہے یہ ایک زندہ قوم ہے اور اپنے ہیروز کہ ہمیشہ یاد رکھنے اور ان کی خدمات کو سرہانے والی قوم ہے دشمن نے جب بھی للکارہ اس قوم کے غیور اور بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے 1965ء کی جنگ میں پاک فوج کے جوانوں کا جذبہ دیدنی تھاجب انہوں نے اپنے جسموں سے بم باندھ کر بھارت کے کئی ٹینک تباہ کیئے اور بھارتی سورماؤں کو جہنم واصل کیا۔
1947ء کو دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی اسلامی سلطنت جس کو مدینہ ثانی بھی کہتے ہیں ، یہ پہلا اسلامی ملک ہے جس کے پاس اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیئے اور دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے ۔ پاکستان جب سے آزاد ہوا ہمسایہ ملک بھارت نے اسے نقصان پہچانے میں کبھی کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی وہ اپنی جارحانہ حرکتوں سے باز نہیں آیا اور ہر وقت نقصان پہچانے کے لیئے کوئی نہ کوئی حکمتِ عملی اپنائے ہوا ہے ۔
1974ء میں بھارت نے پاکستان کو ڈرانے اور غرور کرنے کے لیئے دھماکے کیے اور ہر سطح پر پاکستان کو دھمکی آمیز لہجے کا استعمال شروع کر دیا، دشمن کا خیال تھا کہ وہ دھماکے کر کے پاکستان کو ڈرا دھمکا دے گا اور اس کی اس بزدالانہ حرکت سے پاکستان ڈر جائے گا اور یوں وہ اپنے آپ کو ایٹمی سپر پاور کہلائے گا، اس وقت کے نڈر اور بہادر وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹونے ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیئے اسے (پاکستان) کو ایٹمی قوت بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کا م کا آغاز ہو گیا، جب ہندوستان نے ایٹمی ڈھماکوں کا فیصلہ کر لیا تو پاکستان اس بات پر مجبو ر ہو گیا کہ اپنے ایٹمی پروگرام کو تیزی سے فروغ دے ، ایٹم بم بنانا کوئی آسان کام نہیں تھا ، دنیا کی کوئی بھی طاقت خواہ آپ کے کتنے قریب کیوں نہ ہو کسی بھی قسم کے ایٹمی پروگرام میں آپ کا ساتھ ہرگز ہرگز نہیں دیتی کیونکہ ہر ملک ایٹمی عدم پھیلاؤ تنظیم کے تحت پابند ہوتا ہے ۔7 سال کی دن رات کی محنت اور کوششوں کے بعد مئی 1983ء میں پاکستان نے اپنا پہلا کولڈ ٹیسٹ کر کے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے ۔
مجھے قائد اعظم کے وہ تاریخی جملے یا د آر ہے ہیں جب انہوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا( پاکستان کی حفاظت کے لیئے میں تنہا لڑوں گا جب تک میرے جسم میں خون کا آخری قطرہ تک موجود ہے مجھے آپ سے یہ کہنا ہے کہ آپ کو پاکستان کی حفاظت کے لیئے جنگ لڑنی پڑے تو کسی صورت ہتھیار نہ ڈالیں ۔ صحراؤں میدانوں جنگلوں اور سمندروں میں جنگ جاری رکھیں)
جس وقت پاکستان نے ایٹم بم کا کولڈ ٹیسٹ کیا اس وقت دنیا میں ایٹمی تجربات پر پابندی لگانے کی کوششیں تیزکردی گیں تھیں اور پاکستان کی حکومت کے لیئے ایٹمی ٹیسٹ کرنا ایک بہت بڑا چیلنج اور بہادری کا کام تھا۔ مئی1998 ء میں ہندوستا ن نے ایک بار پھر راجھستان کے علاقے میں ایٹمی تجربات کرنے کا فیصلہ اس کی خام خیالی تھی کہ وہ ایک عالمی سپر پاور بننے جا رہا ہے، تیرہ مئی 1998ء ہندوستان نے 5 ایٹمی دھماکے کیے۔ پاکستان ان دھماکوں کے جواب دینے کا بہت شدت سے انتظار کر رہا تھا 14 مئی 1998ء کو ڈیفنس کمیٹی آف دی کیبنٹ کا اجلاس وزیراعظم کی سربراہی میں ہوا اور میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو ایٹمی دھماکے کر کے بھارت کو بھر پور جواب دینا چاہیے ، ابھی دھماکوں کا فیصلہ ہی ہوا تھا کہ اس کی خبر امریکی صدر بل کلنٹن کوہو گئی ، امریکہ نے پاکستان کو قرضے معاف کرنے اربوں ڈالرامداد دینے اور اس کے بدلے ایٹمی پروگرام بند کرنے کے لیے دباؤ ڈاالا جانے لگا ایف سولہ طیارے جو پاکستان کی ملکیت تھے مگر امریکہ نے روک رکھے تھے وہ بھی پاکستان کو دینے کا وعدہ کیا ۔
پاکستان کی تاریخ میں 28مئی کا دن ایک تاریخی دن اور بہت بڑ ی اہمیت کا حامل دن ہے جب بھارت کے 5 دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے 6 دھماکے کر کے اپنی برتری ثابت کی۔ 28مئی 1998ء کو نمازِ مغرب سے پہلے ٹیسٹ ٹیم ہیلی کاپٹروں کے ذریعے چاغی سے خاران منتقل ہو گئی وہاں ایٹم بم کا ایک آخری ڈیزئن ٹیسٹ کیا جانا تھا یہ سائز میں چھوٹا تھا مگر طاقت میں چاغی والے بموں سے زیادہ تھا، پاکستان کے ایٹمی تجربات کی کامیابی نے پور ی ٹیسٹ ٹیم کو سجدہ ریز کر دیا اور زمیں کا 55 ڈگری سینٹی گریڈ گرم زمیں بھی سجدہ کو نہ روک سکی ، دشمن ان تجربات سے کافی خوف ذدہ ہو ا او اب اس کہ نظر آرہاتھا کہ جو خواب ان نے دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا اور بھارت دنیا میں ایٹمی طاقت بن کا سپر پاور نہیں بن سکتا۔ پاکستانی سائنسدانوں نے بھارت کے اس خواب کو خاک میں ملادیا تھا اور پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ بھی ممکن نہیں کہ کسی بیرونی جارحیت کے ذریعے پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات کو مکمل طور پر مٹایا جا سکے۔
پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہے جو کسی بھی جارحیت یا دشمن کا منہ توڑجواب دینے کی طاقت رکھتا ہے جو طاقتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام/ صلاحیت کے خلاف ہیں ان کے پاس اب صرف ایک راستہ رہ جات ہے کہ وہ پاکستان کو اندر سے کمزور اور غیرمستحکم بنایں اور پاکستان کو دہشتگرد ملک قرار دیا جائے اور اسے دنیامیں بد نام کیا جائے اور ایک ناکام ریاست بنادیا جائے ، دنیا کو شائد یہ معلوم نہیں کہ پاکستان کلمہ کی بنیاد پر معر ضِ وجود میں آیا ہے اور اسکی حفاظت اللہ جلہ شانہ ہی فرما رہے ہیں۔
آج دنیا جانتی ہے کہ پاکستان نے ایٹم بم اپنے مایہ ناز سائنسدانوں کی ان تھک محنت اور کوششوں سے بالکل اپنے طور پر بنایا ہے اور قابل فخربات یہ ہے کہ اس میں کسی غیر ملکی ایجنسی کی یا کسی غیر ملک کی امداد یا عنصر شامل نہیں ۔
پاکستان کا جوہری پروگرام پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نہایت اور موثر نظام کے تحت اپنی راہ پر گامزن ہے کیونکہ یہ پروگرام ارضِ وطن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی ممکن صلاحیت رکھتا ہے ملکی دفاع کو نا قابل تسخیر کا سہرہ بھی اسی پروگرام کو جاتا ہے۔28 مئی کا دن پاکستان میں یومِ تشکر اور یوم تکبیر کے طور پر منا یا جاتا ہے ہر سال ملک بھر میں یوم تکبیر بڑے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا تا ہے پوری قوم سر بسجود ہو کر اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتی ہے ملک بھر کی تمام سماجی غیر سماجی سیاسی غیرسیاسی جماعتوں کی جانب اس سلسلے میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ریلیاں نکالی جاتی ہیں ، جلسے جلوس اور سیمنار منعقد کیے جاتے ہیں۔

مکمل تحریر >>

Monday, 16 May 2016

ڈاکٹر مسیحا یا قصائی

ڈاکٹر مسیحا یا قصائی
زندگی انسان کو صرف ایک بار ملتی ہے اس میں اتار چڑھاؤ ، نشیب و فراز آتے رہتے ہیں انسان کو اچھے بُرے ہر قسم کے لوگ بھی ملتے ہیں زندگی ریل گاڑی کی طرح ایک پٹڑی پر چلتی رہتی ہے مختلف اسٹیشن آتے ہیں لوگ سوار ہوتے ہیں اور اتر جاتے ہیں کبھی کوئی ہمیشہ کے لئے آپ کا ساتھ نہیں دیتا ،بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنکو اچھے اور ہمیشہ ساتھ نبھانے والے دوست یا خیرخواہ ملتے ہیں زندگی دن بدن تیزی سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے (یعنی آخرت کیطرف)گھڑی کی سوئیاں ہر لمحے باور کروا رہی ہیں کہ مزید ایک پل کم ہو گیا ہے ، کسی نے کیا خوب کہا ہے گھڑی کی ٹِک ٹِک مسلسل ایک کڑی ضرب ہے زندگی کی سانسوں پر ، جو ایک ایک سانس کاٹ رہی ہے اور انسان کتنا نادان ہے جو زندگی کم ہونے کی خوشی مناتا ہے ۔ 
انسان فنا ہے اور ایک دن اپنے خالقِ حقیقی سے واپس جا کر ملنے والا ہے لیکن پھر بھی دنیا کی حرص اس قدر ہے کہ انسانیت تک بھول جاتا ہے ایک زمانہ تھا جب ہم لوگ سنتے تھے کہ ڈاکٹر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لیئے مسیحا ہوتا ہے وہ دکھی انسانیت کی خدمت کرتا ہے ، ڈوبتے کو تنکے کا سہارہ ہوتا ہے ، جہا ں عام انسا ن بیماری کے خلاف نا اُمید ہو جاتا ہے وہا ں ڈاکٹر روشنی کی کرن ہوتا ہے اور لوگ اس پیشے سے وابستہ لوگوں کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے جیسامیں نے پہلے کہا اچھے اور بُرے انسان ہر معاشرے اور ہر دور میں پائے جاتے ہیں ایسے ہی ڈاکٹرز میں بھی اچھے اور برے لوگ موجود ہیں کچھ لوگ محبت اور صرف خدمتِ خلق کے جذبے سے سر شار ہوتے ہیں تب نہ صرف لوگ ان کی عزت کرتے ہیں بلکہ ان کو اپنا مسیحا مانتے ہیں لیکن جب سے ڈاکٹر اور مریض کے رشتے نے گاہک کا رشتہ اپنایا ہے تب سے انسانیت تو جیسے فوت ہی ہو گئی ہو۔
ایک دوست کو اللہ جلہ شانہ نے بیٹی کی رحمت سے نوازہ ، ایک سال ہو گیا تھا مبارکباد دینے نہیں گیا تھا، اتفاق سے چھٹی تھی سوچا مبارکباد بھی دے آؤں اور اس کے گلے شکوے بھی دور کر آؤں، جب میں اس کے گھر پہنچا تو وہ خوشی سے پھولا نا سمایا ، مبارکباد دی وہ خوش بھی ہوا اوراسکے آنسو بھی آنکھوں سے ٹپکنے لگے ۔میں نے آنسوں کی وجہ پوچھی تو خاموش ہو گیا اور چائے کی طرف اشارہ کیا، میرے بے حد اصرار پر اس نے بتایا۔
میں ایک غریب انسان بارہ (12000)تیرہ ہزار روپے کماتا ہوں کرائے کا گھر ہے بتا ؤ ایسے میں پرائیویٹ ہسپتا ل کیسے برداشت کر سکتا ہے ، میں نے کہا آپ سرکا ری ہسپتا ل سے اپنا کیس کروا لیتے جس پر اس نے کہا چھ ماہ میں اپنے بیوی کو سرکار ی ہسپتا ل سے باقاعدہ چیک اپ کرواتا رہا ہوں ۔ رجسٹریشن کا رد بھی میرے پا س موجو د ہے ، لیڈی ڈاکٹر نے کہا تھا جب حالت نازک ہو گی تو فورا ہمارے پاس لے آنا ڈیلیوری کر دیں گے میں نے حسب ضرورت پانچ چھ ہزا ر پکڑے اور اسی سرکار ی ہسپتال لے گیا جہاں سے رجسٹریشن کروائی تھی اور ہر مہینے دو بار چیک کروانے جایا کرتا تھا ، جب ہم لوگ ہسپتا ل پہنچے توہمارے ساتھ بھیکاریوں جیسا سلوک کرنے لگے کبھی اس طرف لے جاؤ کبھی اُس طرف پھر جا کر میری بیوی کو اندر لے گئے اور 3 تین گھنٹون بعد واپس لے جانے کو کہہ دیا، ہم لوگ بہت پریشان تھے ایسا کیوں کر رہے ہیں انہوں نے کہا ہمارے پاس ڈاکٹر کم ہیں اور آپریشن کرنا پڑے گا نارمل ڈیلیوری نہیں ہوسکتی ہم آپریشن بھی ما ن گئے پھر کہنے لگے آپریشن تھیٹر ایک ہی ہے او ر مریض زیادہ لہذا آپ اپنے مریض کو لے جایں ہم نے فورا اپنے مریض کو ایک اور بڑے سرکاری ہسپتا ل میں لے گئے انہوں نے تو حد ہی کر دی ایک گھنٹے بعد کہنے لگے ہمارے پاس ان کا کوئی ریکارڈ نہیں لہذا جہا ں سے چیک اپ کرواتے تھے وہیں لے جایں ، بہت پریشان حال مریض کی طبیعت مزید بگڑتی جا رہی تھی وہ نازک سے نازک حالت میں ہوتی جا رہی تھی مگر ان قصائیوں پر غصہ آرہا تھا حکومت ان کو کتنی تنخواہیں دیتی ہے کتنی مرعات دیتی ہے اور یہ ایسا رویہ اخیتار کیے ہوئے ہیں بہت سے افسردہ حا لت میں ایک پرائیویٹ ہسپتا ل کا رخ کیا جہا ں جاتے ہیں انہوں نے 150000ایک لاکھ پچاس ہزار پہلے جمع کرانے کا کہا باقی ٹیسٹ وغیرہ لیں گے پھر بتایں گے مریض کے ساتھ کیا کرنا ہے اتنے زیادہ پیسے سنتے ہی میرے تو پاؤں تلے سے زمین جیسے نکل گئی ہو میں ایک غریب آدمی اتنی بڑی رقم کا بندوبست کہا ں سے کرتا ، اپنے مریض کو وہاں سے لیا اور باہر آکر بے بس رونا شروع کر دیا ایک دوست کو فون کیا اور ساری صورت حال سے آگاہ کیا رات نو 9 بجے سے صبح 6 بج گئے تھے مگر میری پریشانی بڑھ رہی تھی ، میرا دوست کچھ دیر بعد میر ے پاس آگیا اور ہم نے مزنگ کے قریب ایک نجی ہسپتال کارخ کیا ، وہا ں پر دو لیڈی ڈاکٹرز ہیں دونوں ماں بیٹی ہیں اور ان کے ہاتھ میں بھی چھر ی جس کے دو منہ ہوتے ہیں ان سے بات کی توکہنے لگی میرے پاس ٹائم نہیں جو انتظار کرتی رہوں آپریشن کروانا ہے تو بتایں میں نے پیسوں کی بات کی کو کہتی آپ کو معلوم نہیں پرائیویٹ ہسپتال میں سستا نہیں ہوتا چلو آپ پچاس ہزار جمع کراویں ۔میرے پاس تو اتنے پیسے نہیں تو کہتی جلد بتایں میں نے اور بھی کوئی کام کرنا ہے بڑی منتوں سماجتوں سے 45 ہزارروپے پے بات مان گئی ۔ یوں میرے دوست نے میری مدد کی اور میری بیٹی پیدا ہوئی۔
یہ صرف ایک واقع ہے ایسے بے شمار واقعات ہیں جو بیان سے بھی باہر ہیں دل خون کے آنسو روتا ہے کیا غریب آدمی اولا د پیدا کرنے سے پہلے ایک لاکھ روپے جمع کرے پھر اس نعمت کا سوچے ؟ ایک ڈاکٹر حکومت سے ایک اچھی تنخواہ لیتا ہے مرعات لیتا ہے ۔ ایک نرس جو کہ 16 و یں سکیل میں کام کرتی ہے جو سارے کام کرتی ہے وارڈ دیکھتی ہے ، ایمرجنسی میں کام کرتی ہے میڈ وائف ایک مخصوص کا م کے سوا کوئی کام نہیں کرتی جب کہ LHV صرف فون سننے میں مست رہتی ہے ڈاکٹر زصاحبان سیاسی بنیادوں پر آئے روز ہڑتا ل کرتے ہیں اور اپنے مطالبات منوانے کی خاطر ہسپتالوں میں کام نہیں کرتے، کبھی سوچااس وقت کتنے مریض اذیت کا شکار ہوتے ہیں کتنے مریضوں کو انتہائی نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور آپ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے فوت بھی ہو جاتے ہیں اور آپ صرف چند ٹکوں کی خا طر یا سیاسی مفاد کو پورا کرنے کے لیئے انسانیت کا خون کر دیتے ہیں۔ حکومیتں بلند و باگ دعوے کرتی ہے ، ہر طر ف پانامہ لیکس ، آف شور کمپنیاں ، کرپشن کا ذکر ہے ، ایک دوسرے پر الزامات کی بارش ہو رہی ہے ایک جماعت اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لیئے دوسری جماعت پر کیچڑ پھینک رہی ہے سب کے سب ایک دوسرے کے سامنے ننگے ہیں مگر کسی میں اتنی ہمت ہے کہ عام آدمی کے مسائل کے حل کے لیئے اسمبلی میں کوئی بل پاس کروائے۔ کسی کو میٹرو پر اعتراض ہے تو کوئی اورنج ٹرین کے پیچھے اپنی سیاست چمکا رہا ہے ، کیا اس درندگی سے بچنے کے لیئے بھی کوئی حکمت عملی بنائی ؟ ڈاکٹرز اپنی مرضی اور پیسووں کے لالچ میں ایک تندرست حاملہ خاتوں کا آپریشن کر دیتے ہیں 
کیا یہ کرپشن نہیں ؟ 
کیا یہ جرم نہیں؟
2015ء میں پنجاب اسمبلی میں عورتوں کے حقو ق اور ان کے تحفظ پر ایک قانون پاس کیا گیا جس کی رو سے عورتوں پر تشدد اور ان کی عزت کی خلاف ورزی جرم ہو گا تو جناب سرکار ی ہسپتالوں کے ڈاکٹرز جان بو جھ کر کیس نہیں لیتے کیوں کہ ہر ڈاکٹر نجی ہسپتا ل میں کام کرتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضو ں کا علا ج معالجہ کیا جائے پھر وہ اپنی کمیشن کہاں سے وصول کریں گے۔ حکومتِ وقت کو چاہیے جب بھی کو ئی ڈاکٹر سرکاری ملازمت اختیار کر ے اس کے لیئے لازم ہو کہ وہ کسی پرائیویٹ ہسپتا ل میں کام نہیں کرے گا ۔ 
سرکاری ہسپتالوں کے عملہ کی تربیت کی جائے کہ مریض اور لواحقین کے ساتھ نرمی سے پیش آیں ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ خدمت خلق اور انسانیت کے جذبے سے کام کریں تاکہ لوگ انہیں اپنا مسیحا مانیں نا کہ قصائی۔
مکمل تحریر >>

Monday, 9 May 2016

شوگر ایک جان لیوا مرض

شوگر ایک جان لیوا مرض
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقا ت پیدا کیا اور اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازہ۔ کھانے کے لیئے اناج، پہننے کے لیئے اچھے اچھے خوبصورت کپڑے اور ساتھ قراْنِ پاک میں اپنی نعمتوں کا اظہار بھی کیا کہ اے انسان ( اورتم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) بس انسان ہی ہمیشہ اپنے رب کی نعتوں کا نا شکرہ ہے ، تمام چیزیں اپنی جگہ لیکن سب سے عظیم نعت جو اللہ جلہ شانہ نے انسان کو نصیب کی ہے وہ ہے تندرستی ۔ انسان جتنا مرضی امیر ہو لیکن تندرستی نہ ہو تو سب سہولتیں بے کا ر ہوتی ہیں اگرچہ انسان معاشی طور پر کمزور ہو لیکن اللہ تعالیٰ کی اس نعمت یعنی تندرستی سے مالامال ہو تو اس جیسا امیر انسان دنیا میں کہیں نہیں۔
تنگ دستی اگر نہ ہو غالب
تندرستی ہزاز نعمت ہے
محنت سے انسان کامیابیوں کے منزلیں طے کرتا ہے اور آگے سے آگے بڑھنے کا جزبہ حضرتِ انسان میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے ، کامیابی پانے کے لیئے تندرستی بہت ضروری ہے اگر انسان تندرست اور توانا ہے تو وہ مشکل سے مشکل کام کو آسانی سے سر انجام دے سکتا ہے ۔بیمار آدمی تو محنت سے تنگدستی بھی دور نہیں کر سکتا۔انسانی جسم ایک مشین کی مانند کام کرتا ہے مشین کا ایک پرزہ بھی خراب ہو جائے تو ساری کی ساری مشین خراب ہو جاتی ہے ، اگر ساری خراب نہ بھی ہوتو اس کی کارکردگی میں بہت فرق آ جاتا ہے۔جب انسان کا کوئی عضو ٹھیک طور پر کام نہیں کرتا تو وہ بیمار آدمی کہلاتا ہے اور صحت کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتا نہ اپنے کام سنوار سکتا ہے اور نہ وہ دنیاوی کام سرا نجام دے سکتاہے نہ وہ اپنوں کے کام آ سکتا ہے اور نہ وہ دوسروں کی مدد کرسکتا ہے ، نہ وہ خدمت خلق کر سکتا ہے نہ قوم و ملت کے لیئے قربانی پیش کر سکتا ہے۔
شوگر ایک جان لیوا مرض ہے اگر پرہیز اور بر وقت علاج نہ کرایا جائے تو یہ انسان کو موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے ، یہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کو اندر ہی اند ر سے دیمک کی طرح کھاتا رہتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنا کام دکھاتی ہے پاکستان میں 2015ء کے سروے رپورٹ کے مطابق شوگر کے7 ملین سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ ایک انتہائی تشویش کا باعث ہے۔
شوگر کیا ہے ؟ شوگر کسے کہتے ہیں؟ ڈاکٹرز کے مطابق یہ ایک میٹابولک بیماری ہے یعنی جسم کے کسی مخصوص اعضاء کے نہ کام کرنے کی وجہ سے ہو سکتی ہے ۔اس بیماری کی وجہ سے خون میں گلوکوزکی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ گلوکوزجسم میں خلیہ تک جزب نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ہمارے جسم کو توانائی نہیں ملتی،گلوکوز کو انسانی خلیوں میں جذب ہونے کے لیئے انسولین کی ضرورت پڑتی ہے ذیابیطس میں ہمارا جسمانی نظام یا تو انسولین پیدا کرنے کی صلاحیت سے بالکل محروم ہو جاتا ہے یا جسمانی خلیات خون میں شامل گلوکوز کوجذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ ذیابیطس دو طرح کی ہوتی ہے اس کو ایسے بھی کہہ سکتے ہیں(شوگر)گلوکوزکی اس مقدار کو انسولین(لبلبے سے خارج ہونے والے ہارمون)کنٹرول کرتا ہے اور ایک حد سے زیادہ گلوکوز کی مقدار کوبڑھنے نہیں دیتااگر انسولین کی مقدار کم ہویا لبلبہ انسولین بنانا بند کر دے تو شوگر( ذیابیطس)کی بیماری نمودرار ہوتی ہے ۔
شوگر( ذیابیطس)عموما دو قسم کی ہوتی ہے ۔ 1۔ ٹائپ ون ذیابیطس 2۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس
اول ٹائپ ذیابیطس اکثر بچوں اور نوجوانوں میں نمودار ہوتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ لبلبہ انسولین بالکل نہیں بناتا، دوئم ٹائپ ٹو ذیابیطس نوے (90) فیصد ٹائپ ٹو ذیابیطس کسی بھی عمر کے افراد کو ہو سکتی ہے اس طرح کی مریضوں کے خون میں انسولین موجود ہوتی ہے مگر کام نہیں کر پا رہی ہوتی یا اس کی مقدار روز بروز کم ہوتی جا رہی ہوتی ہے ۔ شوگر کی کی وجہ سے بہت سے مہلک بیماریاں جبم لے سکتی ہیں اگر بر وقت علاج نہ کیا جائے اور ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق عمل اور پرہیز نہ کیا جائے تو موت واقع ہو سکتی ہے ۔آنکھوں کی شریانوں کی بیماری بھی لگ سکتی ہے ۔ کیونکہ شوگر سب سے پہلے الائیڈ آرگنز مفلوج کرتی ہے اور انسانی آنکھ سب سے کمزور آرگن ہوتا ہے جس پر اس کا بہت جلد حملہ ہوتا ہے اور آنکھ کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے۔دانت اور مسوڑھوں کی بیماری بھی لاحق ہو سکتی ہے اور خاص طور پر بڑی عمر کے لوگوں پر اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے ، کیونکہ دانتوں اور مسوڑھوں میں خوراک کا کوئی نہ کوئی زرہ رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے زیادو اثر اند از ہوتے ہیں۔دل کی شریانوں کی بیماری ،جسم میں چربی کی اضافی مقدار، کولیسٹرول کی زیادتی اور خون میں شکر کی وافر مقدار، شریانوں اور خاص طور پر دل کی شریانوں کو بند کر نا شروع کر دیتے ہیں جس سے ہائی بلڈ پریشر ہو جاتا ہے جو آگے جا کردل کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے ۔گُردے کی شریانوں کی بیماری،خون کے گاڑھے ہونے کی وجہ سے گردے بھی متاثر ہوتے ہیں۔اور آہستہ آہستہ گردے ناکارہ ہوجاتے ہیں۔جنسی بیماریاں۔شوگر(ذیابیطس )کا مرض جسم کے ہر حصے کو متاثر کرتا ہے حتیٰ کہ یہ جنسی حصوں کو آہستہ آہستہ مفلوج کرنا شروع کردیتی ہے ۔ان کی افادیت میں کمی واقع کردیتی ہے خواتین کی نسبت مرد حضرات اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اعصاب اور خون کی شریانوں کی بیماری۔جسم کے تمام اعصاب اورخون کی شریانیں اس بیماری سے متاثر ہوتی ہیں خون میں شکر کی زیادتی کی وجہ سے جسم میں خون کی سپلائی میں خلل پیدا ہوتا ہے اور ان میں سخت درد ہوتا رہتا ہے اس لیئے زیادہ ورزش کو تر جیح دی جاتی ہے ۔اگر شروع میں اس مرض کو نہ روکا جائے تو یہ بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔ پاؤں کی بیماریاں۔شوگر کا مریض زیادہ تر پاؤں میں درد کی زیادہ شکایت کرتا ہے اس مرض کو ڈاکٹری زبان میں پولونیورو پیتھی(Poly Neurpathy)کہتے ہیں۔اس تکلیف سے بچنے کا بہترین طریقہ ورزش ہے ۔
علاج ، ہدایات و احتیاتی تدابیر۔
جب لیبارٹریز کی رپورٹس اور دیگر تجزیاتی عمل کے بعدشوگر کی موجودگی کا علم ہو جائے تو اس مرض کا باقاعدہ طور پر علاج کروانا چاہیے کیونکہ یہ طویل عر صہ پر محیط علاج ہوتا ہے جن میں انسولین تھراپی اور دیگر انٹی ڈیباٹک (Antidiabtic)ادویات مسلسل استعمال کرنی ہوتی ہیں کسی مریض کو انسولین کی کم مقدار کی ضرورت ہوتی ہے تو کسی کو زیادہ، ایک تندرست انسان کی پینکریازروزانہ 50 یونٹ انسولین بناتے ہیں اور خون میں داخل کرتے ہیں۔ اس مرض میں مریض کو اپنی بلڈ شوگر کو خود کنٹرول کرنا یعنی کم از کم 40 منٹس ورزش کو معمول بنانے سے بلڈ شوگر کو کافی حد تک کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔مریض کو اپنی روز مرہ کی خوراک پر توجہ دینا ہوگی اور مناسب تبدیلی لانا ہو گی۔ ایک دم پیٹ بھر کر کھانا کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ وقفہ وقفہ سے کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا چاہیے۔ خو د انتظامی (self management) اس مرض کا بہتریں علاج ہے یعنی اپنی شوگر کو بار بار چیک کرتے رہنا اور ادویات کو باقاعدہ استعما ل کرنے سے اس مہلک بیماری سے لڑا جا سکتاہے
سگریٹ نوشی ، شراب نوشی ترک کر دینی چاہیے تا کہ مزید پیچیدیگیوں سے بچا جا سکے۔مریض کو میٹھی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے، اور خاص کر بیکری آیٹمز سے جتنا زیا دہ پرہیز کیا جا سکے کرنا چاہیے۔تازہ پھل اور سبزیاں مناسب مقدار میں کھانی چاہیں یا پھر ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا چاہیے، کھانا وغیرہ کولیسٹرول فری آئل میں پکا کر کھانا چاہیے۔ روازنہ پیدل چلنا چاہے اور ورزش کو اپنا معمول بنانے سے اس مہلک مرض سے بچا جا سکتا ہے۔اور اپنے معالج سے رابطے میں رہنا چاہیے۔
اللہ ہم سب کو صیحت اور تندرستی عطا فرمائے۔آمین
مکمل تحریر >>

Sunday, 8 May 2016

http://universalurdupost.com/?p=36167 (my new column published on universal urdu post)

 (my new column published on universal urdu post)
مکمل تحریر >>

Friday, 6 May 2016

ماواں ٹھنڈیاں چھاواں



ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
بقول شاعر۔
یہ کہہ کر میں فرشتوں سے جنت میں چلا جاؤں گا                              
کہ میں اپنی ماں کے قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہا ہوں۔                              
دنیا آنکھ ہے تو ماں اس کی بینائی، دنیا پھول ہے تو ماں اس کی خوشبو، سخت سے سخت دل کو ماں کی پرنم آنکھوں سے نرم کیا جا سکتا ہے ۔زندگی میں ایک ایسا رشتہ جو بغیر کسی لالچ کے دکھ درد بانٹتا ہے اور پیار کرتا ہے تو وہ ہے ماں۔لفظ ماں کے ساتھ میرے لور ی کے الفاظ نہیں گونجتے ، کوئی لاڈ یا پیار کا لفظ بھی دور  تک نظر نہیں آتا،بس دو آنکھیں ہیں جن میں کبھی پیا ر امڈتا ہے تو کبھی غصہ۔
ماں کی محبت اور اس کی اہمیت کے لیئے جب بھی قلم اُٹھایا تو مجھے لگا جیسے لفظ کم پڑ گئے ہوں میں لکھتے لکھتے صبح سے شام کر دوں تو بھی شاید ا س عظیم ہستی کا ایک پہلو بھی بیا ں نہ کر سکوں ، ماں کی بے پایاں محبت کوشاید لفظوں میں نہ ڈھال سکوں اور نہ ہی کوئی ایسا پیمانہ بنا ہے جس سے جنت کی اس ملکہ کے پیا ر کو ناپا جا سکے ۔خدمت اور خلوص کی اس عظیم ہستی کو سمجھنا بھی جوے شیر لانے کے برابر ہے ، خود بھوکی رہ کر اولاد کے پیٹ کو بھرنے والی کی عظمت کو سلام، لفظ ماں جیسے زبا ن پر آتا ہے گویا بے جان جسم میں جان آجاتی ہے خوشی کی ایک لہر پورے وجود میں دوڑ جاتی ہے اس سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی رب ذولجلال نے دنیا میں پیدا ہی نہیں کی ۔دھوپ ہو چھاؤں ، آندھی ہو طوفان اس کی محبت اور پیار میں کمی نہیں آتی ۔ وہ کڑی دھوپ میں ایک سائباں کے طرح اسکی تپش سے بچا لیتی ہے اور اس کی گرم گود سردی کی سرد ہواؤں سے بچا لیتی ہے ۔خود کانٹوں پر چلتی ہے اور اولاد کو پھولوں کی سیج مہیا کرتی ہے ۔دنیا جہان کے غموں کو اپنے آنچل میں سمیٹ لیتی ہے مگر لبوں پر مسکراہٹ سجائے زندگی کے ساتھ رواں دواں رہتی ہے 
8مئی کو پوری دنیا میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن منایا جا تا ہے جس کا مقصد ماں کی اہمیت کو اجا گر کرنا اور ماں کی خدمت کو سراہنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں حکم دیا ہے:(اور اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آیا کرو) ماں نو ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں رکھتی ہے اور اللہ اس کی حفاظت فرماتے ہیں، ماں گرمی سردی میں اولاد کا خیال رکھتی ہے ایک اور جگہ پر اللہ جلہ شانہ نے والدین کے لیٗے خصوصی دعا مانگنے کا حکم دیا۔ :(رب ارحمھماکما ربیانی صغیرا): جس کا ترجمہ ہے اے میرے رب میرے والدین پر رحم فرما جیسے انہوں نے مجھ پر بچپن میں کیا۔یعنی مجھے چلنا نہیں اتا تھا ، اپنا نام تک معلوم نہیں تھا ،تب میرے ماں نے مجھ پر رحم کیا اور مجھے چلنا سیکھایا ۔
ماں کی قدروقیمت کی اہمیت کے لیئے ہمارے آقا کریم ﷺ فرماتے ہیں ۔ محمد ﷺ اگر فرض نماز پڑھ رہے ہوں اور مجھے میرے ماں بلائے تو قسم ہے رب زوالجلال کی جس کے قبضے میں میری جاں ہے میں نماز چھوڑ کر پہلے ماں کی بات سنوں گا۔ خدا نے اس کی عظمت کو بلند کرنے کے لیئے جنت کو اس کے قدموں میں رکھ دیا اب جس کا جی چاہے اس کی خدمت کر کے اس کی عزت کر کے جنت حاصل کرلے ۔( الجنت تحت الاقدام المھات) جنت ماں کے قدموں میں ہے اللہ تعالیٰ جلہ شانہ نے بھی ماں کی اہمت کو اپنے اس انداز میں بیاں فرمایا۔ اور اللہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ انسان سے محبت کرتا ہے ۔ایک مرتبہ ایک صحابی نے آپ ﷺ سے دریافت کیا میرے ماں با پ میں سے مجھ پر زیادہ کس کا حق ہے جس پر آپ ﷺ نے والدہ کے بارے 3 مرتبہ کہا پھر چوتھی بار والد کے حق کی بات کی۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی ماں کی وفات کے بعد اللہ جلہ شانہ سے ہم کلام ہونے جا رہے تھے کہ راستے میں ٹھوکر لگنے سے گرنے ہی لگے تھے کہ آواز آئی :اے موسیٰ: سنبھل کر چل اب تیرے پیچھے دعا کرنے والی ماں نہیں ہے ۔وہ ماں ہی ہے جو نہ کبھی احسان جتاتی ہے اور نہ ہی اپنی خدمت کا صلہ نہیں مانگتی ہے بلکہ کوہلوکے بیل کی طرح کام کرکے بھی اس کے چہرے پر پریشانی یا تھکن نمودار نہیں ہوتی بلکہ اولاد کی خوشی کی خاطر اس کے چہرے پر رونق اور مسکرا ہٹ رہتی ہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت ان پر نچھاور کرتی رہتی ہے ۔دنیا کا ہر رشتہ کسی نہ کسی غرض سے منسلک ہوتا ہے مگر دنیا میں ماں ایک ایسا عظیم رشتہ ہے جو بے غرض اور بے لوث ہوتا ہے آپ دنیا کے کسی کونے میں چلے جایں ماں کی دعایں سائے کی طرح پیچھا کرتی رہتی ہے ، ماں اپنی اولاد کے خاطر تقدیر سے لڑ جاتی ہے ماں اولاد کی پر یشانی کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے اور اس کی دعاؤں سے بڑی سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے۔
اکثر لوگ کہتے ہیں ایسے دن منانا مسلمانوں کا کام نہیں یہ غیر مسلم لوگ مناتے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے جو ماں بچپن میں بچوں کو پالتی پوستی ہے انکی ضرورتوں خیال رکھتی ہے جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو اولڈ ہاؤس کیوں بھیج دیے جاتے ہیں
اولڈ ہاؤس بھی تو غیرمسلموں کے طریقوں میں سے ایک ہے ۔ کتنی مائیں ہیں جو اپنی اولاد کی شکل دیکھنے کو سالہاسال سے ترس رہی ہیں
کیا اسی دن کے لیئے اس بوڑھی ماں نے دعائیں مانگی تھیں اور جنم دیا تھا۔ ماں کی بد دعا سے بچنا چاہیے اس کی بد دعا عرش کو ہلا دیتی ہے وہ لوگ سچ میں بڑے بد نصیب ہوتے ہیں جو اس عظیم ہستی کی نافرمانی کرتے ہیں وہ نہ صرف اس دنیا میں ذلت کی زندگی گذارتے ہیں بلکہ اپنی آخرت کو بھی بربا د کرلیتے ہیں۔ماں کی نافرمانی کو بہت بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ ماں وہ ہستی ہے جس نے اپنے بچوں کو اپنا خوں پلا کر ان کو پالا پوسا خو د گرمی سردی ، بھوک پیا س ، دکھ برداشت کیے اپنی خواہشوں کو قرباں کیا۔ کیا ایسی ہستی دنیا میں اور کوئی ہے؟ اس کی محبت کا بدل کوئی ہے؟وہ محبت کا ایک سمندر ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا۔جس گھر میں ماں نہیں وہ گھر قبرستاں کی مثل ہے۔ 
بقول شاعر جن کے سر سے ماں کا سایہ چھن جاتا ہے 
مائے نی میں کنوں آکھاں۔درد وچھوڑے دا حال نی
دھواں دُھکھے میرے مرشد والا۔جاں پھُلاں تاں لال نی
جنگل بیلے پھراں ڈھوڈھیندی۔ اجے نہ پائیولال نی
دکھاں دی روٹی سُولاں دا سالن۔آہیں دا بالن نال نی
مکمل تحریر >>

Monday, 4 April 2016

M Tahir Tabassum Durrani

اسلام و علیکم
مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائِ خوشی محوس ہو رہی ہے کہ مجھے پاکستان فیڈریل یوںین آف کالمسٹ کے پراجیکٹ کے تحت چھپنے والے کالم پواینٹ کے لییَے میحھے کالم ایڈیٹر بنا دیا گیا ہے یہ سب آپ سب کی دعاوں کا نتچیہ ہے

خیراندیش
محمد طاہرتبسم درانی
کالم ایڈیٹر کالم پوایںت
مکمل تحریر >>

Sunday, 6 March 2016

وطن کا پاسبان میاں نواز شریف ۔از محمد طاہر تبسم درانی

وطن کا پاسبان میاں نواز شریف
عظیم قربانیوں کی داستان سمیٹے 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک مسلمان ملک نے جنم لیا جو پہلے دن سے زیادتیوں اور نا انصا فیوں کی بھینٹ چڑھتا رہا ، پہلے ہندؤں نے ظلم وستم کیئے پھر انگریز سرکار نے مسلمانوں کی عزتوں اورعصمتوں کو لوٹاایسے میں ایک عظیم شخصیت نے اپنی علمی و سیاسی بصیرت سے ایک آزاد ریاست کو قائم کیا جو آج ایک ایٹمی طاقت اور دنیا میں اپنا مقام رکھتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ بہت ترقی کی مگر پھر بھی آزادی کے وہ ثمرات جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا وہ شائد حکمرانوں کی عیاشیوں کے نظر ہو گئے، آج بھی ملک میں غربت ، بے روزگاری ، سٹریٹ کرائم ، ٹارگٹ کلنگ ،رہزنی اور عصمتوں کی نیلامی جیسے واقعات عام ہیں۔ ایسے حالا ت میں قوم کو ایک ایسے مرد حق کی اشد ضرورتھی جو روز بروز بگڑتی ہوئی صورت حال کوکنٹرول کرتا، ملک سے بد امنی ، دہشتگردی ، ٹارگٹ کلنگ کو ختم کرتا، پھر اللہ نے اس پریشان حال قوم کی سن لی اور 25دسمبر 1949ء میں میاں شریف کے گھر ایک بچے نے جنم لیا، میاں شریف ہندوستان کے شہر امرتسر سے پاکستان بننے کے بعد ہجرت کر کے لا ہور تشریف لائے ، میاں صاحب ایک درمیانے درجے کے کاروباری (بزنس مین)تھے۔
میاں محمد نواز شریف نے ابتدائی تعلیم سینٹ اینتھونی ہائی سکول لاہور سے حاصل کی، گورنمٹ کالج لاہور سے بی اے کی ڈگری حاصل اور اور قانون کی ڈگری کے لئے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا، میاں صاحب ایک ہونہار طا لب علم تھے، تعلیم مکمل کرنے کے بعد میاں صاحب نے اپنا ذاتی سٹیل کا پلانٹ لگایا اورمحنت سے اس پر کام کرنا شروع کردیا ، اُن کے اسی لگاؤ نے ان کو سیاسی سرگرمیوں میں لگا دیا، باپ نے میاں نواز شریف کی سیاسی سرگرمیوں اور عوام میں مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ان کو جنرل ضیاء الحق سے جنرل غلام جیلانی خان کے حوالے سے ملوایا، بس یہ پہلی سیڑھی تھی جس پر میاں صاحب نے قدم رکھا اور سیاست میں باقاعدہ داخل ہو گئے
1981ء کے اوائل میں گورنر پنجاب جنرل غلام جیلانی خان کی سربراہی میں میاں صاحب پنجاب ایڈوائزری کونسل کے ممبر منتخب ہوئے
یہاں سے آپ کے سیاسی سفر کاآغاز ہوا،میاں صاحب نے نہ صرف اپنے حلقے میں ترقیاتی کام کیے بلکہ پور ے صوبے میں ترقی اور تعلیم جیسے منصوبوں پے کام کر کے عوا م کے دلوں میں جگہ بنا لی۔ مخالفین نے خوب مخالفت کی مگر میاں صاحب نے بلکل پرواہ نہ کرتے ہوے کامیابی سے اپنے سفر کو جاری و ساری رکھا،لیفٹینٹ جنرل غلام جیلانی خان کی فوجی حکومت کے تحت میاں صاحب کوعبوری وزیرخزانہ کے طور پر قلمدان تھمایا گیا جس کو میاں صاحب نے بڑی دیانتداری سے استعمال کیا ، تمام اداروں کو مضبوط کیا، میاں صاحب کو لوگوں کے دکھ درد کا علم تھا اس لیے انہوں نے جلد ہی عوام میں مقبولیت حاصل کر لی۔ انہوں نے بطور وزیرخزانہ ترقی پر مبنی ایک بجٹ پیش کیا
1985ء میں نئے منتخب وزیراعظم محمد خان جونیجو دیہی علاقے سے ملک اللہ یارکو وزیر اعلٰی لانے چاہتے تھے مگر قسمت نے میاں صاحب کے حق میں فیصلہ کیا 1985ء کے غیرسیاسی جماعت کے الیکشن میں میاں نواز شریف نے کامیابی حاصل کی اور پنجاب کے وزیراعلٰی منتخب ہوئے اسی کامیابی نے میاں صاحب کے نام کے ساتھ ایک اور نام : شیر پنجاب دا: کا بھی اضافہ ہوا، لوگوں کی دکھ درد کو سمجھنا اور عام انسان کی خدمت میاں صاحب کا اولین ترجیح ہوتی تھی جس کے وجہ سے روز بروز ان کی شہرت میں اضافہ ہوتا چلاگیا سیاست کو خدمت سمجھ کر کرنے والے اس شیر پنجا ب نے کئی ایسے فلاحی اور ترقیاتی منصوبے شروع کیے جن کا مقصد صوبے میں امن و امان کی بحالی اور لوگوں میں خوف وہراس کے فضاکو ختم کرنا تھا 17 اگست1988ء میں جنرل ضیاء الحق ایک فضائی حادثے میں انتقال کر گئے جس کے بعد سیاست میں تغیانی پیدا ہو گئی تما م سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے حلقوں میں انتخابی مہم شروع کر دی انہی دنوں میں میاں نوازشریف نے مسلم لیگ نون اپنی الگ پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور اس طرح 1990ء کے جنرل الیکشن میں ایک بھار ی مینڈیٹ سے پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہو کر اسمبلی میں آئے حکومت کے دو سال کے بعد 1992ء میں میاں صاحب نے پورے ملک سے کرپشن ، رشوت ستانی ، اور شر پسند وں اور ایسے دوسرے اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے مگر شائد ان کیاس عمل سے سیاہ کرتوں کے مالک خوش نہ تھے اور ملکی حالا ت ناسازگار ہوتے گئے 18 اپریل 1993ء کو جنرل غلام اسحاق خان نے آتھویں ترمیم کے تحت اسمبلیاں طوڑ دیں اور نواز شریف کو برطرف کردیا۔نوازشریف نے اپنے دور حکومت میں کئی شہروں میں فلاحی اور ترقیاتی منصوبے ترتیب دیے جن میں گوادر بندرگاہ غازی بروتھا جیسے عظیم پراجیکٹ لگائے جو ملکی معیشت اور براہ راست عوام کی فلاح کے لیئے تھے اس کے علاوہ کئی ٹکینکل ٹریننگ سنڑ کا قیام عمل میں لائے جس سے ملک میں ہنرمند افراد عزت سے اپنا روزگار کما سکیں اس کے علاوہ یلوکیب سکیم (پیلی ٹیکسی)کو متعارف کرایا جس سے کئی غریب خاندانوں نے عزت سے روٹی کمانا شروع کر دی۔
1997ء میں ملک میں ایک بہت بڑی جماعت پیپلزپارٹی کو شکست دے کر ایک مرتبہ پھر ملک پاکستان کے وزیراعظم بنے اور اس بار پنجاب کا وزیراعلی ان کا بھائی میاں شہبازشریف بنا۔
اسی سال میاں صاحب نے دہشتگردی کے خلاف ایکٹ پر دستخط کیے اور باقاعدہ طور پر دہشتگردی کے خلاف مخصوص عدالتوں میں کاروائی کا منصوبہ بنایااپنے اسی دور میں میاں صاحب نے خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل کی ۔
کسی بھی ملک کی کامیابی کے لیے مواسلات اور ذرائع آمدو رفت کو ریڑھی کی ہڈی سمجھا جاتا ہے اگر نظام آمدورفت بہتر ہو گا تو بیرون ملک سے لوگ بزنس کے لئے آتے ہیں جو ملکی معشیت میں سنگ میل ثابت ہوتا ہے ، اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوے میاں صاحب نے لاہو ر سے اسلام آباد کو ملانے کے لیے موٹر وے کا سنگ بنیاد رکھا۔ مخالفین نے اس کی سر جوڑ کر مخالفت کی اور تو کچھ لوگوں نے تو یہ بھی کہا میاں صاحب پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں ،لیکن جب یہ منصوبہ اپنے پایہٗ تکمیل کو پہنچا تواس کے ثمرات خاص سے لیکر عام آدمی تک پہنچے۔28مئی 1998کے نیوکلیردھماکوں نے میاں صاحب کا گراف اور بلند کر دیا اور عوام میں مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا اور پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک ایٹمی طاقت بن گیا۔
اکتوبر 1998میں جنرل جہانگیرکرامت مستعفٰی ہو گئے اور میاں صاحب نے پرویز مشرف کو فوج کا سپاہ سالار بنا دیا۔لیکن بعد میں مشرف نے نواز شریف کو بہت سی مشکلات سے دوچار کردیا۔اس مخالفت کی وجہ سے فوج اورحکومت میں ایک عجیب سی خلیج قائم ہوگئی اور ایک بار پھر ملکی حالا ت غیر مستحکم ہو گئے1999ء میں کارگل جنگ کا سامنا ہواجس میں بھارت اور پاکستان دونوں کو کافی جانی اور مالی نقصان ہوا لیکن امریکی صدر بل کلنٹن کے دباؤ کی وجہ سے جنگ بندی ہوئی اور دونوں ملکوں کی فوجیں واپس چلی گیءں۔میاں صاحب عوام میں بہت مقبول تھے لیکن ان کو طیارہ اغواہ کیس میں پھنسایا گیا اور یوں زبردستی مشر ف نے حکومت سمبھال لی۔مشرف نے اسی کیس میں میاں صاحب کو جلا وطن کر دیا اور میاں صاحب نے سعودی عرب کو اپنا گھر بنایا اور وہاں سکونت اختیار کی۔اور مسلسل آٹھ سال وطن سے دوری برداشت کی قسمت کی دیوں پھر ایک بار میاں صاحب پر مہربان ہوئی 25نومبر 2007 ء میاں صاحب وطن واپس تشریف لائے ان کی جماعت اور دوسرے پیارکرنے والوں نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے اپنے عظیم لیڈر ، قائد جمہوریت کا استقبال کیا اور جنوری2008ء میں فوجی حکومت سے نجات ملی اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔
11 مئی 2013ء کے عام انتخابا ت میں مسلم لیگ نون نے بہت بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی اس بار اس الیکشن میں ان کو پاکستان کی نئی ابھرتی جماعت پی ٹی آئی سے سخت مقابلہ کرنا پڑا لیکن کامیابی میاں صاحب کا مقدر بنی مسلم لیگ نون نے قومی اسمبلی کی 126سیٹیں حاصل کیں۔
میاں صاحب نے ملک سے بد امنی کو ختم کرنے کا ارادہ کیا اور ملک سے دہشتگردی کو ختم کرنے کے لئے قوم کے سپوت جنرل راحیل شریف سے مل کر ضرب عضب شروع کیا، نوجوانوں کو تعلیم کی زیور سے نوازنے کے لیئے کئی پالیسیاں ترتیب دیں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون اور ساتھ لیکر چلنے کی روش ڈالی ، ہونہار طالبعلموں کے لیئے لیپ ٹاپ، سرکاری سکولوں میں مفت کتابیں،فرنیچر ، سائنس لیبارٹریز ، کمپیوٹر لیب، طالب علموں کے لےئے مفت سولر انرجی سسٹم ، بزرگ شہریوں کی پنشن کے لیئے بنکوں کی سہولت، شہریوں کی سہولت کے لئے میٹرو بس ، اورنج ٹرین ،گرین بس سسٹم ، اور ایسے کئی انگنت منصوبے ہیں جس پر کام ہو رہا ہے اور بجلی کے جن پر جلد قابوں پانا اولین ترجیح ہے ۔موجودہ دور میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی سے غریب عوام کو ریلیف ملے گا، مہنگائی پر قابوپانا آسان ہو گا۔میاں صاحب کی حکومت کو ہمیشہ سے مسائل سامنا رہا ہے اور سب سے بڑا مسلہ دہشتگردی کو ختم کرنا ، کراچی کے حالات میں بہتری، ٹارگٹ کلنگ میں خاطر خواہ کمی اور اتنے بڑے شہر میں امن میاں صاحب کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, 23 February 2016

این سی سی تربیت لازمی قرار دی جائے

14 ۔اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی آزاد ریاست مملکت خداداد نے جنم لیا جس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے اس کی بنیاد کلمے پر رکھی گئی ۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی دونوں سرحدوں پر دشمن ڈیرے ڈالے اس کی بنیادوں کو دیمک کی طرح کھانے کے انتظار میں دن رات ایک کیئے ہو ئے ہے۔پہلے دن سے ہی انگریز سرکار کا جھکاؤ بھار ت کی طرف رہا بونڈری لائین کے وقت ریڈ کلیف نے وہ علاقے بھی بھارت کی گود میں ڈال دیئے جو پاکستان کے حصے میں میں آنے تھے، ابھی بھی انگریز سرکار کا دل نہیں بھرا تھا کہ اس نے اثاثوں کے تقسیم میں بھی بے ایمانی اور پاکستان کونقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔پہلے دن سے پابندیوں میں گھرا پاکستان جب بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے راہ میں کوئی نہ کوئی روکاوٹ کھڑی کر دی جاتی ہے ۔
بھارت پاکستان کا دشمن اور امریکہ سرکارکا دوست ملک ہے جو پاکستان کو اندرونی اور بیروانی طور پر نقصان پہچانے میں کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اگر دوسرے طرف دیکھا جاے تو افغانستان ایک اسلامی ملک ہے جس نے پاکستان کوالگ آزاد ریاست ماننے سے انکارکیا ۔ امریکہ جو پوری دنیا کو اصلحہ فروخت کرتا ہے وہ دہشتگردی ختم کرنے کے لےئے ایک مدت سے افغانستان میں مقیم ہے ۔پاکستان اپنی بقا اور سرحدوں کے حفاظت کے لیئے کو ئی عملی کام کرنا چاہے تو ہمیشہ سے پابندی اور روکاوٹ پید ا کردی جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس بھارت کے ساتھ امریکہ کے معاہدے طے ہوتے ہیں ۔بھارت پاکستان کو ہمیشہ دہشت گرد ملک گردنتا ہے تو کبھی پاکستان کا پانی بند کر کے نقصان پنہچاتا ہے ، کبھی پانی کو اتنا زیادہ چھوڑتا ہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقے سیلاب کی نظر ہو جاتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے بھارت کے ساتھ امن اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتا آیا مگر بھارت نے کبھی سمجھوتہ ایکسپریس میں لاشوں کے تحفے بھیجے تو کبھی اشتعال انگیز فائرنگ اور گولہ باری کر سرحدوں پر بے گناہ لوگوں کو خوں میں نہلایا۔مگر افسوس اقوام متحدہ نے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی۔ پاکستان کی عمر اس وقت 69 سال کے لگ بھگ ہے جس میں دو بڑی جنگیں لڑ چکا جس سے نہ صرف اس کے بقا کو نقصان پہنچا بلکہ معاشی لحاظ سے بھی بہت پیچھے چلا گیا۔اس وقت ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے اور پاکستان کی تمام فورسز بہادر ی سے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہیں جن پر بطور پاکستانی ہمیں ناز ہے ۔ اگر نوے کی دہائی کا ذکر کیا جائے تو آج کی نسبت بہت امن اور سکون تھا، آج ہم بے چینی ، اضطراب، بے روزگاری ،خودکش بمبار ، فائرنگ سٹریٹ کرائم اور ایسے کئی بے شمار جرم ہیں جس نے ملک کا امن تباہ کر رکھا ہے اور اگر دیکھا جائے تو الیکٹرانک میڈیا نے بھی ا س بے چینی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ، رات کو ہر ٹی وی چینل پرافراتفری کا آلم دیکھا کر اور سیاست دانوں کے درمیا ن ایک نہ ختم ہونے والی رنجشیں دیکھا کر عوام کو آپس میں لڑانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے قوم اپنی امیدیں کھور ہی ہے یوتھ یعنی نوجوان نسل بھی بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے ، کسی بھی قوم کا خالص اثاثہ اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے ۔ صلاح الدین ایوبی کا قو ل ہے جس قوم کہ ختم کرنا ہو اس کی نسل کو بے حیائی پر لگا دو ۔لیکن یہ سب کچھ ہونے کی باوجود پاکستا ن کی نئی نسل کو اک امید باقی ہے وہ جانتے ہیں انشاء اللہ پاکستان میں ایک روشن صبح ہوگی جس سے سارے اندھیر ے چھٹ جائیں گے۔
صدر پرویز مشرف نے 2002ء میں این سی سی کی تربیت جو کہ ایک نہایت اچھا عمل تھا اس کوختم کر دیا گیا، اسی کی دہائی میں شروع ہونے والی یہ تربیت کسی بھی ملک کی خوشحالی کی علامت سمجھی جاتی ہے آج جب بھارت پاکستان کے قبائلی علاقوں ، فاٹا اور بلوچستان میں غیراعلانیہ جنگ لڑ رہا ہے اور پاکستان کے غیرت مند سپوت جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ملک کی شان اور عزت بچانے میں سرگرم ہیں ایسے حالات میں دشمن کے دانت پھیکے کرنے کے لیئے اپنی نوجوان نسل کو این سی سی کی تربیت دینا لازمی عمل قرار دیا جائے ، اگر اس تربیت کو نہ ختم گیا ہوتا تو آرمی پبلک سکول جیسا وقعہ کبھی رونما نہ ہوتا، انڈیا پاکستان کی سالمیت کے ساتھ ایک خفیہ کھیل کھیل رہا ہے ۔ ہم جب بھی ایسی ٹریننگ کا سوچتے ہیں یا بات کر تے ہیں لوگ سمجھتے ہیں ہم دہشتگردی کو پروان چڑھا رہے ہیں ، شاید ہم جنگ کو مسلط کرنا چاہتے ہیں ، ہماری سوچ بالکل منفی ہو چکی ہے حالانکہ لوگ نہیں جانتے آج بھی اسرائیل میں اس وقت تک کوئی میٹرک کے امتحان میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک اس بچے نے ایک ہفتہ کی این سی سی کی ٹریننگ نہ حاصل کی ہو،ایف اے کے امتحان دینے سے پیلے ایک مہینے کی ٹریننگ نہ لے رکھی اور اور اسی طرح بی اے کے امتحان کے لیئے تین ماہ کی ٹریننگ لازمی دی جاتی ہے ہر طالب علم کو ایک انسٹی ٹیوٹ میں بھیجا جاتا ہے جہا ں آرمی کی بنیادی تربیت دی جاتی ہے اور ہر طالب علم کے لیئے پاس کرنا لازی ہوتا ہے۔اور یہ ٹریننگ نیشنل ڈیفنس سروس لاء 1986 ء کے تحت مرد عورت دونوں پر لازم ہوتی ہے ۔اس کی دوسری مثال پڑوسی ملک بھارت جہاں پر نیشل کیڈت کروپس (این سی سی )ٹریننگ شروع کی گئی ہے 1948ء این سی سی ایکٹ کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ۔
اس قسم کی ٹرنینگ آرمی اور سول لوگوں کے درمیا ن خلا کو پُر کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں اور خاص کر نوجوانوں میں ایک نئی امنگ اور جوش جذبہ پیدا کرنے میں کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ اور خاص کر ایسے حالات میں جب ملک حالت جنگ میں ہو اور ملک میں ضرب عضب چل رہا ہو، اپنی آرمی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر نوجوان ملک کے لیئے ایک بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے سکتے ہیں۔
1965ء پاک بھارت جنگ میں منہ کی کھانے والے بھارت نے جنگ کے بعد این سی سی ٹریننگ کے سلیبس میں بہت ساری تبدیلیاں کر کے نئے سرے سے کورس کروانا شروع کیا۔
بھارت اور اسرائیل پاکستان کے خطرناک ترین دشمن ہیں جو اپنے نوجوانوں کو ایسی ٹریننگ دیتے ہیں تو یہاں سوال پید ا ہوتا ہے پاکستان میں ایسا کیوں نہیں؟؟ایک مسلمان ملک ہونے کے ناطے ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے ملک کی بقا کے لیے کچھ کر سکیں۔اگر آج ہم نے ایسا نہ کیا تو کب کریں گے جب پانی سر سے گذر جائے گا؟
یہی وہ وقت ہے جب ہمیں اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو اپنے ملک کے دفاع کے لیئے لڑنا ہے اور دشمن کو بتا نا ہے کہ سرحدوں پر فوج اور پاکستان کے اندر سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں طالبعلم نہیں بلکہ سپاہی ہیں اگر دشمن نے زرہ برابر بھی میلی آنکھ دیکھا تو ہم اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ بہت سارے کالج یونیورسٹییز اب ایسے اقدام کر رہی ہے اور ایسی ٹریننگ کا انتظام کر رہی ہے مگر ہمارا مطالبہ ہے این سی سی جیسیے ٹریننگ کو سرکاری طور پر سکول لیول سے لے کر یونیورسٹی تک لازم قرار دیا جائے۔
مکمل تحریر >>