Wednesday, 5 July 2017

رمضان کریم، آئل ٹینکر، حکومت وقت پرتنقیداور ہماری ذمہ داری By M Tahir Tabassum Durrani

http://naibaat.com.pk/Pre/lahore/Page13.aspx
My Article Pbulished on 06-07-2017



مکمل تحریر >>

Monday, 3 July 2017

رمضان کریم، آئل ٹینکر، حکومت وقت پر طنزاور ہماری ذمہ داری by M Tahir Tabassum Durrani



رمضان کریم، آئل ٹینکر، حکومت وقت پر طنزاور ہماری ذمہ داری


کچھ عرصہ سے ٹی وی اخبار اور وسوشل میڈیا سے ذاتی وجوہات سے دور تھا لیکن قلم قبیلے سے تعلق ہونے کی وجہ سے دوست احباب کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے گاہے بگاہے مجھے پاکستان کے حالات سے باخبر رکھاخصوصی طور پر اپنے پیارے دوست کالمنگارایم ایم علی کا جن کا اپنا انداز بیاں بھی خوب ہے۔رمضان کریم ہمیں نیکی کی طرف راغب کرنے اور بدی سے بچنے کا درس دیتا ہے۔ اس ماہ مقدس سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ ہمیں حلال کو اللہ تعالیٰ رضا کی خاطر چھوڑنا ہے لیکن جیسے یہ ماہ مکرم اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ہمیں یہ سبق دے کر جاتا ہے کہ اب آپ کی تربیت ہو گئی ہے لہذا ب آپ نے حرام سے پورے (11) گیارہ ماہ بچنا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں یا جیسے ماہ شوال کا چاند نظر آیا ہم اپنی عبادات کو بھول کر انہیں خرافات میں مشغول ہو جاتے ہیں جس سے اللہ کریم نے منع فرمایا۔حالانکہ ہم سب جانتے ہیں جب مزدور اپنی مزدوری مکمل کر لیتا ہے تو مالک اسے اس کی محنت کا اجر دیتا ہے اور ہم دنیاوی اجرو ثواب (پیسہ ، دولت) کی خاطر مالک کی باتیں بھی سنتے ہیں اور اپنی دھاڑی لینے کے لیے انتظار کی زحمت بھی برداشت کرتے ہیں لیکن افسو س صد افسوس رمضان کے پور ے مہینے میں اللہ کی عبادت و ریاضت میں وقت گذارتے ہیں ، خوب اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں صدقہ و خیرات کرتے ہیں لیکن جب دھاڑی ملنے کا وقت آتا ہے ہم اپنا کاسہ توڑ دیتے ہیں اور شیطانی اور دنیاوی عمل میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اہل علم فرماتے ہیں چاند رات کو جسے ہم ہلڑ بازی اور شورشرابے میں گزار دیتے ہیں ۔اللہ کریم جتنے اپنے بندوں کو پورے رمضان میں جہنم سے نکالتے ہیں اس سے زیادہ اس چاند رات کو جہنم کی آگ سے آزاد فرماتے ہیں۔جہاں رمضان کریم اتنی برکتیں اور رحمتیں لاتا ہے وہیں شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے تا کہ اللہ کے بندے اپنے رب کو منانے میں دقت محسوس نہ کریں لیکن اس کے باوجود اگر اہم اپنے رب کو راضی نہ کر سکیں تو لمحہ فکریا ہے ۔
اللہ کریم قرآن مجید کی سورہ ال مطففین میں ہمیں کچھ یاد دہانی کراتے فرماتے ہیں۔(ناپ اور تول کرنے والوں کے لیے خرابی ہے۔جب ناپ تول کر لیں تو پورا لیں اور جب ان کو ناپ تول کر یں تو کم دیں۔کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ اٹھائے بھی جائیں گے جس دن تمام لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے۔سن رکھوبدکاروں کے اعمال سجین میں ہیں اور آپ کیا جانو سجین کیا ہے اور یہ ایک بڑا دفتر ہے لکھا ہوا)
ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے ۔ (من غشا فلیس منی)جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ملاوٹ کا مطلب صرف دودھ میں پانی کی ملاوٹ نہیں، ایمان میں ملاوٹ، اللہ کریم کے ساتھ شریک ٹھہرانا، ناپ تول میں کمی کرنا، جھوٹ ، چغلی کرنا وغیرہ بھی ملاوٹ میں آتا ہے ۔ ہم اکثر یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ آخرت میں دیکھا جائے گاحضور پُر نور حضرت محمد ﷺ ہماری مدد فرمائیں گے اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں کہ وہ شافی محشر نہیں لیکن اوپر بیان کر دہ حدیث پاک کے مفہوم میں دیکھیں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ اگر روز محشر آپ ﷺ نے اپنا نہ بنایا تو کدھر جائیں گے۔
اب آئیں آئل ٹینکر کے واقعے کی طرف آتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں غربت انسان کو بہت کچھ کرنے پرمجبور کر دیتی ہے ۔لیکن قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مایوسی کو گناہ قرار دیا ہے ۔جب ہم اپنے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں تو سیدھا سیدھا یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہم اللہ کی تقسیم پر راضی نہیں اور ہم اس سے بہتر کر سکتے ہیں۔ آئل ٹینکر پہلے ہی قدرتی آفت کا شکار ہوچکا تھا یہ سار ا کا سارا آئل اس مالک کی ملکیت تھا جس کا نقصان ہوا۔ ہمیں کوئی حق نہیں تھا کہ ہم بالٹیاں اور لوٹے لے کر اس آئل کو اکھٹا کرتے کیوں کہ یہ بھی چوری کے زمرے میں آتا ہے جب تک ہم اپنے اعمال کو درست نہیں کرتے ایسی مصیبتیں نازل ہوتی رہیں گی۔ ان تمام خاندانوں سے انتہائی عقیدت اور ہمدردی ہے جو اس سانحہ میں شہید ہوئے اللہ تمام کے درجات بلند فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور جو بیمار ہیں ان کو اپنی جناب سے صحت کاملہ و عاجلہ فرمائے آمین ۔ لیکن افسو س اس سانحہ سے بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا اور کچھ دنوں کے بعد ایسا ہی ایک اور واقعہ کراچی میں پیش آیا اور لوگ آئل جمع کرنے وہاں بھی پہنچ گئے۔ ایک نقصان تو یہ ہوا کہ لوگ اللہ کو پیارے ہوئے جس کے بے حد دکھ اور افسو س ہے لیکن اس سے بڑے افسوس کے بات یہ ہے کہ لوگوں نے خوب اپنی سیاست چمکائی ،حکومت وقت کو خوب آڑے ہاتھ لیا ۔ہر صاحب زی شعور جانتا ہے کہ ایک چھوٹی سی چنگاری پوری کی پور ی بستی کو راکھ کا ڈھیر بنا سکتی ہے تو پھر کیسے اور کس کے کہنے پر بہتے آئل کو بالٹیوں میں بھرنا شروع کیا کون لوگ تھے جنہوں نے معصوم شہریوں کو اس گھناؤنے جرم میں مبتلا کر کے اتنی زندگیوں کو گُل کیا؟۔آفات بلیات قدرت کی طرف سے ہوتی ہیں وہاں بڑی سے بڑی حکومت کچھ نہیں کر سکتی ا ن آفات سے بچنے کے لیے دعا کا حکم اور نیک کام کرنے کا ارشاد ہے۔اسلام میں تو نیکی کو ظاہر نہ کرنے کا کہا گیا ہے(ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ کو پتہ نہ چلے) لیکن ہم جب تک اپنی پوری مشہوری نہیں کر لیتے اور صدقہ و خیرات لینے والے کو پوری طرح دیکھا نہیں لیتے اس کی عزت کو مجروح نہیں کر لیتے تب تک چین سے نہیں بیٹھتے ۔یہ سارا عمل ریا کاری میں آتا ہے جس پر اللہ کریم نے آیت کریمہ میں اظہار بھی کیا ہے۔(سورہ ماؤن میں دکھلاوہ کرنے والوں کے لیے بہت سخت وعید ہے )
ہمیں حکومت وقت پر تنقید کرنے کی بجائے پہلے اپنے آپ کو درست کرنے کی ضرورت ہے جب تک ہم میں احساس ذ مہ داری پیدا نہیں ہو جاتا ہمیں کسی پر تنقید کا کوئی حق نہیں۔ جو کام حکومت کا ہے وہ اپنے حصے کاکام کر رہی ہے ، ہسپتال، سڑکیں، سکول، تعمیرو ترقی، کالجز یونیورسٹیز، توانائی کے بحران پر قابوپانے کے لیے منصوبہ جات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ہمیں قرآن سے مکمل رہنمائی لینی چاہیے کسی کا حق نہیں مارنا چاہیے لوٹ مار کی زندگی سے باہر آنا ہوگا ۔ ہماری اخلاقی تربیت کی بہت ضرورت ہے مال جمع کرنے سے بچنا چاہیے اور بلاوجہ حکومت وقت کو طنز کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے ایک دوسرے پر عیب نہیں لگانے چاہیں بہتان نہیں لگانا چاہیے ۔اللہ تعالیٰ نے سورہ الحمزہ میں ارشاد فرمایا۔(خرابی ہے ہر طعن کرنے والے،عیب لگانے والے کے لیے، جو مال جمع کرتا ہے اور اس گن گن کر رکھتا ہے)اس آیت کریمہ سے ہمیں سبق حاصل کر نا چاہیے کہ کسی پر عیب نہ نگایا جائے کسی کی کردار کشی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ کے حضور معافی طلب کرنی چاہیے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے گھر اور بڑے گھر پاکستان کی حفاظت کریں اس کے اثاثہ جات کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ہمیں اپنے لیول پر اپنے حصے کا کام ایمانداری سے کرنا چاہیے پھر انشاء اللہ ہمارے ملک میں امن قائم ہو گا لوگ خوشحال زندگی بسر کریں گے اور کسی بھی جگہ پڑی کوئی چیز وہیں پڑی رہے گی جب تک کہ اس کے اصلی مالک تک نہ پہنچ جائے اور نہ ہی آئل ٹینکر جیسے واقعات دوبارہ رونما ہونگے۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, 13 June 2017

پنجاب سیف سٹی منصوبہ عصر حاضر کی اہم ضرورت by M Tahir Tabassum Durrani


http://www.abtak.com.pk/qaalam.htm
today 14-06-2017



مکمل تحریر >>

Monday, 12 June 2017

پنجاب سیف سٹی منصوبہ عصر حاضر کی اہم ضرورت. by M Tahir Tabassum Durrani



پنجاب سیف سٹی منصوبہ عصر حاضر کی اہم ضرورت

1973ء کا آئین جمہوری وفاقی اور عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔آئین کے مطابق اقتدار اعلیٰ کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اہل اقتدار پابند ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ملک کا نظام چلائیں۔اس سے رو گردانی کرنے والا اللہ کے نزدیک مجرم ہے حکومت وقت کی یہ زمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی عوام،قوم جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن وسائل بروے کار لائے۔ اس میں کوئی شک نہیں وطن عزیز کو امن و امان کے حوالے سے بہت سی مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت وقت کو ان حقائق کابخوبی ادراک بھی ہے ۔
اندرونی اور بیرونی اختلافات اور خلفشار کی وجہ سے نہ صرف ملک میں معاشی ترقی میں روکاوٹ کا سامنا ہے بلکہ سلامتی کے حوالے سے بھی مسائل کا سامنا ہے اور بعض انتہا پسند عناصر سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت منفی سرگرمیوں کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ حکومت وقت ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے بھر پور انداز میں کوشش کر رہی ہے اس سلسلے میں چینی صدر نے بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ ملکی استحکام اور عوام کی جان و مال کے لیے پاکستان کی بھر پور حمایت کرنے کا اعلان کیا ۔
جلا وطنی کاٹنے کے بعد جب محمدنوازشریف وطن واپس لوٹے تو عدلیہ کی آزادی کی تحریک کا حصہ بنے اور فوجی آمر کو ہٹانے میں اپنا کردار ادا کیا اور وطن عزیز کو ایک آمر سے آزاد کرایا اور جمہوریت کی فضا کو قائم کیا ۔ ایک منتخب وزیر اعظم سے اس کے حکومت چھین لی جائے اس کے بعد اس کو ملک بدر کر دیا جائے ملک بدری جیسی سزا کی تکلیف بھی وہی جان سکتا ہے جس پر یہ ظلم ڈھایا گیا ہو۔ زندگی کی اہمیت کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس نے موت کو اپنے قریب سے دیکھا ہو۔ اقتدار سے قید کا فاصلہ اتنی سبک رفتاری سے طے کیا ہو حقیقی معنوں میں وہی محسوس کر سکتا ہے جس پر بیتی ہو۔
پنجاب آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا بڑا صوبہ ہے دوسرے صوبوں کی نسبت اس کے مسائل بھی زیادہ ہیں۔ لیکن حکومت پنجاب نے اقتدار سمبھالنے سے لیکر اب تک صوبہ پنجاب کو بلکہ پورے پاکستان بحرانوں سے نکالنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر کوشش کر رہی ہے۔ حکومت عسکری قیادت کے ساتھ مل کر ملک کو بد امنی اور دیگر حفاظتی اقدامات کر رہی ہے حال ہی میں ایک ایسا شاندار منصوبہ شروع کیا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔
پنجاب کی عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ایک خوبصورت منصوبہ جس کا نام پنجاب سیف سٹی اتھارٹی Punjab Safe Cities Authority (PSC ہے۔ یہ منصوبہ حکومت پنجاب کے زیر سایہ مکمل ہوگااور اس منصوبہ کی نگرانی بذات خود جناب خادم اعلیٰ پنجاب کریں گے۔ یہ منصوبہ پنجاب کے بڑے شہروں میں شروع کیا ہے ابتدائی طور پر یہ منصوبہ لاہور میں شروع کیا ہے ا س کے بعد یہ منصوبہ دوسرے بڑے شہروں جن میں ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالا، سرگودھا میں شروع کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ حکومت پنجاب نے ایک معروف کمپنی ہواوے (HUAWEI) کے ساتھ مل کر مکمل کری گی۔ پاکستان اور ہواوے کے درمیان اپنی نوعیت کا یہ پہلا منصوبہ ہے۔
اکتوبر 2016 ء میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی انشا ء اللہ 2017ء میں مکمل ہو جائے گا۔
صوبہ پنجاب کے 6(چھ) بڑے شہروں میں 44ارب کی لاگت سے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی پروگرام کا آغاز ہو چکا ہے ۔ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالا، سرگودھا اور بہاولپور کی سکیورٹی کو جدید انداز میں تشکیل دیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں لاہو ر پر 13 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ ہوگی۔ اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے تحت ایک جامع نظام پر عمل درآمدکیا جائے گا۔لاہور میں ہونے والا یہ منصوبہ جون 2017ء تک مکمل ہو جائے گا۔
لاہور میں مال روڈ پر سیف سٹی منصوبہ کے تحت جدید ترین کیمروں کی تنصیب کا عمل جاری ہے اور رواں ماہ مکمل ہو جائے گا۔ ان کیمروں کی مدد سے لاقانونیت کی سر کوبی ہوگی، ٹریفک مسائل سے کافی حد تک چھٹکارا ملے گا، جو لوگ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کوروکنے میں مدد ملے گی۔پولیس اور عوا م کے درمیان چالان پر اکثر جھگڑے رونما ہو جاتے ہیں اس منصوبے کے تحت ان مسائل پر بھی قابو پانا آسان ہو جائے گا۔ خودکار سسٹم کے تحت گاڑیوں کا چالان ہوگا ، گاڑیوں کی نمبر پلیٹس حکومت کی طرف سے جاری کردہ نمونہ جات کے مطابق ہونگی ان نمونہ جات کے علاوہ نمبر پلیٹس کو جعلی اور غیرقانونی تصور کیا جائے گا۔ جعلی نمبر پیلیٹس استعمال کرنے والے اور بنا کر دینے والے دونوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ان قوانین پر عمل درآمد کے لیے سٹی ٹریفک پولیس، ضلع پولیس اور محکمہ(Excise &Taxation ) ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے بغیر نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف سخت کاروائی کرتے گرفتار بھی کریں گے اور ان کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔
منصوبہ کی تقریب میں خادم علی نے کہا تھا پنجاب پہلا صوبہ ہے جہاں ایسے منصوبہ جات پایہ تکمیل تک پہنچیں گے تاکہ صوبے کی عوام کو ریلف ملے اورلوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔ اس منصوبہ کے تحت8 ہزار جدید کیمرے لاہور میں 3400 اہم مقامات پر نصب کرائے جائیں گے جب کہ اسلام آباد میں 2ہزار کمیرے نصب کیے جایں گے۔اس منصوبہ کی مدد سے جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ شکنی ہوگی اور جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ دیگر شہروں میں بہاولپور پر 5.6 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی، ملتان اور سرگودھا میں باالترتیب9.2 ارب، 7.8ارب،9.2 اور 5.5 ارب روپے خرچ ہونگے۔ملک میں امن و امان کی کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت پنجاب کی اس منصوبہ کی عصر حاضر میں اشدضرورت تھی ۔ لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں میں اس منصوبہ کی تکمیل کے بعد جرائم کی روک تھام اور ٹریفک کے مسائل پر قابوپانے میں بہت زیادہ مدد ملے گی۔
مکمل تحریر >>

سو شل میڈیا کا ہماری زندگیوں پر اثر.by. M Tahir Tabassum Durrani..... published in daily Sama

My Article published in Daily Sama today 13-06-2017
http://sama.pk/epaper/page/10/



مکمل تحریر >>

سو شل میڈیا کا ہماری زندگیوں پر اثر By M Tahir Tabassum Durrani



سو شل میڈیا کا ہماری زندگیوں پر اثر

ایک زمانہ تھا جب ایک دوسرے کی خیر و آفیت جاننے کے لیے خط کا سہارا لیا جاتا تھا، خط کو ملاقا ت کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا تھا اور لوگ ایک دوسرے کے خط کا بڑی بے تابی سے انتظار کیا کرتے تھے ۔ گرمی ہو یا سردی خاکی وردی میں ملبوس سائیکل پر سوا ر ایک شخص ہر ایک کی توجہ کا مرکز ہوا کرتا تھا اور ہر گھر کے فرد کی حیثیت رکھتا تھا اس کے سائیکل کی گھنٹی بجتے ہی کئی لوگوں کے دلوں میں پیار کی گھنٹیاں بجنے لگ جاتی تھیں فلمو ں اورکہانیوں میں یہ کام کبوتر سے لیا جاتا تھا اور اس سے اپنے محبوب کے نام خط بھیجا جاتا تھا۔ جیسے جیسے حضر ت انسان نے ترقی کی منزلوں کو چھوا اور اپنے لیے طرح طرح کی آسانیاں پیدا کیں وہیں خط و کتابت کا سلسلہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا گیا۔ہم برقی خط و کتابت سے جتنا ایک دوسرے کے قریب آ تے جار ہے ہیں اتنے ہی اخلاقی طور پر ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اب جگہ اور وقت کی قید و بند سے آزاد ہے ۔
آج کے اس ترقی یافتہ ڈیجیٹل اور سائنسی زمانے میں اخلاقیات ، تحمل ، بردباری اور برداشت سے ہم خالی ہوتے جا رہے ہیں۔جہاں سوشل میڈیا خبریں پہنچانے کا تیز ترین وسیلے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے وہیں اس کے منفی اثرات زندگیاں گُل کر رہے ہیں ۔ کئی ہنستے بستے گھر اجڑ گئے ہیں۔ کئی ماؤں کے لخت جگر جد ا ہو چکے ہیں۔ کسی بھی خبرکو بنا تحقیق ہم سچ مان لیتے ہیں جس سے معاشرہ تباہی کے دہانے چلا گیا ہے۔لوگ سوشل میڈیا کی بات یا خبر پر یقین کر لیتے ہیں اور بعض شر پسند عناصر اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لوگوں کے احساسات مجروح ہو رہے ہیں۔
مارک زکر برگ کی اس تخلیق (فیس بک) نے جتنی جلد ی مقبولیت حاصل کی یہ ایک حیران کن ریکارڈ ہے یہ آپ کو پوری دنیا میں بسنے والوں سے جڑنے کا ایک ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ اگر سوشل میڈیا سے لوگوں کی آگاہی کی بات کی جائے تو پتہ چلتا ہے تقریباََ (90%)نوے فیصد سے زیاد ہ لوگ ہیں جو انٹرنیٹ سے آشنا ہیں۔ سوشل میڈیا یعنی فیس بک، ٹویٹر،سکائپ، واٹس آیپ، یوٹیوب وغیرہ ہیں،سوشل میدیا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کو لوگ اظہار رائے کے لیے استعمال کر تے ہیں لاکھوں میل دور بیٹھا انسان اپنے پیاروں سے براہ راست بات کر لیتا ہے سوشل میڈیا کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ بچہ، بوڑھا، مرد ، عورت الغرض ہر طبقہ فکر کا انسان اس کا استعمال کر رہا ہے ،یہ ایک ایسا میڈیم ہے جس کو اگر مثبت انداز میں استعمال کیا جا ئے تو بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے لیکن ہمیں یہ فیصلہ کر نا ہے کہ ہم اسے مثبت یا منفی اندازمیں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس کی افادیت اور نقصانات سے بھی واقف ہونا لازم ہے ۔کوئی بھی چیز اگر متوازن ہوتو اس کا فائدہ ہی ہوتا ہے مگر کسی چیز کا حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
جہاں سوشل میڈیا نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا وہیں کتاب کے مطالعہ کے رجحانات کوکم بلکہ ختم کر دیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہم انٹرنیٹ کے ذریعے ہرقسم کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں وہیں اس کے کثرتِ استعمال سے آنکھوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے جس سے آنکھوں کے خلیوں میں کھنچاؤ ذہنی تناؤ پیدا ہو جاتا ہے اورمختلف قسم کی بیماریوں کے شکارہونے کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے ۔ انٹر نیٹ کے استعمال نے میلے ٹھیلوں ، محفلوں اور دیگرسماجی رونقوں کو ختم کر دیا ہے ۔شرپسند عناصر غیر اخلاقی و غیرقانونی افعال سر انجام دیتے ہیں دہشت گردی اور کرپشن جیسے گھناؤنے جرم کرنے والے اپنے مکروہ دھندے بھی انٹرنیٹ کے ذریعے کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں بد امنی پیدا ہورہی ہے۔ خا ص کر نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔سوشل میڈیا پر مذہبی انتشار پھیلایا جا رہا ہے سیاسی بیانات اورذاتی اختلافات کی وجہ سے معاشرے میں بیگاڑ پیدا ہو رہاہے ، سوشل میڈیا جہاں بہت مفید ہے وہیں اس کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔ بہت سے واقعات ہمارے سامنے ہیں جس سے لوگوں کی زندگیا تک ختم ہوچکی ہیں۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے یہاں پر بھی سوشل میڈیا نے کئی زندگیا ں نگل لی ہیں۔سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے والی 26سالہ ایک ماڈل گرل جسے قتل کر دیا گیا تھا ۔ اس کے موت کی وجہ بھی سوشل میڈیا تھا۔وہ اپنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈالتی تھی جس سے اسے کافی پزیرآئی ملی اور وہ بہت جلدی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی پھر اسی سوشل میڈیا پر اس کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوا جو اس کی موت کا سبب بنا۔ ہمیں اس کے نقصانات سے بھی آگاہ ہونا چاہیے اس پر غیر اخلاقی مواد جان بوجھ کا ڈال دیا جاتا ہے جو غیراخلاقی سرگرمیوں میں اضافے کی باعث بنتا ہے جس سے ہمارا نوجوان طبقہ بے راہ روی کا شکار ہو رہا ہے ،کم عمری میں غیر اخلاقی ویڈیوز سے ان کے کچے زہنوں سے کھیلا جاتا ہے اور بچے اکثر غیر ملکی غیر اخلاقی فلمیں دیکھنے کے بعدوالدین کے نافرمان اور بد تمیزبن جاتے ہیں اور مغربی تہذیب اپنانے کے چکر میں اپنے اصل کو بھی کھو دیتے ہیں۔
ہم انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے اس قد ر جڑ گئے ہیں کہ اگر ایک منٹ کے لیے بھی کنکشن منقطع ہو جائے تو ہماری تو جیسے ورچوئلی موت(Virtually Death) واقع ہوگئی ہو۔ ہم اس قدر سوشل میڈیا پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر کوئی خبر درست نہ بھی ہوتو ہم اسے سچ مان لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا ہماری زندگیوں پر اس قدر اپنے اثرات نقش کر چکا ہے کہ اس کے بغیر ہم اپنی زندگی کو نامکمل سمجھتے ہیں۔کسی بھی مذہب میں انسان کے قتل کو منع کیا گیا ہے ۔ حضور پُر نور آقا کریم ﷺ کا ارشاد پاک ہے جس نے ایک شخص کو قتل کیا گویا اس نے پور ی انسانیت کا قتل کیا، اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پور ی انسانیت کی جان بچائی۔ہم جتنی مرضی ترقی کر لیں ہمیں اخلاقیات کو نہیں بھولنا چاہیے ۔ صبر ، برداشت او ر بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے ، اگرسوشل میڈیاکے بڑھتے ہوئے استعمال پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ رکھا گیا تو مردان یونیورسٹی جیسے واقعات معمول بن جائیں گے اور لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر فیصلے خود کرتے رہیں گے حکومت وقت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر کڑی نظر رکھیں اور ایسے عوامل کی سر کوبی کریں جو معاشرے میں بگاڑ پیدا
کرنے کے جرم کے مرتکز ہوں۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, 24 May 2017

عصر حاضرکا شیر شاہ سوری By M Tahir Tabassum Durrani


مکمل تحریر >>

Sunday, 21 May 2017

میاں شہباز شریف عصر حاضر کا شیر شاہ سوری By M Tahir Tabassum Durrani



میاں شہباز شریف عصر حاضر کا شیر شاہ سوری

ہندوستان کی تاریخ میں ایسا مسلمان بہادر جرنیل بھی گذرا ہے جس کی مدت بادشاہت بہت کم ہے جو کم و بیش (5 ) پانچ سال بنتی ہے یہ وہ واحد مسلم بادشاہ ہے جس کہ عمر کے آخری حصے میں بادشاہت نصیب ہوئی، مگر اس آدمی کے کارنامے کسی بھی بادشاہ جس کو حکومت ایک لمبے عرصے کے لیے ملی اس سے کہیں زیادہ اچھے اور فلاحی تھے۔ اس انسان نے دہلی پر حکمرانی کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کے لیے بہت کام کیا سڑکوں کا جال بچھایا۔اپنے دور حکومت میں شیر شاہ سوری نے سڑکیں اس انداز میں بنوائیں کی سفر کرنے والوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی یا تکلیف نہ ہوتی، سڑکوں کے ساتھ سایہ دار درخت لگائے تا کہ سفر کے دوران تیز دھوپ سے بچا جا سکے ، سڑک کے ساتھ ساتھ مخصو ص فاصلوں پر سرائے (آرام گاہیں) بنوائیں ہر آرام گاہ کے دو دروازے ہوتے ایک دروازہ مسلمانوں کے لیے جبکہ دوسرا دروازہ ہندؤں کے لیے ہوتاتھا۔ اسی طرے ایک مخصوص فاصلے پر ایک میٹھے پانی کا کنواں ہوتا جس سے پینے کا ٹھنڈا اور صاف پانی دستیاب ہوتا ،کنواوں کے اندر جانے کے لیے خوبصورت سیڑھیاں بنائی جاتیں تا کہ نیچے تک جا کر پانی حا صل کیا جا سکے۔
شیر شاہ سوری نے اپنے وقت میں ڈاک کا تیز ترین نظام متعارف کرایا سڑک کے کنارے چوکیاں بنوائیں ہر چوکی پر ایک تاز دم گھڑ سوار تیار کھڑا ہوتا ، ایک چوکی سے دوسری چوکی تک ایک گھڑ سوار ڈاک کا تھیلہ دوسری چوکی پر موجود گھڑ سوار کو دیتا اس طرح ڈاک کا تھیلہ آگے سے آگے تیزی سے پہنچا دیتا یوں بہت قلیل وقت میں ڈاک کی ترسیل کا عمل تیزی سے مکمل ہو جاتا۔
یہ بہادر جرنیل 1486ء میں پیدا ہوا اس کا اصل نام فرید خان تھا بے شمار کارنامے انجام دینے والا یہ مسلم جرنیل صرف 59 کے عمر میں 1545ء میں اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔اس عظیم بادشاہ کے کارناموں میں ایک کارنامہ پشاور سے کلکتہ تک سڑک کا قیام ہے اس سڑک کو گرینڈ ٹرنک روڈ (GT Road) جی ٹی روڈ بھی کہتے ہیں۔ اس بادشاہ کی پانچ سالہ حکومت سے ایک یہ بھی تخیل کیا جا سکتا ہے کہ ایک حکومت کے لیے پانچ سال کا عرصہ کافی ہوتا ہے اور اگر وہ عوام کے لیے کوئی فلاحی کام کرنا چاہیں تو یہ وقت ایک آیئڈیل(معیاری /مطمع نظر)وقت ہوتا ہے ۔ وہ جانتا تھا سڑکیں ملک و قوم کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اگر عصر حاضر کی بات کی جائے تو جس انداز سے ملک میں اور خاص طور پر پنجاب میں کام ہورہا ہے اور ہر طرف سڑکوں کا جا ل بچھایا جا رہاہے تو میاں شہباز شریف کو عصر حاضر کا شیرشاہ سوری کہنا غلط نہ ہوگا۔ان گنت عوامی فلاحی منصوبوں پر دن رات کام ہو رہا ہے مختلف علاقوں کے فاصلوں کو کم کرنے کے لیے پلیں تعمیر ہو رہی ہیں جس سے مسافت میں کمی اور وقت کی بچت ہوگی، ایسے بے شمار منصوبے زیر تعمیر ہیں جو عوام کے ساتھ کیے وعدوں کے تکمیل اور ملکی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔اربوں روپے کے سینکڑوں منصوبہ جات کی تکمیل کے بعد جنوبی پنجاب کی عوام کے لیے حکومت پنجاب کا ایک اور تاریخ ساز قدم۔21 ارب روپے کی لاگت سے لودھران تا خانیوال 98 کلومیٹر کی طویل دو طرف سڑک۔ 1ارب 16 کروڑ کی خطیر رقم سے فلائی اوور ز(پُل)بمقام ریلوے کراسنگ لودھراں ۔ جلالپور پیروالا، 
خانیوال سے لودھراں براستہ ملتان 127 کلومیٹر کا فاصلہ جو 29کلومیٹر کم ہو کر اب صرف 98کلومیٹر رہ جائے گا ، بہاولپور ، رحیم یار خان، ملتان ، لودھراں ، خانیوال اور وہاڑی کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
صادق آباد اور فیصل آباد کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے باآسانی رسائی، خانیوال انٹرچینج سے موٹروے تک آسان رسائی ، کراچی سے لاہور کے لیے متبادل راستہ ،ملتان بائی پاس سے وقت کی بچت اور ٹریفک کے بہاؤ میں آسانی۔ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری ، حادثات اور شرح اموات میں نمایاں کمی اور ٹریفک کے مسائل سے چھٹکارا حا صل ہوگا۔ موٹر وے ایم تھری(M3) یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت جنوبی اور شمالی پاکستان کو آپس میں جوڑا جا سکے گا، لاہور سے عبدالحکیم تک یہ موٹروے 230 کلومیٹرلمبا ہے 140 میل کا یہ طویل منصوبہ ابھی زیر تعمیر ہے اس امید کی جاسکتی ہے یہ منصوبہ 2018 ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت ننکانہ صاحب، جڑانوالا، سمندری اور پیر محل کے شہروں کو خاص اہمیت حاصل ہوگی۔ ان علاقوں میں روزگار بڑھے گا اور علاقے بھی ترقی کریں گے۔ یہ منصوبہ 6لینز پر مشتمل ہو گا جبکہ آرام گاہوں کی تعداد 3ہوگی۔
موٹر وے ایم فور (M4) شمال جنو ب کے علاقوں کو ملانے والا کہ منصوبہ پنڈی بھٹیاں انٹرچینج سے ملتان تک تعمیر ہو رہا ہے ۔ کچھ حصے مکمل ہوچکے ہیں جو ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں، جبکہ باقی علاقوں میں ابھی کام جاری ہے یہ پنڈی بھٹیاں سے ملتان براستہ فیصل آباد ملتان پہنچے گا۔ 53کلومیٹر پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک مکمل ہو چکا ہے جبکہ 62 کلومیٹر کا علاقہ گوجرہ سے شورکوٹ تک ابھی مکمل نہیں ہوا اور کام تیزی سے جاری ہے یہ منصوبہ بھی انشاء اللہ 2018ء تک مکمل ہو جائے گا جبکہ خانیوال سے ملتان کا حصہ مکمل ہو چکا ہے۔موٹر وے کا جال پور ے ملک میں پھیلایا جا رہا ہے اوپر ابھی صرف چند ایک کا زکر کیا ہے جبکہ موٹر ویز کے تعدا د 14 کے قریب ہے۔
یہ منصبوبہ جات حکومت کی اولین ترجیح ہیں کیونکہ جیسے جیسے منصوبہ جات مکمل ہو تے جائیں گے پور ا ملک آپس میں منسلک ہوتا جائے گا۔ لاہور میں بیٹھا تاجر کراچی بندر گاہ سے براہ راست اپنا میٹریل لاہور زمینی راستے سے لا سکے گا۔ ایک تو خرچ میں کمی آئے گی دوسرا فائد ہ عوام کو سستی چیزیں مہیا ہونگی۔موٹو ویز کا جال پھلانے کا مقصد تمام شاہرات کو موٹر ویز کے ساتھ منسلک کرکے بندرگاہوں تک رسائی حاصل کرنا ہے ۔ کچھ شر پسند عناصر یہ تعصب پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ جنوبی پنجا ب کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اس تعصب کو ختم کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب میں بے شمار عوامی فلاح کی منصوبہ جات شروع کیے ہوئے ہیں ۔ ان منصوبہ جات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حکومت پنجاب اور جنوبی پنجاب ایک خاندان کا حصہ ہیں۔
مکمل تحریر >>

Thursday, 4 May 2017

غزل by M Tahir Tabassum Durrani


مکمل تحریر >>

Tuesday, 2 May 2017

تبدیلی کھوکھلے دعوؤں اور دھرنوں سے نہیں آتی by M Tahir Tabassum Durrani


http://naibaat.com.pk/ePaper/lahore/05-05-2017/details.aspx?id=p13_09.jpg

تبدیلی کھوکھلے دعوؤں اور دھرنوں سے نہیں آتی

سورۃ الحجرات میں اللہ تبارک و تعالی ٰ کا فرمان ہے ۔اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ نادانی میں تم کسی قوم کو نقصان پہنچا دواور پھر اپنے کیے پرنادم ہونا پڑے۔مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں،تو اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جا ئے۔
بڑے نصیبوں والی وہ قوم ہوتی ہے جس کے حب الوطن اور وسیع النظر لیڈر میسر آتے ہیں کیوں کہ قومیں لیڈروں کے وژن سے بنتی ہیں۔ لیڈر ہی کسی قوم کو بلندیوں تک پہنچاتے ہیں اور لیڈر ہی قوموں کے زوال کے سبب بنتے ہیں۔پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے اور اس وقت اس ملک میں بہت سی سیاسی جماعتیں ہیں جو پاکستان کی عوام کی قیادت کر رہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین،پاکستان پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) پاکستان تحریک انصاف۔عوامی نیشنل پارٹی،جماعت اسلامی پاکستان،جماعت اسلامی پاکستان (ف)متحدہ وقومی مومنٹ ، پاکستان عوامی تحریک اور پاک سر زمین۔دیکھا جائے تو سبھی جماعتوں کا اپنا اپنا وژن ہے جس کے مطابق وہ کام کر رہی ہیں لیکن جب سے پاکستان آزاد ہوا ہے سرفہرست دوبڑی جماعتیں ہی رہیں ہے جو کبھی اقتدار میں تو کبھی اپوزیشن میں رہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی 30 نومبر 1967ء کو معرض وجود میں آئی اور حکومت کا حصہ رہی ہے اور عوام میں بے حد مقبول رہی ہے ، اس کے بعد ایک ایسی جماعت معرض وجود میں آئی جس نے نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کی یہ جماعت 25اپریل 1996ء کو معرض وجود میں آئی ۔2013ء کے جنرل الیکشن میں ایسا لگ رہا تھا جیسے کلین سویپ کر دی گے مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی اور ناکامی کا سامنہ رہا اور اس بار بھاری مینڈیٹ سے پاکستان مسلم لیگ (نون)نے میدان مار لیااور پاکستان تحریک انصاف کو خیبر پختوں خواہ میں حکومت ملی ، لیکن وہ ڈیلور کرنے میں بھی ناکام رہی ۔آئے روز دھرنے ، جلسے جلوسوں نے اس کی ساخت کو بہت نقصان پہنچایا جس کی ذمہ داری بھی اس کی لیڈر شپ کو جاتی ہے۔ مسٹر خان نے الزامات کی بنیادپر عوامی نمائندہ جماعت جس کو عوام نے بھاری مینڈیٹ سے اپنا رہبر و رہنما چنا اسے گرانے کے لیے پے در پے وار کرنے شروع کر دیے اور حکومتِ وقت کو خوب نشانہ بنایا۔ پاکستان اس وقت ترقی کی راہوں پر گامزن ہو چکا ہے اور انشاء اللہ بہت جلد ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوگا۔
مسلم لیگ (ن) کے نظریات یا ذاتیات کے ساتھ اختلاف ہوسکتا ہے ۔ لیکن ایک بات ماننا پڑے گی جب بھی بر سراقتدار آئے ہیں ملک میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرور آئی ہے ۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مو جودہ حکومت بھر پو ر انداز میں کوشش کر رہی ہے اور پاور پلانٹس کی تنصیب کا کام تیزی سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔تبدیلی کھوکھلے نعروں اور دعوؤں سے نہیں آتی اس کے لیے عملی طور پر کام کر کے دکھانا پڑتا ہے ۔ صرف سڑکوں پرعوام کودر بدرکر کے تبدیلی نہیں آنے والی بلکہ پارلیمنٹ میں مل بیٹھ کر قوانین بنا کر عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہیے۔ کبھی پانامہ کا شور مچا کر عوام کو بیوقوف بنایا تو کبھی کوئی الزام لگا کر عوام کو لال بتی کے پیچھے لگا کر وقت ضائع کیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا کیس تھا جس میں دونوں فریقین کیس کی سماعت میں پیش پیش رہے۔ الیکٹرانک میڈیا نے بھی بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے اور ہر روز کیس کی سماعت کے دوران بولے جانے والے ڈائیلاگز کو بریکنگ نیوزکے طور پر پیش کیا ، اخبارات کو بھی خوب شہ سرخیاں ملتی رہیں اور عوام میں بھی بے چینی پنپتی رہی۔پانامہ کا فیصلہ آنے سے پہلے تمام پارٹیوں کااتفاق تھاکہ معزز عدلیہ جو بھی فیصلہ دے گی سب اس کو قبول کریں گے جب معزز عدالت نے اپنا فیصلہ سنا یا تو پہلے سب نے لڈیاں ڈالیں لیکن جیسے وقت گذرا عدالت عالیہ کے فیصلے کے بر عکس بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوگیایقیناََ عدلیہ کے فیصلے پر اعتراض کرنا معزز جج صاحبان کی نیت پر شک کرنے اور عدالت پر کڑی ضرب لگانے کے مترادف ہے۔ ابھی کوئی نہیں جانتاکہ کس کو فائدہ ہوا اور کس کو نقصان یہ وقت بتائے گا۔ مسٹرخان نے ایک اور یوٹرن لیا اور فرمانے لگے ہمیں عدالت کے فیصلے پر شک نہیں بلکہ دو جج صاحبان نے میاں صاحب کو نااہل قرار دیا ہے اس پر زور دے رہے ہیں۔اب ان کو کون سمجھائے جب آپ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور آپ خود فرماتے ہیں جمہوریت اکثریت رائے کی پابند ہے یعنی جدھر اکثریت ہوگی وہی فیصلہ منظور کیا جائے گا ، جب تین معزز جج صاحبان نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تو دیدہ دلی سے فیصلے کو مان کر ایک تاریخ رقم کرتے اور آنے والے الیکشن کی تیاری کرتے تا کہ عوام میں ان کو خاص اہمیت حاصل ہوتی، اگلے دن پھر ایک نیا الزام لگا دیا گیا کہ مجھے خاموش کرنے کے لیے 10 ارب روپے کی آفر کرائی جارہی ہے۔ اتنا بڑا لیڈر اور ایسی باتیں ، قول و فعل میں اتنا بڑا تضاد ان کی شخصیت کے بالکل منافی ہے ۔ جیسا وہ پانامہ کیس میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کرسکے۔حال ہی میں اتنا بڑا الزام ایک منتخب وزیر اعظم پر لگانا کوئی اچھی روش نہیں اور یقیناََ وہ اس الزام کا دفاع کرنے میں بھی ناکام رہیں گے۔خود مہینوں دھرنا دیں اور اگر ملک و قوم کے معمار اساتذہ اپنا حق مانگنے کے لیے ایک دن دھرنا دیں تو سکول سے غیر حاضری پر طالبعلموں کا دن ضائع ہوتا ہے اور ان کی ایک دن کی تنخواہ کاٹنے کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے ، وہ کیا عجب منطق ہے ۔ لا ہور میٹرو بس کو جنگلہ بس کہنے والے خود ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ خادم اعلیٰ کے منصوبوں سے کس قدر اتفاق کرتے ہیں لیکن ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
سادگی اور سٹیٹس کے خاتمے کا نعرہ لگانے والے خود اپنے اردگرد نہیں دیکھتے کتنے غریب لوگ ہیں جو ان کی پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر ہیں،24 اپریل 2017 ء ایک نجی اخبار کے مطابق اب جناب مصطفےٰ کھر صاحب بھی پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کھر صاحب ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور پنجاب کے گورنر کی حیثیت سے اپنی خدمات ادا کر چکے ہیں لیکن ان کا پی ٹی آئی میں شامل ہونا اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی بھی اب صرف اشرافیہ کی جماعت ہے اور اپنے وژن سے کوسوں دور دیکھائی دے رہی ہے اور عوام بھی فیصلہ کر چکی کی آئندہ کس کو ووٹ دینا ہے ۔ کون سی جماعت خالی کھوکھلے نعرے لگا کر عوام کو بیواقوف بنا رہی ہے اب عوام سڑکوں پر خوار ہونے کبھی نہیں نکلے گی ۔عوام نعروں،جلسے جلوسوں اور دھرنوں کی سیاست کو دفنا چکی ہے ۔اب عوام میں شعور پیدا ہو چکا ہے کہ اب وہی برسر اقتدار آئے گا جو صحیح معنوں میں عوام کے مسائل کو حل کرے گا۔ عوام کو ریلف دے گا اور عوام کے لیے فلاحی منصوبے بنائے گا۔

مکمل تحریر >>