Tuesday, 23 February 2016

این سی سی تربیت لازمی قرار دی جائے

14 ۔اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی آزاد ریاست مملکت خداداد نے جنم لیا جس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے اس کی بنیاد کلمے پر رکھی گئی ۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی دونوں سرحدوں پر دشمن ڈیرے ڈالے اس کی بنیادوں کو دیمک کی طرح کھانے کے انتظار میں دن رات ایک کیئے ہو ئے ہے۔پہلے دن سے ہی انگریز سرکار کا جھکاؤ بھار ت کی طرف رہا بونڈری لائین کے وقت ریڈ کلیف نے وہ علاقے بھی بھارت کی گود میں ڈال دیئے جو پاکستان کے حصے میں میں آنے تھے، ابھی بھی انگریز سرکار کا دل نہیں بھرا تھا کہ اس نے اثاثوں کے تقسیم میں بھی بے ایمانی اور پاکستان کونقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ۔پہلے دن سے پابندیوں میں گھرا پاکستان جب بھی اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے راہ میں کوئی نہ کوئی روکاوٹ کھڑی کر دی جاتی ہے ۔
بھارت پاکستان کا دشمن اور امریکہ سرکارکا دوست ملک ہے جو پاکستان کو اندرونی اور بیروانی طور پر نقصان پہچانے میں کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اگر دوسرے طرف دیکھا جاے تو افغانستان ایک اسلامی ملک ہے جس نے پاکستان کوالگ آزاد ریاست ماننے سے انکارکیا ۔ امریکہ جو پوری دنیا کو اصلحہ فروخت کرتا ہے وہ دہشتگردی ختم کرنے کے لےئے ایک مدت سے افغانستان میں مقیم ہے ۔پاکستان اپنی بقا اور سرحدوں کے حفاظت کے لیئے کو ئی عملی کام کرنا چاہے تو ہمیشہ سے پابندی اور روکاوٹ پید ا کردی جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس بھارت کے ساتھ امریکہ کے معاہدے طے ہوتے ہیں ۔بھارت پاکستان کو ہمیشہ دہشت گرد ملک گردنتا ہے تو کبھی پاکستان کا پانی بند کر کے نقصان پنہچاتا ہے ، کبھی پانی کو اتنا زیادہ چھوڑتا ہے کہ پاکستان کے بیشتر علاقے سیلاب کی نظر ہو جاتے ہیں۔ پاکستان ہمیشہ سے بھارت کے ساتھ امن اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتا آیا مگر بھارت نے کبھی سمجھوتہ ایکسپریس میں لاشوں کے تحفے بھیجے تو کبھی اشتعال انگیز فائرنگ اور گولہ باری کر سرحدوں پر بے گناہ لوگوں کو خوں میں نہلایا۔مگر افسوس اقوام متحدہ نے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی۔ پاکستان کی عمر اس وقت 69 سال کے لگ بھگ ہے جس میں دو بڑی جنگیں لڑ چکا جس سے نہ صرف اس کے بقا کو نقصان پہنچا بلکہ معاشی لحاظ سے بھی بہت پیچھے چلا گیا۔اس وقت ہمارا ملک حالت جنگ میں ہے اور پاکستان کی تمام فورسز بہادر ی سے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہیں جن پر بطور پاکستانی ہمیں ناز ہے ۔ اگر نوے کی دہائی کا ذکر کیا جائے تو آج کی نسبت بہت امن اور سکون تھا، آج ہم بے چینی ، اضطراب، بے روزگاری ،خودکش بمبار ، فائرنگ سٹریٹ کرائم اور ایسے کئی بے شمار جرم ہیں جس نے ملک کا امن تباہ کر رکھا ہے اور اگر دیکھا جائے تو الیکٹرانک میڈیا نے بھی ا س بے چینی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے ، رات کو ہر ٹی وی چینل پرافراتفری کا آلم دیکھا کر اور سیاست دانوں کے درمیا ن ایک نہ ختم ہونے والی رنجشیں دیکھا کر عوام کو آپس میں لڑانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے قوم اپنی امیدیں کھور ہی ہے یوتھ یعنی نوجوان نسل بھی بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے ، کسی بھی قوم کا خالص اثاثہ اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے ۔ صلاح الدین ایوبی کا قو ل ہے جس قوم کہ ختم کرنا ہو اس کی نسل کو بے حیائی پر لگا دو ۔لیکن یہ سب کچھ ہونے کی باوجود پاکستا ن کی نئی نسل کو اک امید باقی ہے وہ جانتے ہیں انشاء اللہ پاکستان میں ایک روشن صبح ہوگی جس سے سارے اندھیر ے چھٹ جائیں گے۔
صدر پرویز مشرف نے 2002ء میں این سی سی کی تربیت جو کہ ایک نہایت اچھا عمل تھا اس کوختم کر دیا گیا، اسی کی دہائی میں شروع ہونے والی یہ تربیت کسی بھی ملک کی خوشحالی کی علامت سمجھی جاتی ہے آج جب بھارت پاکستان کے قبائلی علاقوں ، فاٹا اور بلوچستان میں غیراعلانیہ جنگ لڑ رہا ہے اور پاکستان کے غیرت مند سپوت جنرل راحیل شریف کی سربراہی میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے ملک کی شان اور عزت بچانے میں سرگرم ہیں ایسے حالات میں دشمن کے دانت پھیکے کرنے کے لیئے اپنی نوجوان نسل کو این سی سی کی تربیت دینا لازمی عمل قرار دیا جائے ، اگر اس تربیت کو نہ ختم گیا ہوتا تو آرمی پبلک سکول جیسا وقعہ کبھی رونما نہ ہوتا، انڈیا پاکستان کی سالمیت کے ساتھ ایک خفیہ کھیل کھیل رہا ہے ۔ ہم جب بھی ایسی ٹریننگ کا سوچتے ہیں یا بات کر تے ہیں لوگ سمجھتے ہیں ہم دہشتگردی کو پروان چڑھا رہے ہیں ، شاید ہم جنگ کو مسلط کرنا چاہتے ہیں ، ہماری سوچ بالکل منفی ہو چکی ہے حالانکہ لوگ نہیں جانتے آج بھی اسرائیل میں اس وقت تک کوئی میٹرک کے امتحان میں نہیں بیٹھ سکتا جب تک اس بچے نے ایک ہفتہ کی این سی سی کی ٹریننگ نہ حاصل کی ہو،ایف اے کے امتحان دینے سے پیلے ایک مہینے کی ٹریننگ نہ لے رکھی اور اور اسی طرح بی اے کے امتحان کے لیئے تین ماہ کی ٹریننگ لازمی دی جاتی ہے ہر طالب علم کو ایک انسٹی ٹیوٹ میں بھیجا جاتا ہے جہا ں آرمی کی بنیادی تربیت دی جاتی ہے اور ہر طالب علم کے لیئے پاس کرنا لازی ہوتا ہے۔اور یہ ٹریننگ نیشنل ڈیفنس سروس لاء 1986 ء کے تحت مرد عورت دونوں پر لازم ہوتی ہے ۔اس کی دوسری مثال پڑوسی ملک بھارت جہاں پر نیشل کیڈت کروپس (این سی سی )ٹریننگ شروع کی گئی ہے 1948ء این سی سی ایکٹ کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ۔
اس قسم کی ٹرنینگ آرمی اور سول لوگوں کے درمیا ن خلا کو پُر کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں اور خاص کر نوجوانوں میں ایک نئی امنگ اور جوش جذبہ پیدا کرنے میں کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔ اور خاص کر ایسے حالات میں جب ملک حالت جنگ میں ہو اور ملک میں ضرب عضب چل رہا ہو، اپنی آرمی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر نوجوان ملک کے لیئے ایک بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے سکتے ہیں۔
1965ء پاک بھارت جنگ میں منہ کی کھانے والے بھارت نے جنگ کے بعد این سی سی ٹریننگ کے سلیبس میں بہت ساری تبدیلیاں کر کے نئے سرے سے کورس کروانا شروع کیا۔
بھارت اور اسرائیل پاکستان کے خطرناک ترین دشمن ہیں جو اپنے نوجوانوں کو ایسی ٹریننگ دیتے ہیں تو یہاں سوال پید ا ہوتا ہے پاکستان میں ایسا کیوں نہیں؟؟ایک مسلمان ملک ہونے کے ناطے ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے ملک کی بقا کے لیے کچھ کر سکیں۔اگر آج ہم نے ایسا نہ کیا تو کب کریں گے جب پانی سر سے گذر جائے گا؟
یہی وہ وقت ہے جب ہمیں اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو اپنے ملک کے دفاع کے لیئے لڑنا ہے اور دشمن کو بتا نا ہے کہ سرحدوں پر فوج اور پاکستان کے اندر سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں طالبعلم نہیں بلکہ سپاہی ہیں اگر دشمن نے زرہ برابر بھی میلی آنکھ دیکھا تو ہم اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ بہت سارے کالج یونیورسٹییز اب ایسے اقدام کر رہی ہے اور ایسی ٹریننگ کا انتظام کر رہی ہے مگر ہمارا مطالبہ ہے این سی سی جیسیے ٹریننگ کو سرکاری طور پر سکول لیول سے لے کر یونیورسٹی تک لازم قرار دیا جائے۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, 16 February 2016

Rashid Minhas Shaheed


مکمل تحریر >>

My New Article Aurat Pagal Hai.............published in Column Point.........http://columnpoint.com/?p=2618


عورت پاگل ہے 
شکوہ ۔۔جواب شکوہ
اکثر پڑھے لکھے لوگ یہ فقرہ استعمال کرتے ہیں، عورت پاگل ہے ، اسے پاؤں کی جوتی سمجھنا چاہئے، اسے دبا کے رکھنا چاہیے ، اگر اس کو زیادہ اہمیت دے دی جائے تو سر پر سوار ہو جاتی ہے ، عورت کو تمیز نہیں ہر وقت فضول بولتی رہتی ہے، اگر کوئی اپنی بیوی سے پیار کرتا ہے تو سب اس کا مذاق اُڑاتے ہیں ، اسے رن مرید کہتے ہیں ، عورت کی عقل اس کے پاؤں میں ہوتی ہے ایسے کئی القاب ہیں جن سے عورت کی عزت کو پامال کیا جاتا ہے ، عورت کو معاشرے میں ہمیشہ کم تر سمجھا جاتا ہے ، کبھی اُسے بازارِ حسن کی زینت بنایا جاتا ہے تو کبھی دیوا ر میں چنوا دیا جاتا ہے ، اُمراء کے نازو نخرے اُٹھانے کے لیئے بھی صنفِ نازک اس کے حوس کا نشانہ بنتی ہے ،عورت کو معاشرے میں کمتر سمجھا جاتا ہے اور کہیں بھی اس کی تضحیک کا پہلو ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا،کہیں سے یہ آوازیں بھی اٹھتی ہیں کہ عورت بے حیائی پھیلاتی ہے اس کا باہر جانا بند کر دو اور کچھ تو یہ کہتے ہیں ان کا سکول جانا بند کردہ یہ تو پاؤں کی جوتی ہے ۔ہاں وہ پاگل ہے ، تمہاری غیر موجودگی میں تمہارے گھر کی چوکیداری کرتی ہے ، تمہارے بچوں کی تربیت کرتی ہے انہیں معاشرے میں ایک مقام دلاتی ہے ہاں عورت پاگل ہے ۔ 
کیونکہ عورت جس سے محبت کرتی ہے جتنی زیادہ محبت اتنی زیادہ خاموش رہتی ہے ، کبھی اظہار نہیں کرتی کبھی بتا نہیں سکتی، مرد جب محبت کرتا ہے اس کا اظہار شدت سے کر دیتا ہے وہ خاموش نہیں رہ سکتااس لیئے کہ اسے وصول کرنا ہوتا ہے ، مرد محبت نہیں سودا کرتا ہے وہ جو لگاتا ہے اس سے کہیں زیادہ گُنا حاصل کرنا چاہتا ہے ، اس کے برعکس جب عورت اپنا آپ داؤ پر لگاتی ہے تواسے کسی صلے کی یا انعام کی خواہش نہیں ہوتی کیونکہ وہ صرف دینے والی ہوتی ہے اور اگر اسے کچھ مل جائے تو خود کو خوش نصیب سمجھتی ہے او ر نہ ملے تو گلہ شکوہ نہیں کرتی بلکہ خاموش رہتی ہے عورت کی فطرت میں صرف وفا ہوتی ہے۔اسلام نے عورت کو جو مقام دیا شائد کسی اور مذہب نے وہ دیا ہو، آج کل یہودیت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور بہت سے لوگوں نے عورتوں کے حقوق کے انجمنیں بنا لی ہیں اور حقیقی طور پر کوئی بھی تنظیم اس پر عمل پیرا نظر نہیں آتی ، اسلام نے عورت کے بارے کیا لکھا ہے وہ میں آپ کو بتاتا ہوں۔عورت کے لفظی معنی ہیں پردہ، اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے عورت کے حقوق رکھے ہیں اور اس کی حفاظت کی ہے عورت اپنے آپ کو جس قدر چھپا کر رکھے گی تو اس کو عزت بھی اتنی ہی زیادہ ملے گی اسلام نے عورت کی خوبصورتی اسکے پردے میں پنہاں رکھی ہے ۔
عورتوں کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والوں کے لیئے عرض ہے(جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہاں فرشتے بھیجتے ہیں جو آکر کہتے ہیں:اے گھر والو تم پر سلامتی ہووہ لڑکی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں او ر اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کمزور جان ہے جو کمزور جان سے پیدا ہوئی جو اس بچی کی پرورش اور نگرانی کرے گاروز قیامت اللہ کی مدد اس ک ساتھ شامل حال رہے گی)اللہ تعالیٰ نے جب اپنی محبت بندے سے ظاہر کرنی چاہی تو بھی ذکر ماں کی محبت کا کیا،کہ اللہ ستر ماؤں سے بھی زیادہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے ۔اللہ کے پیارے نبیؐ نے عورت کی شان کو یوں بیان کیا،جنت ماں کے قدموں کے تلے ہے ۔ زمانہ جاہلیت میں جب کسی کے ہاں بیٹی پیدا ہوجاتی تو وہ افسردہ ہو جاتے اور بعض اوقات تو زندہ لڑکیوں کو درگور کر دیا جاتا مگر اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی بہن، بیوی کے مقدس رشتوں سے عزت بخشی، عورت تو پاگل ہے جس عورت نے جنم دیا جس نے 9ماہ اپنے پیٹ میں رکھا ، پھر جب تم اس دنیا میں آئے تجھے گرم ، سرد کی تمیز نہ تھی تب تمہیں گرمی اور سرد ی سے بچایا، آج جب تم کہتے ہو عورتوں کو کیا پتا، تب جب تمہیں بولنا نہیں آتا تھاجب بھوک میں کھانا مانگنا بھی نہیں آتا تھا وہ تب بھی تمہاری زبان کو سمجھتی تھی آج اگر وہ تم سے دوبارہ سوال کر دے بیٹا سمجھی نہیں کیا کہا، تب اسے ڈانٹ دیتے ہو ،جب تم اسے بار بار ٹوٹی کھانی ہے کہتے تھے اور وہ بار بار کہتی تھی جی میرے لال ابھی دیتی ہوں ۔ 
جب تم سکول سے آکر اکثر فرش پر سو جاتے تھے جب آنکھ کُھلتی تھی تو خود کو نرم بستر پر پاتے تھے وہ عورت ہی ہوتی تھی ۔
عورت خد ا کی بڑی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے
عورت دنیا کی آبادکاری اوردینداری میں مردوں کے ساتھ تقریبابرابر کی شریک ہے
عورت مرد کے دل کا سکون اورروح کی راحت ذہن کا اطمینان اور بدن کا چین ہے
عورت دنیاکے خوبصورت چہرہ کی ایک آنکھ ہے
عورت حواہ علیہ سلام اور آدم علیہ سلام کے علاوہ ہر انسان کی ماں ہے ،اس لیئے وہ قابلِ احترام ہے 
عورت کا وجود انسانی تمدن کے لیئے بے حد ضروری ہے ۔ اگر عورت نہ ہوتی تو مردوں کی زندگی جنگلی جانوروں سے بھی بد تر ہوتی 
عورت بچپن میں بھائی بہن سے محبت کرتی ہے شادی کے بعد شوہر سے محبت کرتی ہے اور ماں بن کر اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے 
عورت ہی ہے جو گھر کو جنت بناتی ہے 
عورت دنیا میں پیار اور محبت کا تاج محل ہے ۔
مکمل تحریر >>

Thursday, 11 February 2016


مکمل تحریر >>

Wednesday, 30 December 2015

Monday, 28 December 2015

Millat ka pasban


مکمل تحریر >>

Monday, 21 December 2015

Hafeez Jalandhari ..Yom e Wasal


مکمل تحریر >>

حفیظ جالندھری National Poet1900 to 1982

14
 اگست 1947ء کو دنیاکی تاریخ میں ایک اسلامی سلطنت کا قیام ہوتا ہے اور ریڈیو پاکستان لاہورسے ایک اعلان ہوتا ہے کہ 
 کلمہ کی بنیاد پر ایک نئے اسلامی ملک کا قیا م مبارک ہو آج سے ہم ایک آزاد قوم کے طور پر دنیا پر نمودار ہوئے ہیں اور ایک ریاستِ خدا د ملکِ پاکستان نے جنم لیا ہے۔ جسکو سننے کے بعد لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے اوراس خوشی کی خبر کے پیچھے لاکھوں قربانیوں کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا ماؤں بہنوں نے اپنی عصمتوں کی قربانی دی بھائیوں نے اپنی جانوں کو اس آزادی پر نچھاور کیا اور بزرگوں نے اپنی جوان بیٹوں کی لاشوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھا کر حا صل کی۔
تحریک پاکستان میں بے شمار ایسے لوگ شامل تھے جو قائداعظم کے شانہ بشانہ کام کرتے رہے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن جو خاموش سپاہی کا کردار ادا کرتے رہے اس تحریک میں نوجوانوں نے قائداعظم کے شانہ بشانہ بہت کردار ادا کیا ان نوجوانوں میں ایک نام حفیظ جالندھری کا بھی آتا ہے ۔
حفیظ جالندھری  14 جنوری  1900ء جالندھر کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوے آپ کے والد کا نام شمس الدین تھا جو ایک محنتی شخص تھے اور جافظِ قرآن تھے اس لیئے آپ کی ابتدئی تعلیم اپنے گھرانے سے ہوئی اور آپ نے مسجد سکول میں اپنی بنیادی تعلم حا صل کی اس کے بعد آپ نے ساتویں تک وہاں کے ایک مدرسے سے تعیلم حا صل کی۔حفیظ جالندھری بچپن سے ہی اپنے دوستوں میں ایک الگ مقام رکھتے تھے۔ مشن ہائی سکول جالندھر میں زمانہ طالبعلمی کے دوران میرٹھ، دہلی اور بمبئی کے سیر سپاٹے کرتے رہے اور یوں تعلیم پر پوری توجہ نہ دے سکے ۔اسی زمانے میں آپ کو اردو ادب سے دلچسپی پیدا ہوگئی اور باقاعدہ شعر گوئی کا آغاز کیا۔
1917ء میں جب آپ کی عمر سترہ سال کی ہوئی تو والدین نے شادی کے بندھن میں باندھ دیا اور یوں آپ نے سترہ سال کی عمر میں اپنی کزن زینت بیگم سے شادی کی جس سے اُن کے ہاں سات بچوں کی پیدائش ہوئی اور اس طرح آپ کو اللہ تعالیٰ نے سات بیٹیوں کی رحمت سے نوازہ۔ اس کے بعد آ پ نے انتالیس سال کی عمر میں دوسرے شادی ایک انگریز لڑکی سے کے جو زیادہ دیر نہ رہ سکی اور طلاق کے بعد علحد گی ہو گئی، آپ کی پہلی بیگم 1954ء میں انتقال کر گئیں اور یوں ایک سال بعد آپ نے خورشید بیگم سے شادی کی جس سے ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائی تو جالندھری صاحب کی ذاتی زندگی اتار چڑھاؤ کا شکار رہی مگر آپ کے دل میں مسلمانوں کے لیئے بہت جگہ اور محبت بھری ہوئی تھی زندگی کے اتار چڑھاؤ کے باوجود وہ اردو ادب کے لیئے کام کرتے رہے 1917ء میں پہلی جنگِ عظیم کے موقع پر انہوں نے جنگ کے موضوع پرایک نظم لکھی جو بہت پسند کی گئی اور آپ کو اس موقع پر انعام سے نوازہ گیا۔
1918ء میں مولاناگرامی سے فارسی درس لینا شروع کر دیا اور تین سال بعد جالندھر سے ایک رسالہ نکالنا شروع کیا جس کا نام اعجاز رکھا لیکن جالندھر ی صاحب کے حالا ت ناسازگار تھے اور مالی نقصان اٹھانا پڑا جس کی وجہ سے بعد میں اس رسالے کو بند کرنا پڑا۔آپ اپنی زندگی کے نشیب و فرازکو بالا طاق رکھتے رہے اور اپنی کوشش جاری رکھی اور کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کی جستجو میں لگے رہے کوئی نہیں جانتا تھا کہ اُن کے اس نام کو صدیوں یاد رکھا جائے گا، پھر قسمت کی دیوی اُن پر مہربان ہوئی اور 1922 سے 1929ء تک وہ چند ماہانہ میگزین کے ایڈیٹر متخب ہوئے اور آپ کی زیر سایہ بہت سے رسالے جن میں نونہال، ہزار دستان، تہذیب نسواں اور مخزن جیسے رسالے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے آپ نے بچوں کے بہت کام کیا آپ نے اپنی مشہور نظمَ۔۔ مجھے ایک ننھا سا بچہ نہ سمجھو۔۔ میں قوم کے معماروں کے لیئے ایک ایک ایسا سبق دیا کہ اگر اس پر عمل پیرا ہو جایں تو آج کے نوجوان کو اس کی منز ل مل جائے ۔
1935ء میں اُنکی نظموں پر مشتمل مکمل گلدستہ جس کا نام۔۔۔ نغمہ زار۔۔۔ تھا وہ پبلش ہوئی اور یوں ان کو بہت زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی اور لوگوں میں مقبولیت کا مقام حاصل کیا جالندھری صاحب کو اپنے ملک سے بے پنا ہ محبت اور عقیدت تھی وہ کہتے تھے کوئی ہمیں یاد کرے یا نہ کرے لیکن ہم اپنے ملک کی بقاء کے وہ سب کچھ کریں گے جس کی ہم میں اسطاعت ہے وہ اپنے شعروں میں بھی اپنی عقیدت کو بیا ن کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ آپ نے کہا !
کوئی پرسان نہیں پیرِمغاں کا
فقط میر ی وفا ہے اور میں ہوں۔
حفیظ شعرا کے اس دبستان سے تعلق رکھتے تھے جس نے ہند ی بحروں کو اردو میں رائج کرنے اور شعر میں الفاظ بششت اور ترکیبوں سے حسن اور ترنم پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ان کی نظموں میں خیا ل کی رعنائی جزبات کی فراوانی اور ترنم ریزی نے نئی نسل کو بے حدمتاثر کیا ان میں پرتاثیرنغمگی پائی جاتی ہے ہلکے پھلکے گیت لکھنا نظم کی نئی نئی شکلیں پیدا کرنا اور رومانی نظمیں لکھنا جالندھر ی صاحب کا خاص آرٹ ہے ان کے کلام میں شگفتگی اثر آفرینی اورروانی ہے ۔
کچھ عرصہ جالندھر ی صاحب ریاست خیر پور سندھ کے دربار سے وابستہ ہو گئے کچھ عرصہ بعد میر ریاست کے سامنے اپنی نظم ۔۔رقاصہ۔۔ پڑھی تو آپ حکمران کے غضب کا شکار ہوئے اور ریا ست بدر کر دیئے گئے حفیظ جالندھر ی مختلف رسائل کے مدیر بھی رہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے ۔حفیظ ج لندھری نے دوسرے جنگ عظیم میں گورنمنٹ ملازمت اخیتار کر لی اور سانگ ایند پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ڈائریکٹرجنرل مقر ر ہوئے ان کی شب و روز کی محنت اور لگن کے صلہ میں انگریرحکمرانوں نے ان کو ۔۔خان بہادر ۔۔کاخطاب دیا۔اور بعد میں اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے۔
حفیظ جالندھری کا شمارملک کے عظیم شعراء میں ہوتا ہے قیامِ پاکستان کے بعد 1952ء میں ملک پاکستان کا مشہور قومی ترانہ لکھنے کی سعادت بھی جنا ب حفیظ جالندھر ی صا حب کو حاصل ہے اس کے علاوہ انہیں برصغیرمیں ۔۔شاہنامہ اسلام ۔۔ لکھ کر جو شہرت اور پذیرائی ملی وہ انہیں کا حصہ ہے۔انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے تاریخ ہند بھی مرتب کی جو آج بھی بھارت کی سکولوں میں پڑھائی جاتی ہے ۔قیامِ پاکستان کے بعد ابتدائی چند برس قومی ترانہ نہیں لکھا گیا تھاپھر 1952ء ایک ترانہ کمیٹی تشکیل پائی جس میں سات سو پچاس شعراء کرام نے شرکت کی اور اپنے اپنے ترانے پیش کیئے، جس میں سب سے زیا دو حفیظ جالندھری کے ترانے کو پسند کیا گیا،اس طرح کمیٹی میں پیش کی
 گئے سب ترانوں میں سے ان کے ترانے کو منظور کیا،اس ترانے کی دلچسپ با ت یہ ہے کہ اس ترانے کی دھن ایم اے چھاگلہ نے پہلے ہی بنا لی تھی ۔حفیظ جالندھری ہمارے قومی شاعر تھے جنہوں نے اپنی شاعری سے اپنے مقصد جذبات کی پور ی تشریح کی ۔
حفیظ جالندھر ی کی خواہش تھی کہ جب ان کا انتقال ہو تو ان کو شاہی مسجد کے زیرسایہ دفن کیا جائے 21دسمبر 1982 ء کو ہم سے یہ عظیم شاعر ہمیشہ کے لیئے جدا ہو گیا ، اپنی خالقِ حقیقی سے جا ملا، اُ ن کی خواہش کو پورا تو نہ کیا جاسکاکیونکہ انتظامیہ نے اس کے اجازت نہ دی جس کے بعد اس عظیم شاعر کی تدفین اقبال پارک کے گراؤنڈمیں کی گئی۔ اقبال پارک (منٹوپارک)جہاں مشہور قراردادِ پاکستان منظور ہوئی اسی جگہ مینارِ پاکستان قائم ہے اسی شاندار گراؤنڈ کے ایک حصے میں یہ عظیم شاعر مدفون ہیں ، زندہ قومیں اپنے مشاہیر اور ہیروز کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں ان کی یاد میں تقاریب کا اہتمام کرتی ہے ہیں مگر افسوس ہم ان ہیروز کی یاد میں تو تقاریب منعقد کرتے ہیں جنہوں اس ملک کو صرف لوُٹا ہو یا اداکاروں ، فنکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت بھی ہے اور ہم اس کا باقاعدہ اہتمام بھی کرتے ہیں مگر حقیقی معنوں میں حفیظ جالندھری جیسے عظیم لوگوں کو بُھلائے بیٹھے ہیں ہم میں سے کئی ایسے افراد آج بھی ہیں جن کوحفیظ جالندھری اور ایسے کئی ہیروز ہیں جن کی نہ پیدائش کا پتہ اور نہ اُن کے وفات پانے کا علم اگر آج ہم نے اپنی نئی نسل کو ان عظیم لوگوں کے بارے نہ بتایا تو کل ہم بھی تاریخ کا حصہ بن جایں گے اور بقول حفیظ جالندھری!
                                                                                                            ہم ہی میں نہ تھی کوئی بات یاد نہ تم کو آسکے 
                                                                                                            تم نے ہمیں بھُلا دیاہم نہ تمہیں بھُلا سکے ۔
مکمل تحریر >>

Thursday, 17 December 2015

رحمتِ عالم نور مجسم


رحمتِ عالم نور مجسم

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقا ت کا شرف بخشا اور انسان کو تمام مخلوقا ت پر فضیلیت بخشی اور انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ یعنی نیب بنا کر بیھجا۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پید ا فرمایا تو فرشتوں نے عرض کی اے پروردگار انسان زمین پر فساد کریں گے ہم تمہاری عبادت کے لیئے کافی ہیں تو اللہ جلہ شانہُ نے فرمایا جو میں جانتا ہوں آپ نہیں جانتے ۔رب کائنات نے اس زمین پر کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے جو اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچاتے رہے قرآنِ پاک سورۃالااحزات آیت نمبر 39 میں اللہ فرماتے ہیں :وہ جو اللہ کا پیٖغام پہنچاتے اور اس سے ڈرتے اور اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ کرتے اور اللہ بس ہے حساب لینے والا۔

اس طر ح ہر پیغمبر اعلیٰ اور اوران سے سب کے مراتب ایک دوسرے سے بڑھ کراعلیٰ، کسی کو اللہ نے اپنا کلیم اللہ کہا تو کسی کو روح اللہ کے درجے پر فائز کیا کہیں اسماعیل ذبیع اللہ ابراہیم خلیل اللہ تو کہیں آدم فصیح اللہ کے مرتبے پر فائز فرمایا مگر ایک حستی ایسی ہے جن کو ان تمام کے بعد بھیجا مگر رتبے میں محمدﷺ کو حبیب اللہ کہہ کر تما م انبیاء پر فضیلت فرما دی۔ قرآنِ پاک سورۃالااحزات آیت نمبر 40میں اللہ فرماتے ہیں :محمدﷺ تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں، ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے اور اللہ 
سب کچھ جانتاہے :۔
ڈاکٹر علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا
سب سے اول تھا جس کو بنایا گیا
نورِ رحمت سے جس کو سجایا گیا 
ایسے تصویر محبوب کی کھینچ دی 
خود خدا کو بنا کے سرور آگیا
 زمانہ تھاجب ہر طر ف ظلمت کے کالے بادل چھائے ہوئے تھے جہالت کا دور دورہ تھا جب جاہل کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا جب لوگ اپنی بیٹوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے جب عورت کو معاشرہ میں صرف حکارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ، جب غریب کا مال ہڑپ کر لیا جا تھاغلاموں کو اپنی جاگیر سمجھا جاتا تھا ایسے حالا ت میں ایک ایسے کامل انسان کی ضرورت تھی جو اس بکھرے ہوے شیرازے کو سمیٹ لیتا عورتوں کے حقوق کی بات کرتا غلاموں کو آزادی دلاتا ، ایسے حالات میں اللہ رب العزت نے اس وقت اپنے پیارے محبوب کو اس دنیا میں بھیجا جب رات کا اندھیرا اپنی تاریکیوں کو لے کر جا رہا تھا اور ایک روشن صبح کا نور طوع ہو رہا تھا تب میرے ہمار ے آپ سب کے کریم رحیم حلیم سرور دو جہاں وجہ کائنات حضرت محمدمصطفےٰﷺ اس دنیا فانی میں تشریف آے بقول شاعر
حبیب ٰ اُچی شان والیو ، جے تُسی آے تے بہاراں آیاں۔
12ربیع الااول پیر کے دن یعنی 571Ad ایک ایسا دن جس دن ظلمت کا بادل چھٹ گئے اور نورِ رحمت کا ظہور ہوا، ایک ایسا بنی ﷺ جس کی ذات کو پورے عالم کے لیئے رحمت بنا کر بھیجا ، قرآن گواہی دیتا ہے : بے شک ہم نے آپ کو دو جہانوں کے لیئے رحمت بنا کر بھیجا، ڈاکٹر علامہ اقبال نے کیا خوب کہا:۔
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا 
مرادین غریبوں کی بر لانے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے وال�آآپ کی تعریف کرنے کا لئے اگر زمانے بھر کے درختوں کی قلمیں بنا دی جایں اور پور ے سمندر کے پانی کی سیاہی بنا دی جائے اور پرند چرند انسان حیوان نباتات سب آپ کی تعریف لکھنے بیٹھ جایں تو آپ کی حیا تِ طیبہ کا ایک پہلو بھی نہیں لکھا جا سکتا ، کیونکہ آپ کے ذات بے مثل بے مثال ہے ، لوگ بچپن سے ہی آپ کو صادق اور امین کے نام سے جانتے تھے آپ بے حد خوبصورت شخصیت کے مالک تھے جب آپ کے چہرہ مبارک پر پسینہ نمودار ہوتا تو یوں لگتاگویا کوئی موتی چہرہ انورپر پڑا ہو، آپ ﷺ کو میرے اللہ نے کبھی یٰسن کبھی طحہٰ کبھی ولیل کے نام سے پکارا ،کسی نے امی حضرت عائشہ صدیقہؓ سے عرض کی کہ حضور کا اخلا ق کیا ہے تو اماں جان فرماتی ہیں سارا قرآن آپ کا اخلاق ہے ، سورہ العمران آیت نمبر31 میں اللہ فرماتے ہیں ،اے محبوب تم ان سے فرما دو ان لوگوں سے اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہوتو میرے فرمانبردارہو جاؤ، اللہ تمہیں دوست رکھے گااور تمہارے گناہ معاف کر دے گا بے شک وہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔
اس آیت کریمہ کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو حضور ﷺ کی غلامی میں ہی کامیا بی کا راز پنہاں ہے ۔ بقو ل ڈاکٹر علامہ اقبال 
محمد کی غلامی دینِ حق کی شرطِ اول ہے 
ہو اگر اس میں خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے 
اس میں کوئی شک یا گنجائیش کی بات نہیں اگر حضرت محمد ﷺ کی غلامی حقیقی معنوں میں نصیب ہو جائے تو انسان کامل بن جاتا ہے حضرتِ بلال حبشی فرماتے ہیں ہم باپ دادا سے غلام چلتے آرہے ہیں ہم نے بہت تکالیف دیکھیں لیکن جب سے غلامیِ رسول میں آئے تو دنیا کے سردار بن گئے حبشی غلام سے سیدنا بلال حبشی بن گئے یہ سب فیض غلامی رسول کا ہے حضرت عمرؓ فرماتے ہیں میرے باپ مجھے بکریاں چرانے کو کہا کرتے تھے اور وہ ریوڑ میں سمبھال نیں پاتا تھا مگر جب سے حضور کی غلامی نصیب ہوئی عر ب کی سر زمین پر ایک کامیاب حکومت قائم کی اور انصاف کی ایسی مثال قائم کی جو آ ج تک یاد کی جاتی ہے اور ایک ایسے معاشرے کی بنیا د رکھی جو آج تک قائم ہے۔
آقاءِ نامدار فخرموجودات رحمتِ عالم ، شافیِ محشر اتنے شفیق اور کریم تھے ایک بار آپ طائف کے مقام پر پیام حق لوگوں تک پہچانے کے لئے پہنچے ، جب آپ ﷺ نے اللہ کا پیغام لوگوں کو سنایا تو لوگ آپ کے خلاف ہو گئے لوگوں نے آپ ﷺ پر پتھر برسا ئے آپ کے پاؤں مبارک لہولہان ہو گئے آپ کی تکلیف شاید اللہ جلہ شانہٗ کو بھی گوراہ نہ تھی فورا جبریل ؑ تشریف لائے اور عرض کی سرکا ر اگر آپ فرمایں تو ان کو اس پہاڑ کے درمیاں مسل کر ختم کر دیا جاے مگر سبحان اللہ میرے آقاﷺ نے فرمایا نہیں میں ان کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں اے اللہ آپ ان پر رحم فرما اور ان کو صراطِ مستقیم نصیب فرما۔ آپ اتنے رحم کرنے والے کہ آپ نے اپنے صحابہ کرام سے فرمایا کہ جب کفار سے جنگ لڑو تو خیا ل رکھو اگر کوئی ضعیف تمہارے سامنے آجائے تو اسے معاف کر دینا، سبز پتوں والے درخت نہ کاٹنا، بچوں اور عورتوں کا خیال
رکھنا، اوراگر کوئی پناہ میں آجائے تو اسے بھی معاف کر دینا، جب فتع مکہ ہوئی تو بہت سے کفار بھی جنگی قیدی تھے اگرآپ چاہتے تو ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کر سکتے تھے جیسا وہ مسلمانوں کے ساتھ کیا کرتے تھے مگر میرے انیس الغریبن رحمت العالمین نے ایسا نہ کیا بلکہ ان سے کہا آپ ہمارے بچوں کو تعلیم کے زیور سے مزین کریں، آپ ﷺ کا حسن سلوک دیکھ کر بہت سے لوگ مشرف بہ اسلام ہو گئے ۔۔
بقو ل شاعر۔ اک لفظ نہیں ہے جو تیرے لب پہ نہیں ہے۔یعنی آپ کا ایسا در ہے جہاں غیریب تو کیا امیر بھی اپنا سر جھکاتے ہیں اور اتنا عطا کرتے ہیں کہ دوبارہ مانگنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی ، میرے آقا صرف انسانوں کے ہی نہیں بلکہ جن پرند حیوان سب کے لیئے رحمت ہیں جانور بھی آپ کی عزت اور تعظیم کرتے تھے ایک مرتبہ ایک کافر کے ہاتھ میں کچھ پتھرکی کنکریاں تھیں آپ کے پاس حاضر ہو ئے کہ میں تب ایما ن لاؤں گا کہ ااپ بتا دیں میرے ہاتھ میں کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا میں بتا ؤں یا تمہارے ہاتھ میں جو ہے وہ خود بتاے کہ میں کون ہوں جب آپ ﷺ اُن سے مخاطب ہوے تو پتھر بولنے لگے ائے اللہ کے پیارے نبیﷺ آپ نے مجھے یاد فرمایا۔ آپ اللہ کی نبی محمدﷺ ہیں ۔ ایسی شان والامیرا نبی جس کی گواہی قران دے ، جس کی قسمیں میرے رب نے کھایں ، ایسا نبی جو آبِ کوثر پلانے والا، ہم پینے والے ، جو جنت میں لے جانے والا ہم جانے والے ، جب نہ کوئی باپ کسی بیٹے کے کام آے گا جب نفسا نفسی کا آلم ہوگا ہر طرف گرمی ہوگی لوگ ایک ایک نیکی کو ترس رہے ہونگے آہ و پکار ہوگی ، محشر کا میدان ہوگا تب ایک آواز بلند ہو گی یا ربِ امتی یا رب امتی اور رب اپنے محبوب کو مخاطب ہو گا اے میرے نبی ہم نے آپ سے وعدہ فرمایا تھا ، ہم تم کو اتنا عطا فرمایں گے کہ تو راضی ہو جائے گا آج تیرے مانگنے کا وقت ہے مانگ جو مانگنا ہے ، تب  میرے شفیق آقاﷺ اپنے رب سے عرض کریں گے میری امت کو بخش دےمیرے نبی ﷺ کا ذکر خود ربِ کائنا ت نے بلند فرمایا اور قرآن مجید میں ارشار ہوا: بے شک ہم نے آپ کے ذکر کو بلند فرمادیا۔
امت کے ساتھ محبت اور پیار اس قد ر تھا کہ جب آپ ﷺ کا وصال مبار ک کا وقت آیا تو آپ نے جبریل ؑ سے فرمایا میرے اللہ سے پوچھو میرے بعد میر ی امت کا کون رکھوالا ہوگا تو اللہ جلہ شانہٗ نے فرمایامیں اللہ خود حفاظت فرماوں گا ، آخری لمحا ت میں بھی آپ کی زبانِ اقد س پر صرف امت کا ہی ذکر تھا، اور روزِمحشر بھی یا رب امتی ۔اب بطور امتی ہم پر بھی کچھ فرض ہوتا ہے ، ہمیں سوچنا اور اس پر عمل کی ضرورت ہے کہ آج ہم اپنے پیار ے نبی ﷺ کی کتنی سنتوں پر عمل پیرا ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا ، میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا قبروں کو پوجا گاہ نہ بنا لینا، میں تمہارے لیئے دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک سنت اور ایک قرآن پاک ۔ان پر عمل پیرا ہوکر ہم اپنی زندگیوں کو کامیاب بنا سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو میری اطاعت کرنا چاہتا ہے پہلے میرے نبی کی اطاعت کرے ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ہم اپنے نبی کے احکامات پر کس قدر عمل پیرا ہیں۔صر ف جھنڈیا ں لگا کر ، جلوس نکال کر کیا ہم نے وہ اپنا فرض ادا کردیا جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا اور ہمارے کریم آقا نے جس امت کے لیے رو رو کر دعایں کیں کیا ایسے پیارے بنی کے لیئے صرف چراغاں کر لینا اور نماز نہ پڑھنا، سنتیں ادا نہ کرنا انصاف ہے؟۔یقیناًجواب نہیں ہو گا۔
آج ہمارے معاشرے میں بگاڑپیدا ہو گیا ہے ، بے چینی اور سکون سے عاری زندگی گذار رہے ہیں، آے روز کسی نہ کسی آفت مصیبت میں گھرے ہوئے ہیں، اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے حالانکہ اغیار پرُسکون زندگی گذار رہے ہیں ، کیوں کہ ہم نے وہ راستہ چھوڑ دیا جس کا حکم اللہ نے اور اللہ کی نبیﷺ نے ہمیں دیا تھا۔۔اور اللہ تو کسی کی چھوٹی سی نیکی کو بھی ضائع نہیں فرماتے اگر غیرمسلم کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ اس کوبھی اس کا اجر فرماتا ہے کیونکہ غیرمسلم کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اس لیئے اسے اسی دنیا میں عطا کر دیا جاتا ہے اور اہلِ ایمان کا حساب روز محشر ہونا ہیس لیئے ہمیں آخرت میں دیا جاے گا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہم اپنے رب کے سامنے جایں گے تو کیا اعمال لے کر جایں گے جس کی وجہ سے جنت کے حقدار ٹھہریں گے وہ یقیناًحضورﷺ کی غلامی اور اطباع ہے اگر ہم اس سے سر گرداں ہوتے ہیں تو اس دنیا میں بھی روسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے ۔ یہ دنیا تو ایسے تیسے کٹ جائے گی مگر ابدی زندگی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور وہ ایسی زندگی ہے جس نے ختم بھی نہیں ہونا اللہ ہمیں اپنے آقاﷺ کی سچی اور پکی غلامی نصیب فرمائے اور روز محشر آپ کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے آمین۔از محمد طاہر تبسم درانی
مکمل تحریر >>

Monday, 14 December 2015

Ammanat main Khyanat


مکمل تحریر >>