Tuesday, 10 January 2023

https://www.hilal.gov.pk/urdu-article/detail/Njk1MQ==.html

 حق کے لیے ہی لڑتا ہے وہ حق کا پرستار

 ملٹری انٹیلی جنس آفیسر کرنل سہیل عابد شہیدکی داستانِ شجاعت 
قوم کے ایک او رعظیم بہادر سپوت نے مادر وطن کا قرض چکا دیا ۔دشمن چاہے کتنا ہی مکار اور طاقتور کیوں نہ ہو، پاک فو ج کے جوان ،جواں مردی سے جواب دینا جانتے ہیں وہ وطن عزیز پر اپنی جان تو قربان کر سکتے ہیں لیکن اس کی عزت و ناموس پر آنچ نہیں آنے دیتے ۔ جب وہ پاک فوج میں شمولیت اختیار کر تے ہیں تو اُن کے دل میں صرف دو ہی باتیں ہوتی ہیں، پاکستان کے دفاع پر یا تو جان قربان کر کے شہید ہو جائیں گے یا غازی بن کر سُرخرو۔ اُن کے دل میں جذبۂ حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے ۔پاک فوج دنیا کی بہترین افواج میں سے ایک ہے ۔ یہ بہادر اور غیور سپوتوں کی فوج ہے ۔پاک فوج کے آفیسر مشکل وقت آنے پر اپنی جان کی پروا نہیں کرتے۔ وہ دوسری افواج کی طرح اپنے جونیئرز کو آگے نہیں بھیجتے بلکہ خود لیڈ کرتے ہوئے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں،یہی فرق افواج پاکستان کو دنیا کی دیگر افواج سے منفرد کرتا ہے 

کرنل سہیل عابد جن کے والد وہاڑی کے نواحی گائوں کے نمبر دار جبکہ ایک بھائی راجہ شیراز گل وکالت کے پیشہ سے منسلک اورچھوٹا بھائی یونین کونسل کا ممبر ہے ،نے پرائمری سے ایف اے تک کی تعلیم وہاڑی سے ہی حاصل کی جبکہ گریجویشن انہوں نے اسلام آباد ماڈل کالج فار بوائز ایچ نائن سے مکمل کی۔1990ء میں 90 پی ایم اے لانگ کورس کا حصہ بن کر پاک فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ جذبہ حب الوطنی سے سر شار یہ نوجوان پاک فوج میں کرنل کے عہدے پر فائض تھا۔ اگر وہ چاہتے توآپریشن کے دوران اپنے جونیئرز کو آگے بھیج سکتے تھے لیکن انہوں نے خود آپریشن کو لیڈکرنا بہتر سمجھا اِ ن کا جذبہ دیدنی تھا۔ انہوں نے خود اِس آپریشن کو لیڈکرتے ہوئے دشمن کے چھکے چھڑا دیے اور اسے بھاری نقصان پہنچایا ۔ آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ بارود بھی برآمد ہوا۔ کرنل عابد سہیل کا دل وطن کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو کا عاشق تھا ، وہ وطن کی مٹی سانسوں میں سجائے جیتا تھا ۔ شہادت کا جذبہ اس قدر زیادہ تھا کہ شہادت سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار اپنی اِ س نظم میں کیا۔کرنل سہیل عابد شہید کی اپنی لکھی نظم آپ کی نذر ہے۔
میری وفا کا تقاضہ کہ جاں نثار کروں
اے وطن تری مٹی سے ایسا پیار کروں
میرے لہوسے جو تیری بہار باقی ہو
میرا نصیب کہ میں ایسا بار بار کروں
خون دل سے جو چمن کو بہار سونپ گیا
اے کاش اِ ن میں خود کو شمار کروں
مری دعا سہیل میں بھی شہید کہلائوں
میں کوئی کام کبھی ایسا یادگار کروں
جب پاک فوج کے جوانوں کے ایسے جذبے ہونگے تو وطن کو کوئی میلی آنکھ سے دیکھ ہی نہیں سکتا۔ جب کرنل سہیل عابدکا جسد خاکی اُن کے آبائی گائوں لایا گیا تو اُس بہادر باپ کی بہادری پر رشک آنے لگا۔ ایسا بہادر باپ بیٹے کی قربانی پر آنسو نہیں بہا رہا تھا بلکہ اللہ کا شکر ادا کر رہاتھا کہ میرے بیٹے کو اللہ نے عظیم الشان مرتبہ عطا کیا، یہ میرا ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا بیٹا ہے۔بھائیوں کو اپنے بھائی کی قربانی پر ناز، کہ اُن کے بھائی نے وطن عزیز کی خاطرجان کا نذرانہ پیش کر کے اپنی آخرت سنوار لی اور اللہ کے پسندیدہ بندوں میں اپنا نام لکھوا لیا۔وطن کے اس سپوت نے کتنے سہاگ اجڑنے سے بچا لیے، ملکی سالمیت پر جان نچھاور کر کے امن کی شمع روشن کر نے میں اپنا حقیقی کردار ادا کر دیا۔ہمارے یہ جوان پاکستان کی حفاظت پر مامو ر  ہونگے تو جو میلی آنکھ سے دیکھے گا اُس کی آنکھ پھوڑ دیں گے، اُٹھنے والی انگلی توڑ دیں گے ۔ یہ شیربہادر ، غازی مادروطن کے عظیم سپوت ہیں۔
کرنل عابد نے ایف سی کو نشانہ بنانے والے وطن دشمنو ں کو ایسا جواب دیا کہ عمر بھر یاد رکھیں گے۔ کرنل سہیل کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اُن کے خاندان میں یہ تیسری شہادت ہے۔ اُن کے دادا صوبیدار میجر راجہ احمد حسین عباسی نے جنگ عظیم دوئم مصر میں جام ِ شہادت نوش کیا تھا۔ ان کے چچا کیپٹن ظفر اقبال عباسی (جن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وہاڑی کے قریبی ریلوے اسٹیشن کو اُن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے)نے 1949ء میں کشمیر کے محاذ پر جام ِ شہادت نوش کیا تھا اور حکومت پاکستان کی طرف سے ستارہ جرأت کا اعزاز اپنے نام کیا ۔ کرنل سہیل عابد بلوچستان ملٹری انٹیلی جنس ایم آئی کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے، اس بہادر آفیسر کرنل سہیل عابد نے کلی الماس میں اُن محفوظ ٹھکانوں کا پتہ لگایا جہاں یہ ظالم سفاک درندے تخریب کاری کے لیے منصوبہ سازی کررہے تھے۔یکم رمضان المبارک کو جام شہادت حاصل کرنے والے اس بہادر سپوت کی قربانی کو قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ کیونکہ یہ آپریشن کوئی معمولی آپریشن نہ تھا ۔
کرنل سہیل عابدپچھلے چھ ماہ سے بچوں اور گھر والوں سے دور ملک و قوم کی خدمت کر رہے تھے ۔ کرنل سہیل کے بچے ماں سے ناراض تھے اورضد کر رہے تھے کہ اس عید پر بھی ہمارے پاپا ہمارے ساتھ عید نہیں منائیں گے جبکہ والدہ بچوں کو کہتی ہے کہ ابھی آپ کے پاپا سے بات ہوئی ہے وہ اس عید پر ہمارے ساتھ ہونگے ۔ بچے والدہ کی بات پراطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں لیکن والدہ کی نم آنکھیں اپنے خاوند کے انتظار میں لگی ہوئی ہیں ۔پھر اُن کے خاوند کا فون آتا ہے ۔ کرنل سہیل عابد بہت خوش تھے، وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور اپنی اہلیہ سے کہتے ہیں ، دیکھو مجھے مبارکباد نہیں دو گی مجھے اللہ نے بلوچستان میں آپریشن ردالفساد کے لیے بطور انچارج سلیکٹ کر لیا ہے ۔ وہ ایک شجاع اور جری انسان  تھے۔ کرنل عابد نے کہا آج میں بہت خوش ہوں، بیوی یہ سن کر ایک دم سے سکتے میں آگئی و ہ پہلے ہی چھ ماہ سے اپنے سر کے تاج کے انتظار میں تھی پھر اس خبر نے انہیں بالکل خاموش کر دیا، پھر سے آواز آئی مبارک باد نہیں دو گی ۔کانپتے ہونٹوں سے لب کشائی کرتے کہا ''مبارکبادجی '' اور فون بند کر دیا۔
بچوں کو کھانا دینے اور سلانے کے بعد اپنے خاوند سے بات کرنے کو جی چاہ رہا تھا، لیکن فون مسلسل بند جا رہا تھا۔ کافی کوشش کے بعد اپنے کمرے میں آکروہ سو جاتی ہیں۔اگلی صبح سحری کی تیاری میں مصروف ہیں کہ فون کی گھنٹی بجتی ہے '' السلام علیکم'' پھر دوسری طرف سے کچھ سنتی ہیں کہ آنکھوں سے نہ رکنے والی جھڑی جاری ہو جاتی ہے۔  جسم لاغر ہو جاتا ہے ، ٹانگیں کانپنا شروع ہو جاتی ہیں اور وہ وہیں گِر جا تی ہیں جبکہ کرنل سہیل کی والدہ ذکر و اذکار میں مصلے پر مصروف یہ ماجرا دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ پھر وہ فون اٹھاتی ہیں اور اگلے لمحے یہ کلمات کہتی ہیں '' یا اللہ قبول فرمانا، اے اللہ قبول فرمانا'' اور آنسو زمین پر گرتا ہے۔
کرنل سہیل عابدجو آپریشن ردالفساد کے انچارج تھے،انہوں نے آپریشن شروع کیا۔ دہشتگردوں کے پاس جدید اسلحہ تھا ، شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ یہ خود کش بمبار ملک میں بہت بڑی تباہی مچانا چاہتے تھے۔ اس آپریشن میں دشمنوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ آپریشن میں سلمان بادینی جو کہ سو سے زیادہ لوگوں کو قتل کرنے میں ملوث تھا ، جس کے سر کی قیمت حکومت وقت نے بیس لاکھ روپے رکھی تھی، اُسے بھی واصل ِ جہنم کیا گیا۔ آپریشن میں دو خود کش بمبار وں کو بھی جہنم کی راہ د کھائی۔فائرنگ بہت شدید تھی لیکن  پاک فوج کے جوانوں کے جذبہ حب الوطنی کو آگے بڑھنے کو نہ روک سکی ۔ پورے آپریشن میں کرنل سہیل عابد فرنٹ سے لیڈ کر رہے کہ اچانک ایک گولی اُن کے سینے میں آ لگی جس سے وہ بُری طرح زخمی ہوگئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے  عظیم المرتبہ انسانوں کی صف میں کھڑے ہوگئے جب کہ چار جوان شدید زخمی ہوئے۔ اس طرح 16 مئی 2018ء کو ایک اور قوم کا بہادرسپوت جام شہادت نوش کر گیا۔اس آپریشن میں کرنل سہیل عابد بڑی بہادری سے لڑتے رہے ، آپریشن کے دوران اے ٹی ایف کے شدید زخمی ہونے والے حوالدار ثناء اللہ بھی شہادت کے منصب پر فائز ہوئے۔ کرنل سہیل شہیدعابدکا بیٹا احمد سالار اور تین بیٹیا ں ہمیشہ کے لیے اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہوگئیں اور بیوی نے اپنے سر کے تاج کو وطن عزیز پر قربان کر دیا۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ شہید کے درجات بلند فرمائے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
17مئی 2018ء کو جب اُن کا جسد خاکی سبزہلالی پرچم میں لپیٹ کر کوئٹہ سے خصوصی طیارے کے ذریعے اُن کے آبائی گائوں میں لایا گیا تو رقعت آمیزمناظر دیکھنے کو ملے۔ پاک فوج سے والہانہ محبت کرنے والے لوگوں کی کثیر تعداد اُمڈ آئی۔ خاندان کے لوگوں، عزیز و اقارب کے علاوہ عسکری قیادت نے بھی جنازے میں شرکت کی ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالی گھروالوں کو صبر جمیل عطا فرمائے اور شہید کے درجات بلند فرمائے ۔ ہمیں اپنی فوج پر اور جوانوں پر فخر ہے ۔
 پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔ ||



مکمل تحریر >>

Tuesday, 2 July 2019

Tuesday, 2 April 2019

کھیوڑہ سالٹ رینج نمت خدا وندی تحریر طاہر درانی

کھیوڑہ سالٹ رینج نعمتِ خدا وندی
از قلم۔ محمد طاہر تبسم درانی
0310-1072360
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بے شمار احسان کیے ، زندہ رہنے کے لیے کھانے کا بندوبست کیا ، اناج اُگانے اور سونے کے لیے زمین کو لیٹا دیا الغرض حضرت انسان کی خاطرو تواضع کے لیے انگنت نعمتیں نازل فرمائیں تا کہ انسان ان سے لطف اندوز ہو سکے اور سجدہ شکر بجا لائے ۔ پھر اپنی نعمتوں کا تذکرہ بھی خوب کیا قرآنِ مجید فرقان حمید کی سورۃ الرحمٰن میں اکتیس بار اس آیت کریمہ کو دہرایا ’’ کہ تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ‘‘ اس آیت کریمہ کو دہرانے کا مطلب اپنے بندوں کو اس بات کی تنبہ کرنا ہے کہ میں نے تمہیں بے شمار نعمتوں سے نوازہ تا کہ تم شکر بجا لا سکواور اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط رکھوتا کہ تمہیں اور نواز سکوں ۔اگر اس سورۃ مبارکہ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ ہر دو نعمتوں کے بعد اللہ کریم نے اس آیت کریمہ کو نازل فرما یا’’ تم اپنے پروردگار کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ‘‘ اگردنیا کی نظر سے دیکھا جائے تو جب کو ئی دوست اپنے دوست کے مشکل وقت میں کام آتا ہے، اُس کی کسی ضرورت کو پورا کرتا ہے ،لیکن دوسری طرف وہ انسان مسلسل احسان فراموشی کرتا ہے تو پہلا دوست یہ ضرور کہتا ہے کہ میں نے تیری فلا ں ضرورت کو پورا کیا تمہارے مشکل وقت میں تمہارا ساتھ دیا تمہیں میری کو ئی اچھائی یاد نہیں ؟ بالکل اسی طرح اللہ کریم اپنے بندوں کو بار بار یہ باور کروا رہے ہیں کہ میں نے تم پر اپنی نعمتوں کا نزول فرمایا اور تم شکر کرنے کی بجائے نافرمانی اور نا شکری کر رہے ہو۔
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اللہ کی نعمتوں سے مالا مال اسلامی ملک ہے ۔صوبائی دارلحکومت لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے تقریباََ250 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع جہلم کا ایک خوبصورت علاقہ کھیوڑا کا مقام ہے یہ مقام اپنی ایک خاص پہچان رکھتا ہے اور یہ پہچان اللہ کے اُس نایاب تحفے کی وجہ سے جو دنیا میں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کھیوڑاکے مقام پر نمک کی وہ عظیم کان ہے جہاں نمک کی سب سے زیادہ مقدار نکالی جا رہی ہے ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وقت جتنا نمک اس کان سے نکالا جا رہے وہ مجموعی طور پر پاکستان کی دیگر کانوں سے نکالے جانے والے نمک سے زیادہ مقدار میں ہے قارئین کے لیے یہ بات دلچسپ ہو گی کہ پاکستان نمک کے ذخائرکے لحاظ سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آتا ہے دوسرے نمبر پرپولینڈ کے نمک کے ذخائر آتے ہیں۔ نمک ہمارے کھانوں کا ایک اہم جزو ہے کھانے میں اگر نمک کی کمی ہو تو اچھے سے اچھا کھانا بھی پھیکا اور بد مزہ ہو جاتا ہے اور اس لحاظ سے نمک کو کھانے کا سر دار جزو سمجھا جاتا ہے ہے کچھ جُملے بھی عام بولے جاتے ہیں ، فُلاں بڑا نمک حرام ہے ،فُلاں نمک حلال ہے ۔الغرض نمک کا ہماری روز مرہ زندگیوں کے ساتھ ایک گہرہ تعلق ہے ۔اور الحمد اللہ پاکستان نمک کے معاملے نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ وہ اسے فروخت کر کے دنیا میں اپنا ایک الگ مقام اور اہمیت رکھتا ہے ۔
مورخین اس کی تاریخ کے بارے میں کچھ خاص نہیں لکھتے البتہ اس بات پر سبھی کا اتفاق ہے کہ 322 قبل مسیح جب سکندر اعظم جب راجہ پورس سے لڑنے کے لیے نمک کے درے نندنہ سے گذر کر کھیوڑا کے مقام پڑاؤڈالااور اپنی فوجیں انہیں پہاڑوں میں چُھپا دیں ۔اسی دوران سکندر اعظم کا گھوڑا بیمار پڑ گیااورگھوڑے نے کان کی دیواروں کا چاٹنا شرو ع کر دیا اور گھوڑا تندرست ہو گیا پھر کچھ لوگوں نے بھی ان دیواروں کو چاٹنا شروع کر دیاجہاں انکشاف ہوایہاں قدرت نے نمک کا ایک انمول خزانہ چھپا رکھا ہے۔ کان جنجوعوں راجوں کے پاس رہی پھر مغلیہ دور میں یہ کانیں شاہی حکومت کے پاس آگئیں پھر آزدی کے بعد یہ حصہ پاکستان کی ملکیت بنا اوریہ کانیں پاکستان کے حصے میں آگئیں ۔ماہرین ارضیات کی تحقیق کے مطابق جہاں اب یہ نمک کے پہاڑ ہیں جن کو ’’ سالٹ رینج ‘‘ کہا جاتا ہے واقع ہیں یہ حصہ صدیوں پہلے سمندر کی تہہ میں تھا پانی کے بہاؤ، رساؤ بخارات کی وجہ سے یہ چٹانیں وجود میں آ گئیں پھر رفتہ رفتہ سمند ر ختم ہو گیا لیکن نمک کا یہ ذخیرہ زمین کے اندرمحفوظ ہوگیا ۔
موجودہ نظام ایک انجنیئر نے بنا یا تھا جس کا نام علی خان بتایا جاتا ہے ۔یہ اللہ کا انمول خزانہ 110 مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے ایک اندازے کے مقابق اس کان سے سالانہ 325000ٹن نمک حاصل کیا جاتا ہے ۔نمک نکالنے کے لیے ایک خاص طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ 50 فیصد نمک نکالا جاتا ہے جبکہ بقیہ 50 فیصد ستون اور دیوار کا کام کرنے کی غرض سے چھوڑ دیا ہے ۔اس کان کی 19 منزلیں ہیں جبکہ کہ گیا رہ (11) منزلیں زیر زمین ہیں ۔ کھیوڑا سے شروع ہونے والا یہ پہاڑی سلسلہ کالا باغ، میانوالی تک جاتا ہے ۔ کان کنی کا آغاز انگریز دور میں 1849ء میں شروع ہوا1872ء میں کان کے اندر نمک کے بڑے بڑے بلاکس کو لانے کے لیے چھوٹی ریلوے لائن بچھائی گئی اس ریل گاڑی کو کھینچنے کے لیے شروع میں گھوڑوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو ریل کے ڈبو ں کو باہر کھینچ کر لاتے پھر وقت بدلتا گیا اور ٹیکنالوجی سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے بجلی سے چلنے والے انجن کی مدد سے ریل کو کارآمد بنا یا گیا ۔کان کُنی کا طریقہ کار پہلے سادہ اور مشکل تھا یعنی ہتھ دستی خود ساختہ اوزار استعمال کیے جاتے بعد میں بجلی سے چلنے والے اوزاروں کا استعمال ہونے لگا اس کے بعد بارود کے ذریعے کان کو دھماکہ کر کے نمک حاصل کیا جانے لگا۔
کان میں کام کرنے والوں کی تعداد کافی ہے اور اس علاقے کے لوگ زیادہ تر اسی شعبے سے وابسطہ ہیں ۔ کچھ لو گ اپنا کاروبار بھی کرتے ہیں وہ نمک سے بنی خوبصورت آرائشی اشیا ء کوفروخت کرتے ہیں اپنے ہاتھوں سے بنائی گئی مختلف اشیاء سیاحوں کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہیں ، نمک سے بنے گلدان، ٹیبل لیمپ اور دیگر آرائشی اشیاء قابل ذکر ہیں۔ اس کان کے انتظامات پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کا رپوریشن کے پاس ہیں ۔شروع شرو ع میں کم لوگ اس کان کی سیر و تفریح کے لیے آتے تھے لیکن لوگوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اور سیاحوں کی بڑھٹی ہوئی تعداد کی وجہ سے پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کا رپوریشن نے ٹکٹ لگا دی جس سے اچھی خاصی انکم ہو جاتی ہے پاکستان اور دنیا بھر سے سیاح اس تاریخی کان کو دیکھنے آتے ہیں اور ٹکٹ حاصل کرکے کان کے اندر کی سیر کرتے ہیں ۔ داخلی دروازہ پہاڑوں کی نسبت بہت چھوٹا ہے ۔ چھوٹی ریل گاڑی جو نمک کو باہر لانے کے کام آتی ہے ایک ڈیڑھ کلومیٹر تک سیاحوں کو بھی اندر لے جانے اور واپس لانے میں مدد کرتی ہے لیکن اس کے لیے بھی الگ سے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے ۔کان کے اندر بہت گھُپ اندھیر ا ہوتا ہے لیکن برقی قمقموں کی وجہ سے ایک الگ دنیا 
کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ یہ کان دمہ کے مریضوں کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے اس لیے انتظامیہ نے کان کے اندر نمک کی دیواروں سے بنا ایک ہسپتال قائم کر رکھا ہے جس میں دمہ کے مریض کو رکھا جاتا ہے اور اس کی بیمار ی اللہ کے فضل سے تندرستی میں بدل جاتی ہے ۔ پیدل چلنے والوں کو احتیاطی تدابیر بھی بتائی جاتی ہیں کیونکہ اندر مختلف جگہوں سے نمک نکال لینے کی وجہ سے وہاں تالاب بن چکے ہیں ان تالابوں میں آج تک کوئی حادثہ پیش نہیں آیا چونکہ تالاب میں نمکین پانی موجود ہوتا ہے اگر اللہ نہ کرے کوئی گر بھی جائے تو وہ ڈوبتا نہیں ، وہاں پر یہ فقرہ بالکل ٹھیک کام کرتا ہے ’’ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا‘‘ اگر کوئی گر بھی جائے تو مزدور / ورکر اوپر سے رسہ پھینکتے ہیں جسے پکڑ کر تالاب میں گرا ہوا انسان باہر آجاتا ہے ۔
کان کے اندر سیاحوں کے لیے مختلف قسم کے پروگرامز بھی مرتب کیے جاتے ہیں کبھی موسیقی کا پروگرام کبھی فیملی کے لیے پروگرامز منعقد کیے جاتے ہیں اندازے کے مطابق روزانہ 500 سے 600 افراد اس قدرت کے انمول خزانے کی سیر کرنے آتے ہیں ۔کان کے اندر بہتر حکمت عملی کو اپناتے ہوئے آدھانمک نکالا جاتا ہے تا کہ بقیہ دیواریں ستونوں اور پُل کا کام کر سکیں تا کہ کان نیچے کو نہ بیٹھ جائے جس سے خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش نہ آ جائے ۔کچھ حصہ اتنا گہرا کھودا جا چکا ہے کہ نیچے پانی نکل آیا ہے جس کے وجہ سے کافی جگہوں پر جھیلیں بن چکی ہیں ۔آنے جانے کے لیے نمک کو کاٹ تراش کر سیڑھیاں بنائی گئیں ہیں ۔ ایک ڈیرھ کلومیٹر اندر جا کر ایک چوکی نما جگہ بنی ہوئی ہے جہاں سے چار مختلف راستے نکلتے ہیں ۔ایک طرف نمک سے بنی خوبصورت مسجدہے جسے بادشاہی مسجد کا نام دیا گیا ہے یہ مسجد سیاحوں کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہے اس مسجد کو 1994ء میں تعمیر کیا گیا تھا اس پر خوبصورت جگمگاتے برقی قمقمے اس مسجد کو خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں، اس سے تھوڑا آگے جائیں تو ایک ایسی جگہ آتی ہے جہاں پہاڑوں سے ہر وقت پانی رستا رہتا ہے اور پھر قطروں کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور اسی حالت میں جم جا تی ہے اور لڑیوں کی صورت نظر آتا ہے اس جگہ کو ’’ اشک نمک ‘‘ کہتے ہیں۔ اس سے تھوڑا آگے جا کر نمک سے بنا خوبصورت مینار پاکستان نظر آتا ہے جس کے اندر بلب روشن ہوتے ہیں شفاف نمک سے باہر آتی روشنی اسے مزید خوبصورت اور جاذبِ نظر بنا دیتی ہے ۔ کان کے اندر مختلف حصوں کو نام بھی دیے گئے ہیں جیسے ’’ بانوں بازار، شیش محل،بھاٹی گیٹ اور پُل صراط‘‘وغیرہ۔ کان کے اندر اگر آپ چاہیں تو اپنے ساتھ گائیڈ بھی لے جا سکتے ہیں جو نہ صرف آپ کی راہنمائی کرتا ہے بلکہ مختلف حصوں کے بارے آگاہی بھی دیتا ہے جس سے سیاحت کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔
سیاحوں کی خاطر تواضع کے لیے پارکنگ ایریا کے سامنے بہت بڑا ہوٹل ہے جو بہترین کھانا اور چائے مناسب داموں آپ کی خدمت میں پیش کرتاہے اسی ہوٹل کے ساتھ چھوٹی چھوٹی سرکاری دکانیں موجود ہیں جہاں سے آپ اپنے پیاروں کے لیے نمک سے بنے تحفے تحائف خرید سکتے ہیں ۔ہوٹل سے لیکر ٹکٹ گھر تک عارضی آہنی لوہے کی بنی چھت موجود ہے تا کہ سیاح گرمی کی شدت سے بچ سکیں ۔داخلی راستے سے پہلے سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے واک تھرو گیٹ بنایا گیا ہے جہاں جامہ تلاشی کے بعد سیاحوں کو اندر جانے کی اجازت ملتی ہے پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کا رپوریشن نے بچوں کے لیے جھولے ، سرکس اور دیگر تفریحی چیزوں کا بھی بندوبست کیا ہوا ہے ۔
اتنی بڑی نعمت لیکن افسو س ہم اس نمک کو بھارت جیسے دشمن ملک کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچ رہے ہیں جبکہ بھارت میں اس نمک کو بہت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔اور اپنی مذہبی رسومات میں استعمال کرتا ہے جبکہ یہودی بھی اس کا استعمال ’’کوشر ‘‘ حلال کے طور پر کرتے ہیں۔ اگر اسی صنعت پر توجہ دی جائے تو پاکستان اپنی معیشت کو بہتر بنا سکتا ہے اگر بھارت پاکستان کے ساتھ کیے معاہدے توڑ سکتا ہے تو پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ نمک کے معاہدے کو توڑ کر اسے مہنگے داموں فروخت کر کے اپنا لوہا منوائے بھارت کے ساتھ دیگر ممالک کو بھی
نمک کی سپلائی دی جانی چاہیے تا کہ اس صنعت کو اور اس سے وابستہ لوگوں کی زندگیوں کو بہتربنایا جاسکے 


مکمل تحریر >>

Tuesday, 28 August 2018

A Tribute to Martyr :Lft. Faiz Sultan Malik by M Tahir Tabassum Durrani



مکمل تحریر >>

Thursday, 16 August 2018

A Tribute to Martyr General Zia Ul Haq by M Tahir Tabassum Durrani


مکمل تحریر >>

A Tribute to martyr Captain Najam Riaz Raja By M Tahir Tabassum Durrani


مکمل تحریر >>

A Tribute to martyr Lalak Jan By M Tahir Tabassum Durrani


مکمل تحریر >>

A Tribute to martyr Saif Ali Khan janjoa By M Tahir Tabassum Durrani


مکمل تحریر >>

A Tribute to Captain (R)Ahmad Mobin by M Tahir Tabassum Durrani


مکمل تحریر >>

Monday, 2 July 2018

پاک فوج کے ساتویں۔۔۔عظیم ہیرو۔۔میجر محمد اکرم شہید کی یاد میں By M Tahir Tabassum Durrani

پاک فوج کے ساتویں۔۔۔عظیم ہیرو۔۔میجر محمد اکرم شہید کی یاد میں ایک تحریر
آج کے روزنامہ جہاں پاکستان میں ۔۔۔۔پاک فوج کو خیراج تحسین پیش کرتے ہوئے 

مکمل تحریر >>

بقائے حیات پانی خطرے میں ہے By M Tahir Tabassum Durani

بقائے حیات پانی خطرے میں ہے


بقائے حیات پانی خطرے میں ہے

سورۃ انبیاء آیت نمبر تیس (30) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا،’’اور ہم نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا فرمایا‘‘ قرآن مجید فرقان حمید کی اس آیات کریمہ کی روشنی میں ہمیں پانی کی اہمیت کا خوب اندازہ ہوتا ہے کہ پانی نعمت خدا وندی ہے اور کائنات کی بے شماراور لازوال نعمتوں میں سے ایک اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے ۔انسانی جسم کو 60فیصد پانی کی ضرورت ہوتی ہے ، سا نئسی تحقیق کے مطابق ایک صحت مند جسم کو دن میں8 گلاس پانی انتہائی ضروری ہیں ۔
کسی بھی جاندار کے زندہ رہنے کے لیے تین عناصر بے حد ضروری ہیں ہوا، روشنی اور پانی، ان تنیوں میں سے اگر ایک عنصرکی ہماری زندگی میں کمی واقع ہو جائے یا نکا ل دیا جائے تو زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے لیکن اگر پانی نہ ہوتو موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ صحت اور زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے ہوا ، روشنی کے بعد پانی بے حد ضروری عنصر ہے تندرستی کو قائم رکھنے کے لیے پانی کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا صاف ستھری ہوا کی طرح صاف ستھر ا اور جراثیم سے پاک پانی انسانی جسم کے لیے اہمیت کا حامل ہے ۔ جیسے صحت مند معاشرے کے لیے خالص ہوا ضروری ہے بالکل اسی طرح صحت مند جسم کے لیے خالص پانی کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ اگر پانی گدلا ، بدبو دار ہو یا جراثیم سے پاک نہ ہو تو انسانی جان کو بہت سے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور بہت سے موزی امراض کے شکار ہو سکتا ہے جیسے پیٹ کے امراض، قبض،ٹائیفائیڈ اور ہیضے کے امراض جیسی جان لیوا بیماریاں بھی لاحق ہو سکتی ہیں۔پانی زندگی ہیاور پانی کی اہمیت اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ تمام غذاؤں کوہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ بہت سی بیماریوں سے نجات دلاتا ہے جیسے پیشا ب کی جلن اور یرقان جیسی مہلک بیماریوں سے بچا ؤ کے لیے صاف اور کثرت سے پانی پینا مفید ثابت ہوتا ہے ۔ پانی ہمیشہ صاف ستھرا اور میل کچیل سے پاک پینا چاہیے تاکہ بیماریوں سے بچا جا سکے ۔ ایک اچھے اور صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں پینے کا پانی صاف اور جراثیم سے پاک ہو۔
پاکستان ایک ترقی پزیر زرعی ملک ہے اور اس کی آبادی میں دن بد ن اضافہ ہو رہا ہے ۔لوگوں کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے بہت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ملک بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن بہت سے مسائل سے بھی دو چار ہوتاچلاجا رہاہے ۔ جگہ جگہ فیکٹریاں ، کارخانے لگائے جا رہے ہین جن سے فضائی آلودگی تو پھیل ہی رہی ہے وہیں پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے جو انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے ۔ آلودگی کے بڑے اسباب میں سے چند کاذکر کر رہا ہوں۔ کارخانوں ،گاڑیوں اور چیزوں کے جلنے سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں اور زرات جو پانی میں شامل ہو کر پانی کو آلودہ کر رہے ہیں۔ کارخانوں سے نکلنے والا فالتو اور مضر صحت کیمیائی مواد جو پانی میں شامل رہا ہے ، گھریلو اور ہسپتالوں کا کوڑا کرکٹ جراثیم ملامواد جو پانی میں شامل ہو کر پانی کو زہریلا اور جراثیم شدہ بنا رہا ہے ۔کیمیائی کھادیں ۔ کیڑے مار ادویات اور سپرے بھی پانی کو آلودہ کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت پانی کو آلودہ کرنے کی ایک بہت بڑی وجہ شاپنگ بیگ کابے دریغ استعمال ہے یہ شاپنگ بیگ استعمال کے بعد جب کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیے جاتے ہیں تو نکاس آب کی رکاوٹ تو بنتے ہی ہیں لیکن جب ان کو جلا یا جاتا ہے تو اس سے نکلنے والا زہریلادھواں پانی میں شامل ہو کر پانی کی آلودگی کا باعث بنتا ہے ۔ شہروں میں پینے کے پانی اور گٹروں کے پانی کے پائپ ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں اور اتفاق سے یہ پائپ پرانے اور بوسیدہ ہونے کی وجہ سے مختلف جگہوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکا رہوتے ہیں جس کے وجہ سے صاف پانی میں گٹر وں کا پانی شامل ہو جاتا ہے اور پینے کے پانی کو آلودہ کر دیتا ہے ۔ جس سے ہیضہ پیٹ کی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور یقیناََ معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان مین شہری آبادیوں میں 44 فیصد آبادیاں ایسی ہیں جو صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں جبکہ 90فیصد دیہاتی آبادیا ں ہیں جو پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ایسویٹس (PCRWR) کے مطابق صاف پینے کے پانی کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ایک اندازے کے مطابق تقریباََ 2 لا کھ سالانہ کے حساب سے بچوں کی اموات واقع ہو رہی ہیں۔
صاف پانی تو مسلہ ہے ہی لیکن اس سے زیادہ تشویش نا ک بات یہ ہے کہ پانی کی سطح مزید نیچے ہوتی جار ہی ہے۔ اگر یہی صورت حال رہی تو اگلے چند سالوں میں ملک پاکستان کوپانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔پاکستان کی زمین سر سبز و شاداب او ر زرخیز زمین جو کہ نعمت خدا وندی ہے ۔ اس زمین پر جنگلات بھی ہیں جو کسی بھی ملک کی ترقی اور آب و ہوا کو متوازن رکھنے کے ضامن ہوتے ہیں درخت زمین کا زیور ہیں درختوں کی حفاظت کر کے ہم اس زمین کو جنت نظیر بنا سکتے ہیں۔درخت کسی جگہ کی آب و ہوا کوتبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔درختوں کے پتوں سے پانی کے بخارات ہوا میں داخل ہوتے ہیں تو ہوا میں نمی کا تناسب موزوں رہتاہے۔ اور آب وہوا خشک نہیں ہونے پاتی۔ یہی بخارات اوپرجاکر بادلوں کی بناوٹ میں مدد دیتے ہیں جس سے بارش ممکن ہوجاتی ہے۔ ویسے بھی درخت بادلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور مو سم معتدل ہو جاتا ہے ۔جب بارش سے سیلاب آتے ہیں تو جنگلات کے درختوں کی جڑیں زمین کو اسفنج کی طرح بنادیتی ہیں۔اور یہ زمین بہت سا سیلابی پانی روک لیتی ہے۔ جس سے سیلاب کے پانی کی رفتار کم ہوجاتی ہے اس لئے وہ زمین کا کٹاؤ کرنے کے قابل نہیں رہتا اور زمین کی زرخیزی بھی بڑی حد تک ضائع ہونے سے بچ جاتی ہے۔ دراصل درختوں کی جڑیں مٹی کے ذرات کوباہمی طورپر اچھی طرح پکڑلیتی ہیں۔ جس سے زمین نہ صرف سیلابی پانی کے کٹاؤ سے محفوظ رہتی ہے بلکہ سیلاب کے گزرجانے کے بعد ہوا کے کٹاؤ سے بھی زمین کی اوپری سطح کی زرخیزمٹی کو اڑاکر دورچلے جانے سے روک لیتی ہے
پاکستان میں جگہ جگہ رہائشی سکیمیں متعارف کرا ئی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے درخت کاٹے جا رہے ہیں اور سر سبز شاداب اور زرخیز زمین کو کبھی ختم کیا جار ہا ہے جس کی وجہ سے ماحولیات پر بہت زیادہ منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں گرمی کا زور بڑھ رہا ہے ۔ ایک وقت تھا جب دوبئی میں درجہ حرارت بہت زیادہ رہتا تھا لیکن آج وہاں درخت لگائے جا رہے ہیں اور گرمی کی شدت پر کافی حد تک کنٹرول کیا جا چکا ہے لیکن پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجو د یہاں پر ہر سال گرمی کا زور بڑھ رہا ہے جس کی اہم وجہ صرف درختوں کی کٹائی اور ززخیز زمینوں پر رہائشی سکیمیں ہیں۔درخت زمیں کی زرخیزی کو قائم رکھتے ہیں،پیارے پاکستان میں زیادہ سے زیادہ پودے لگانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پاکستان کی خوبصورتی کو بڑھانے کے ساتھ اس کی فضا میں بسنے والوں کے لئے تازہ ہوا کا بھی بندوبست کرتے ہیں اوردرختوں کی ہریالی سے موسم خوبصورت ، ٹھنڈا اور معتدل رہتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور اہم مسلہ پانی کی حفاظت کرنا ہے جس پر بالکل توجہ نہیں دے جا رہی ، اگر اس مسلے پر آج توجہ نہ دی گئی اور اس پر کوئی حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو آنے والا کل پاکستان کے لیے بہت بھیانک ثابت ہوگا۔
ایک رپورٹ کی مطابق بھارت صرف دریائے سندھ پر چودہ چھوٹے ڈیم اور دو بڑے ڈیم مکمل کر چکا ہے ،یہی وجہ ہے کہ منگلا ڈیم اکتوبر 2017 سے خالی پڑا ہے جبکہ تربیلا ڈیم بھی اس وقت بارش کا محتاج ہے ، پانی کے حوالہ سے ہمارا مستقبل بہت دردناک ہے، دو سال قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے محتاج کر دے گا اور اوپر بیان کردہ منصوبہ جات اور ڈیمزکی صورت حال سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس پر عمل کر رہا ہے۔ بھارت دریائے چناب پر سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم سمیت چھوٹے بڑے 11ڈیم مکمل کر چکا ہے۔ دریائے جہلم پر وولر بیراج اور ربڑ ڈیم سمیت 52ڈیم بنا رہا ہیدریائے چناب پر مزید24ڈیموں کی تعمیر جاری ہے اسی طرح آگے چل کر مزید190ڈیم فزیبلٹی رپورٹس، لوک سبھا اور کابینہ کمیٹی کے پراسس میں ہیں ۔لیکن افسوس ہم آج بھی آپس کی لڑائیوں میں محو ہیں ہمارے لیڈران ایک دوسرے کے گریبانوں کو نوچنے میں مصروف ہیں ۔ سب اپنے اپنے مفاد کی جنگ لڑ رہے ہیں کسی بھی سیاسی پارٹی نے ملک میں پانی کو محفوظ کرنے درختوں کی کٹائی سے روکنے کے لیے کوئی مثبت حکمت عملی اختیار نہیں کی یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان مختلف مسائل کا شکار ہے ۔اگر مجھ جیسے ناتواں کو یہ حقائق ملکی مستقبل کے لیے فکر مند کرسکتے ہیں تو ہمارے نام نہاد دانشور اور میڈیا ہاؤسز کیوں ان موضوعات پر بات نہیں کرتے؟آج سرسبز شاداب پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ ہم بھی آنے والے مستقبل کوصاف ہودار اور روشن بنانے کے لئے ایک پودا ضرور لگائیں یہی وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہم حکومت وقت سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ ڈیم بنائیں تا کہ پانی کو محفوظ کیا جاسکے اور سرسبز شاداب و زرخیززمین پر رہائشی سکیموں کے مالکان کے ساتھ مل کر مثبت حکمت عملی اختیار کریں تا کہ سر سبز زمین کو نقصان سے بچایا جا سکے ۔محکمہ ماحولیات اس بات کا پاپند ہے کہ جب بھی کوئی سڑک، پیٹرول پمپ، کارخانہ یا کوئی رہائشی سکیم بنائی جائے تو اس جگہ جتنے درخت کاٹے جائیں گے وہ ادارہ اتنی ہی تعداد میں درخت لگانے کا پابند ہے لیکن اس پر کتنا عمل درآمد ہو رہا ہے یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟


مکمل تحریر >>

Friday, 22 June 2018

ماہنامہ پھول میگزین۔۔۔نوائے وقت میں وعدوں سے تکمیل پر تبصرہ

http://www.phool.com.pk
Page no .66-67
ماہنامہ پھول میگزین۔۔۔نوائے وقت میں وعدوں سے تکمیل پر تبصرہ




مکمل تحریر >>

Eid al-Fitr celebrations around the world By M Tahir Tabassum Durrani

Eid al-Fitr celebrations around the world 
Sunday Magazine Jehan Pakistan
www.jehanpakistan.pk

Eid al-Fitr celebrations around the world 


عید کے لفظی معنی خوشی ، مسرت و شادمانی کے ہیں۔ اسلام ایک مکمل ظابطہ حیا ت ہے اور وہ انسان کو آسانی اور راحت کی زندگی گذارنے کے طریقے سیکھاتا ہے ۔اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو، میں اکثر سوچتا ہوں کہ میرا اللہ کتنا بڑا رحیم اور کریم ہے کہ اس نے مزدور کو اتنے بڑے حق سے نوازا، تو وہ ذات پھر اپنے مقرب بندوں کو کیسے کیسے نوازتی ہوگی!مقرب بندوں سے مراد جو اللہ کریم کے احکامات بجا لاتے ہیں ، سرکشی نہیں کرتے بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق اپنی زندگیوں کو گذارتے ہیں تو اللہ اُن کو کس شان سے نوازتے ہیں۔جب ایک مسلمان گرمی کی شدت میں اس کو راضی کرنے کے لیے چلتا ہے،سورج کی حرارت کے باجود اس کی خاطر بھوکا پیاسا رہتا ہے،موسم کی شدت کو دیکھے بغیر ننگے پاؤں اس کے گھر کا طواف کرتا ہے،یقیناً اس کی محنت کا صلہ... اس کے عمل کا اجر... اس کی مشقت کا انعام... دینے میں وہ کیسے تاخیر کر سکتا ہے؟ یقیناً وہ بھی اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اسے عطا کرتا ہے۔
قرآن مجید میں ارشا د باری تعالیٰ ہے (سورۃ الاعلیٰ آیت نمبر ۱۵) ترجمہ ’’ بے شک مُراد کو پہنچاجو ستھرا ہوا،اور اپنے رب کا نام لے کرنما ز پڑھی۔اگر اس آیت کریمہ کی تفسیر کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ستھرا ہونا سے مُراد صدقہ فطر دینااور رب کا نام لینے سے عید گاہ تک تکبیریں کہنااور نماز سے مراد نماز عید ہے۔ماہ صیام میں صدقہ فطر کی وہ حیثیت ہے جیسے نماز میں سجدہ سہو، یعنی رمضان کے روزے رکھنے کے دوران جو غلطی کوتاہی سر زد ہو جاتی ہے اُن غلطیوں کا کفارہ صدقہِ فطر کے طور پر ادا کر دینے سے اُن غلطیوں کی معافی مل جاتی ہے دوسرا یہ کہ غریب لوگوں کی مدد بھی ہو جاتی ہے ایسے لوگ جو عید کی خوشیوں سے محروم ہوتے ہیں ان کو صدقہِ فطر دینے ان کی مدد ہو جاتی ہے جس سے معاشرے میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے ۔ 
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’تم (رمضان البارک کی)مطلوبہ گنتی پوری کرو اور اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے ہدایت دی تاکہ تم شکرادا کرو. احادیث مبارکہ میں آیا ہے کہ عید الفطر کی رات فرشتے حکم الہٰی سے راستوں اور گلیوں میں ندا کرتے ہیں: ’’اے مسلمانو! تمہیں اِس ماہ مبارک کے روزے رکھنے کا حکم تھا، تم بجالائے۔ تمہیں راتوں میں نماز پڑھنے کا حکم ملا،تم کا ربندر ہے، اب اُٹھو اور عید گاہ میں جاکر اپنے پروردگار کے سامنے صف بستہ مؤدب کھڑے ہو جاؤ، جب تم وہاں سے لوٹو گے تو تمہارے سب گناہ بخشے ہوئے ہوں گے۔‘‘ حدیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ عید الفطر کی رات کو فرشتے گلی کُوچوں میں صدادیتے ہیں، جسے جِنّ و انسان کے سوا تمام مخلوق سُنتی ہے:’’اے امت محمدؐ اپنے پروردگار کے حضور آؤ۔ تمہارا پروردگار بے حد بخشنے والا ہے۔ چھوٹی سی نیکی بھی قبول کرلیتا ہے۔ اور بہت بڑا گناہ معاف کردیتا ہے۔‘‘ جب لوگ عیدگاہ میں صف بستہ باادب حاضر ہوتے ہیں توا للہ تعالیٰ پوچھتا ہے ’’اے فرشتو! بتاؤ کہ محنت سے اپنا کام کرنے والے مزدور کا معاوضہ کیا ہونا چاہیے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: ’’یااللہ! معاوضہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری دی جائے۔‘‘ ارشاد ہوتا ہے: ’’اے فرشتو! گواہ رہو، میں اپنے نیک بندوں کو رمضان کے روزے اور راتوں کی نمازوں کے بدلے اپنی خوش نُودی اور ان کے گناہوں کی مغفرت سے مالا مال کرتا ہوں۔‘‘ 
عید کی خوشیوں اور رسم و رواج کا آغاز یکم شوال یا عید کا چاند نظر آجانے کے ساتھ ہی ہوجاتا ہے، رمضام المبارک اسلامی مہینوں میں مبارک و برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے، جب کہ شوال اسلامی کیلنڈر کا دسواں مہینہ ہے۔ رمضان المبارک میں قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا، مسلمانوں پر روزے فرض کیے گئے،نمازِ تراویح، شبِ قدراس مہینے کی خاص عبادات اور تحفے ہیں۔ چھوٹے اپنے بڑوں کو چاند کا سلام کرتے اور بڑے ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔ عید الفطر کا دن پور ی دنیا کے مسلمان جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں۔
پاکستان میں عید الفطر
پاکستان میں تو جیسے ہی شوال کے چاند کے نظر آنے کی خبر ملتی ہے لو گ چاند رات کو بھی خوب انجوائے کرتے ہیں۔ سب سے پہلے اعتکاف میں بیٹھے اپنے پیاروں کو مسجد سے واپس گھر وں کو ٹولیوں کی شکل میں نعت خوانی کرتے اور اللہ کا ذکر کرتے واپس لاتے ہیں جو کہ ایک بہت ہی خوب صورت محفل نعت کا سا سماں ہوتا ہے ہرچہرہ مسکرا رہا ہوتا ہے ، خواتین چاند رات کو خوب بناؤ سنگھار کرتی ہیں ، ہاتھ پاؤں کو مہندی کے ڈیزاینوں سے خوب سجاتی ہیں ، رنگ برنگے، بھڑکیلے کپڑے پہنتی ہیں لیکن کچھ گھریلوخواتین کا سار ا وقت کچن میں کھانا بنانے اور مہمانوں کی مہمان نوازی میں گذر جاتا ہے ، اصل عید تو بچوں کی ہوتی ہے ، بچوں کو پیسوں کی شکل میں خوب عیدی ملتی ہے جسے وہ اپنی مرضی سے خرچ کر کے خوش ہوتے ہیں ۔ عید کے دن صبح سویرے لوگ نماز عید کے لیے تیار ہو جاتے ہیں نئے کپڑے پہنتے ہیں ، خو شبو لگاتے ہیں ، کوئی میٹھی چیز کھاتے ہیں چاہے کھجور ہی کیوں نہ ہو پھر مسجدوں ، عید گاہوں کا رُخ کرتے ہیں، نماز عیدالفطر ادا کرنے کے لیے مسلمان ایک راستے سے جاتے ہیں جبکہ دوسرے راستے سے واپس آتے ہیں،راستوں میں تکبیرات کی صدائیں اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الااللہ واللہ اکبراللہ اکبر وللہ الحمدبلند کرتے مسجدوں ، عید گاہوں کی طرف جاتے ہیں۔دو رکعت عیدالفطر ساتھ زائد چھ تکبیرات کے نماز مکمل کرنے کے بعدایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں، رمضان کے روزوں ، تراویح اور عید کی مبارکباد دیتے ہیں اجتماعی دعا کی جاتی ہے جس میں مسلم اُمہ اور ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی کی دعائیں بھی کی جاتی ہیں ، موبائل فون ، انٹرنیٹ فیس بُک نے ایک بہت خوبصورت رسم کو بالکل ختم کر ڈالا ہے ، لوگ اپنے پیاروں کو مہنگے دیدہ زیب اور 
خوبصورت عیدکارڈ بھیج کر اپنی محبت اور خلوص کا اظہار کرتے تھے لیکن اب یہ رسم بالکل ناپید ہو کر رہ گئی ہے ،بس واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا پر ورچوئلی ہی عید کی مبارکباد دے دی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر جا کر فاتحہ خوانی کرتے ہیں قبروں کی مرمت کرتے ہیں اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں۔ چونکہ یہ میٹھی عید کہلاتی ہے اس لیے اس عید پر حلوائی اور مٹھائی کی دکانوں پر خو ب رش ہوتا ہے لو گ اپنے پیاروں کو مختلف قسم کی مٹھائیاں، کیک، رس گُلے، گُلاب جامن، میٹھی سویاں، پھیونیاں حلوہ جات ایک دوسرے کے گھروں میں تحفے کے طور پر بھیجنے کا رواج قائم ہے ۔
سعودی عرب میں عیدالفطر
سعودی عرب میں بھی عید خوب مزے اور جوش و جذ بے سے منائی جاتی ہے ، شہری اپنے اپنے رشتے داروں سے ملنے جاتے ہیں ، گلے ملتے ہیں مختلف قسم کے پکوان بنا کر رشتے داروں عزیز و اقارب اور دوستوں کی خوب تواضع کرتے ہیں۔گھروں کو خوب سجایا جاتا ہے ۔نماز عید کے بعد سب خاندان آبائی گھروں میں جمع ہوتے ہیں بچوں کو تحفے سے بھرے بیگ دیے جاتے ہیں جن میں چاکلیٹ، کینڈیز وغیرہ ہوتی ہیں یہ بچوں کی خوب عیدی ہوتی ہے ۔سعودی عرب کی ایک یہ بھی روایت ہے کہ لوگ بڑی بڑی مقدار میں چاول اور دیگر اجناس خرید کر غریب لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں تا کہ وہ بھی عید کو خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
امریکہ میں عیدالفطر
دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح امریکہ میں مسلمان عید کی نماز کی ادائیگی کے لیے اسلامک سینٹرز میں اکٹھے ہوتے ہیں اور اس موقع پر پارک میں بھی نماز کی ادائیگی ہوتی ہے اور عید کی تقریبات تین دن تک جاری رہتی ہیں۔تمام مسلمان مل کراللہ جلہ شانہ کے حضور سجدہ بسجود ہو کر شکر ادا کرتے ہیں گلے ملتے ہیں اور عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔ مخیر حضرات اس بابرکت موقع پر بڑی بڑی پارٹیوں کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ اسلامک سینٹرز میں عید ملن پارٹیوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ بچوں کو عیدی دی جاتی ہے جبکہ خاندان آپس میں ایک دوسرے کو تحفے/ تحائف دے کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
چین میں عیدالفطر
عوامی جمہوریہ چین میں بھی مسلمان طبقہ کو عید منانے کی اجازت دی گئی ہے عید کے روز مسلم اکثریتی علاقوں میں سرکاری چھٹی ہوتی ہیں،ان علاقوں کے رہائشی مذہب سے بالاتر ہو کر ایک سے تین روز تک کی سرکاری چھٹی کر سکتے ہیں۔ یہاں پر بھی مسلمان اپنے رسم و رواج اور اسلامی اقدار کے مطابق عید مناتے ہیں ۔
انڈونیشیا میں عیدالفطر
انڈنیشیا میں عیدالفطر بڑے مذہبی جوش و جذبے او ر اسلامی اقدار کے عین مطابق منایا جاتا ہے ۔یہاں کے لوگ عید کے پُر مسرت دن پر ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کردیتے ہیں تمام شکوے گلے مٹا کر ایک دوسرے کے بغل گیر ہوتے ہیں اور اسلامی اخوت کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ جیسے پاکستان میں چاند رات منانے کی اہتما م کیا جاتا ہے ایسے ہی انڈو نیشیا میں بھی چاند رات منانے کا خوب اہتمام کیا جاتا جسے ان کی زبان میں ’’تیکرائن‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس رات سب لو گ مل کر ’’ ماشاء اللہ ‘‘ کہتے ہیں ، جس سے ماحول گونج اٹھتا ہے جبکہ گلیوں بازاروں میں نعرہ تکبیر بلند کیا جاتا ہے جو کہ ایک خوبصورت روایت ہے ۔گھروں کے دروازوں پر لالٹین ، موم بتیاں اور دیے جلا کر رکھے جاتے ہیں جو کہ ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتے ہیں۔یہاں عید کو ’’ عید الفطری اولیباران‘‘ بھی کہا جاتا ہے شاپنگ سنٹر پر خوب رش ہوتا ہے لوگ عید کے لیے بڑے بڑے شاپنگ مالز کا رخ کرتے ہیں۔پرانی تلخیاں بھلا کر ایک دوسرے سے معافی مانگی جاتی ہے اور سسرالی خاندان کے خصوصی دورے کیے جاتے ہیں۔
ترکی میں عیدالفطر 
ترکی میں عیدالفطر بڑے جوش اور جذبے سے منائی جاتی ہے یہاں کا ایک نہایت خوبصورت انداز یہ کہ بزرگوں کے دائیں ہاتھ پر بوسہ دے کران کی عزت وتکریم کی جاتی ہے بچے اپنے رشتہ داروں کے ہاں جاتے ہیں عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور اپنی عیدی وصول کرتے ہیں۔یہاں کی مشہور سوغات ‘‘بکلاوا ‘‘نامی مٹھائی ہے جو لو گ ایک دوسرے کو تحفے کے طور پر دیتے ہیں۔اس کے علاہ رقم اور چاکلیٹ بھی تحفے کے طور پر دیتے ہیں۔ترکی میں عید کے دن مکمل چھٹی ہوتی اور لوگ عید کو خوب مزے سے گذارتے ہیں اور رشتہ داروں سے ملنے جاتے ہیں۔
برطانیہ میں عیدالفطر
برطانیہ میں عیدالفطر قومی تعطیل کا دن نہیں مگر یہاں بیشتر مسلمان صبح نماز ادا کرتے ہیں اس موقع پر مقامی دفاتر اور اسکولوں میں مسلم برادری کو حاضری سے استثنیٰ دیا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیائی مرد جبہ اور شیروانی میں ملبوس نظر آتے ہیں جبکہ خواتین شلوار قمیض سے عید کا آغاز کرتی ہیں اور مقامی مساجد میں نماز ادا کر کے دوسروں سے ملا جاتا ہے۔یہاں پر بھی اپنے پیاروں سے ملنے ملانے اور تحفے تحائف دینے اور مبارکباد دینے کا سلسلہ پورا دن جاری رہتا ہے جبکہ مٹھائیاں اور روایتی پکوان ایک دوسرے میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔
نائیجیریا میں عیدالفطر
نائیجیریا میں عید کو‘چھوٹی’’ صلوۃ‘‘کانام دیا جاتا ہے اور لوگ مل کر اس دن کو مذہبی جوش و جذبے سے مناتے ہیں، اس موقع پر تین دن کی تعطیلات بھی دی جاتی ہیں۔
مصرمیں عیدالفطر
مصرمیں عید تین روزہ تہوار کے طور پر منائی جاتی ہے۔ عید کے موقع پر یونیورسٹیوں، اسکولوں اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں عام تعطیلات ہوتی ہیں اور عید کے موقع پر بڑے بڑے سٹورز اور ریسٹورانٹس بھی بند رہتے ہیں۔ عید کے دن کے آغاز پر بڑے بچوں کو لے کر مساجد کا رخ کرتے ہیں جبکہ خواتین گھر میں اہتمام کرتی ہیں۔ عید کی نماز کے بعد ہر کوئی ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتا ہے۔ پہلے دن کو خاندان دعوتوں میں مناتے ہیں جبکہ خواتین کے لیے خصوصی تحائف کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔
ملائیشیا میں عیدالفطر
ملائیشیا میں عید کا مقامی نام’’ ہاری ریا عیدالفطری‘‘ ہے جس کا مطلب ہے کہ منانے والا دن، ملائیشیا میں عید کے دن لوگ خصوصی لباس پہنا جاتا ہے اور گھروں کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے جاتے ہیں تاکہ خاندان، ہمسائے اور دوسرے ملنے والے لوگ آ جا سکیں۔ عید پر روایتی آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا جاتا ہے جس میں چین سے خصوصی طور پر منگوائے گئے کریکرز استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس آتش بازی کو دیکھنے کے لیے چھوٹے بڑے بچے، عورتیں بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ ملائیشیا میں عید کے موقع پر بچوں کو عیدی دی جاتی ہے جیسے‘دوت رایا’کہا جاتا ہے
بنگلہ دیش میں عیدالفطر
یہاں پر بھی دیگر مسلمان ممالک کی طرح دن کا آغاز نماز عید الفطر سے ہوتا ہے لوگ صبح سویرے نئے کپڑے پہن کر عیدگاہوں ، مسجدوں کا رُک کرتے ہیں ۔بنگلہ دیش میں بھی عید کا تہوار تین روز تک منایا جاتا ہے اور سرکاری چھٹیاں دی جاتی ہیں۔ اور اس کے بعد رشتہ داروں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ عید کے موقع پر زکوٰۃ اور فطرانہ بھی دیا جاتا ہے۔ گھروں میں خصوصی دعوتوں کا اہتمام ہوتا ہے اور خواتین اپنا ایک ہاتھ مہندی سے سجاتی ہیں۔
تیونس میں عید الفطر
تیونس میں عید الفطر تین سے چار روز تک منائی جاتی ہے جن میں صرف عید کے پہلے اور دوسرے روز ہی چھٹی ہوتی ہے۔ دوستوں اور عزیزوں کی تواضع کے لیے خاص کوکیز بنائے جاتے ہیں جن میں ترکی کی روایتی مٹھائی اور کئی طرح کے کیک بھی شامل ہوتے ہیں۔
عید کے دن رقص و موسیقی کی محافل سجائی جاتی ہیں جب کہ تحفے تحائف دینے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ شام کے وقت عید کی مناسبت سے خاص طور پر تیار کیے گئے پکوان دستر خوان کی زینت بنتے ہیں۔
افغانستاں میں عیدالفطر
عیدالفطر افغانستان کے مسلمانوں کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل دن ہے جسے تین دن تک پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ پشتو بولنے والی برادری عید کو ’’کوچنائی اختر‘‘کہتے ہیں ہیں۔ عید کی تیاری دس روز پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے گھروں کی صفائی ہوتی ہے اور عید سے چند روز قبل بازاروں کا رخ کیا جاتا ہے تاکہ مٹھائیاں اور نئے کپڑے خریدے جا سکیں۔ عید کے خوبصورت موقع پر مہمانوں کی تواضع کرنے کے لیے جلیبیاں اور کیک بانٹا جاتا ہے جسے ’’واکلچہ ‘‘کہا جاتاہے۔لوگ عید والے دن لوگ گلے ملتے ہیں۔ نئے کپڑے پہنتے ہیں دوستوں اور مہمانوں کی خوب خاطر مدارت کرتے ہیں۔
دیگر اسلامی ممالک میں عیدالفطر
رمضان المبارک کی بابرکت سعا دتوں میں 14رمضان کے بعد خلیجی ممالک (گلف ریجن )ایک رمضا ن میلے کا انقعا د کرتے ہیں۔ہر ریجن اس کا انعقاد مختلف ناموں سے کر تا ہے۔گارنگیوں اورگاراگاؤ ایک روائتی بچوں کا عید تہوار ہے۔جو کہ چودہ رمضان یعنی کہ وسط رمضان سے عید کی تقریبات کے سلسلے کی شروعات ہے۔ اس تہوار میں بچے اپنے خوبصورت لباس میں اپنے پڑوسیوں کے ہاں جاتے ہیں اور وہ پیار سے تحفے دیتے ہیں۔ یہ تہوار خلیجی ممالک میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے۔ مثلاً قطر اور بحرین میں اسے ’’گاراگاؤ‘‘سعودی عرب میں ’’کارکیان یا کاریکان‘‘۔ کویت میں ’’گارگیان‘‘ عراق میں ’’الماجینا کرکیان‘‘ عمان میں ’’گارنگاشوچ‘‘ اطبلاح یا قارناکوش اور ہیگ الیلا متحدہ عرب عمارات میں کہا جاتا ہے۔دادیاں ، نانیاں(grandmothers) رمضان کے آخری عشرے میں شام کے وقت تحفے لے کر اپنے اپنے گھر کے دروازوں پر بیٹھ جاتی ہیں اور تحفے بانٹتی ہیں۔
بحرین میں عید کی تقریبات پانچ روز تک منائی جاتی ہیں اور پندرہ رمضان ہی سے تیاریاں کی جانے لگتی ہیں۔ عراق میں لوگ صبح نماز عید ادا کرنے سے پہلے ناشتے میں بھینس کے دودھ کی کریم اور شہد سے روٹی کھاتے ہیں۔ مصر میں عیدالفطر کا تہوار چار روز تک منایاجاتا ہے۔
عرب ممالک میں قدیم روایات کے ساتھ وہ جدید یعنی نئے کھانے بھی رواج پاگئے ہیں جن میں فاسٹ فوڈ بھی شامل ہے۔ عید کے روز عربوں کی سب سے پختہ روایت اعلیٰ اور قیمتی لباس زیب تن کرکے رشتے داروں اور دوستوں کے گھر جاکر ملنا ہے۔ شام کے وقت عید کے سلسلے میں منعقد کردہ میلے اس تہوار کی رونق کچھ اور بڑھا دیتے ہیں۔ دیہات میں اونٹوں کی ریس کا بھی رواج ہے۔
الغرض پوری دنیا کے مسلمان عید کے اس پُر وقار اور عالیشان دن کو خوب مناتے ہیں اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں
مکمل تحریر >>

Tuesday, 12 June 2018

Nishan E Haider and Story of Sowar Muhammad Husain Shaheed 6th Episode by M Tahir Tabassum Durrani


Nishan E Haider and Story of  Sowar Muhammad Husain Shaheed by M Tahir Tabassum Durrani


مکمل تحریر >>

Monday, 4 June 2018

Nishan E Haider and Story of Major M Shabir Shareef Shaheed by M Tahir Tabassum Durrani




از قلم ۔محمد طاہر تبسم درانی

سلسلہ وار نشانِ حیدر کی پانچویں قسط

28 سال کی عمر میں پاک فوج کاسب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر پانے والے پانچویں عظیم انسان قومی ہیرو میجرشبیر شریف کی یاد میں تحریر
شہید کی جو موت ہے ، وہ قوم کی حیات ہے 
شاعر نے سمند ر کو کس خوبصورت انداز سے کوزے میں بند کیا ہے اگر اس شعر کی گہرائی میں جائیں تو اس شعر کی حقیقت معلوم ہو گی کہ وہ کون ساجذبہ ہوتا ہے وہ کون جوان ہوتے ہیں جو اپنی خوبصورت زندگیوں کو ملک و ملت کی بقا ء اور حُرمت پر قربان کر دیتے ہیں اور ان کی اس عظیم قربانی سے قوم امن اور سکون کی زندگی بسر کرتی ہے ،اس میں زرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں کہ پاک فوج کی جوان اپنی بہادری اور جرت کی وجہ سے پور ی دنیا میں اپنا ایک الگ مقام اور حیثیت رکھتے ہیں جذبہ شہادت دوسرے ممالک کی افواج سے پاک فوج کو ممتا ز کرتاہے ان بہاد ر اور نڈر فوجی جوانوں کی وجہ سے قوم کو زندگی ملتی ہے ۔
موت ایک مسلمہ حقیقت ہے جس نے ایک نہ ایک دن ضرور آنا ہے ۔ یہ نہ جوانی دیکھتی ہے نہ بڑھاپا ۔ یہ نہ صحت دیکھتی ہے نہ بیماری نہ ہی جاہ و جلال اور نہ ہی مرتبہ۔اور وہی لوگ زندہ و جاوید کہلاتے ہیں جو اپنی زندگی کو اللہ کی راہ میں اور ملک و قوم کی عزت و بقاء پر قربان کر دیتے ہیں اور جنت میں اعلیٰ مقام حاصل کرتے ہیں۔کبھی ہم نے سوچا جب سخت سردی کے موسم میں ہم گرم بستر کے مزے لُوٹ رہے ہوتے ہیں ہمارے یہ جوان بائیس ہزار فٹ کی بلندی پر سیاچین کے گلیشئر پر جہاں سردی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ خون رگوں میں منجمد ہو جاتا ہے ، جب سخت گرمی میں ہم اپنی بیوی بچوں کے ساتھ مل کر ائر کنڈیشنز میں مزے لے رہے ہوتے ہیں یہ فوجی جوان سرحدوں پر اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ہوتے ہیں ۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے والا جوان تنخواہ لینے کی غرض سے شمولیت اختیار نہیں کرتا بلکہ اُ س کے اندر ایک جذبہ ہوتاہے کہ وہ اپنے ملک کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شہید کہلائے گا اورجنت میں اعلیٰ مقام حاصل کرے گا۔ حالا نکہ دنیاوی زندگی کی بارے وہ جانتا ہے کہ اپنا کاروبار شروع کر کے مزے کی آزادانہ زندگی بھی گذار سکتا ہے ، وہ یہ بھی جانتا ہے سیاست میں اپنا نام کما سکتا ہے اور بعد میں اپنی نسل کو بھی سیاسی مقام دلا کر عیش و عشرت کی زندگی گذار سکتا ہے اُسے یہ بھی معلوم ہے کہ یورپ کا ویزہ لگا کر عیاشی کی زندگی بسر کر سکتا ہے لیکن ایک جذبہ جو اسے پاک فوج میں شامل ہونے پر مجبور کرتاہے وہ ہے زندہ رہا تو غازی اور اگر ملک و قوم کی بقاء کے لیے لڑتے لڑتے مارا گیا تو شہید کا رتبہ ملے گا۔شہید کے بارے قرآن پاک میں اللہ کریم کا ارشاد پاک ہے جس سے شہید کے رتبے کی اہمیت واضح ہو تی ہے ۔۔سورۃحج آیت نمبر۵۸ ترجمہ’’ اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی اور پھر قتل ہوگئے ،یا انہیں موت آگئی،تو یقیناًانہیں اللہ کریم بہترین رزق عطا کریں گے کہ بے شک وہ بہتر رزق دینے والاہے ‘‘
پاکستان کی معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے اور اسے ختم کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے اور وہ کسی نہ کسی صورت میں نقصان پہنچانے میں کوئی نہ کوئی حربہ اختیار کرتا رہتا ہے لیکن ہمیشہ ناکامی اس کا مقدر بنتی ہے ۔ پاکستانی فوجی جوان بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کرتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں اپنی فوج پر مکمل بھروسہ اور اعتماد ہے کہ وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔اس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں اور ماضی میں بھی ملتی ہے ۔قوموں/ ملکوں کی تاریخ میں کبھی کچھ ایسے دن بھی آجاتے ہیں جو بڑی بڑی قربانی مانگتے ہیں۔ماؤں سے ان کی لخت جگر ، بوڑھے باپ سے اُس کا چشم و چراغ، بیوی سے اُس کا سہاگ، بیٹی سے اُس کے باپ کا مطالبہ کرتے ہیں۔پھر قربانی کی داستانیں رقم ہوتی ہیں۔ کچھ جام شہادت نوش کر کے ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سُرخرو ہوتے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ اللہ نے ہمیں مسلمان پیدا کیاہمیں شہادت ملے یا غازی دونوں پر ہی فخر ہے ۔ 
6 ستمبر 1965ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا دن ہے جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا۔اِن کاخیال تھا کہ وہ پاکستان پر حملہ کرکے اسے کمزور کر دیں گے۔ ان کے جرنیلوں کا خیال تھا کہ وہ راتوں رات پاکستان کی اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور لاہور ناشتہ کریں گے۔ لیکن انہیں پاکستانی فوجی جوانوں کے جذبے مہارت اور پاکستانی قوم کا درست اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس غیور اور نڈر بہادر سپوتوں کے ساتھ لڑائی کرنے جا رہے ہیں ۔ وہ جذبہ وہ جرت قابل رشک تھی جب افواج پاکستان اور عوام نے مل کر دشمن کا مقابلہ کیا اور سیسہ پلائی دیوار بن کر حملے روکے اور ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ جسموں پر بم باندھ کر دشمن کے ٹینکوں کے آگے لیٹ کر بھارت کو ناکوں چنے چبوائے ۔
بھارتی فوج نے 17 دنوں میں 13 بڑے حملے کیے لیکن لاہور ناشتہ کرنے کا خواب وہ پورا نہ کرسکے ۔ پاک فوج کی بہادر جوانوں نے اُن کا منہ توڑ جواب دیاکیوں کہ وہاں قوم کے بہادر سپوت سینہ سپر ہو کر کھڑے تھے ان بہادر جوانوں میں ایک جوان ایسا بھی تھا جس نے صرف 28 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کر کے پاک فوج کا سب سے بڑا فوجی اعزاز اپنے نام کیا میری مراد میجر شبیر شریف ہے ۔میجر شبیر شریف 28 اپریل1943ء کو پاکستان کے ایک شہر گجرات کے ایک قصبہ کنجاہ میں پیدا ہوئے ، ان کا خاندان سپہ گیری میں ایک الگ اور بلند مقام رکھتا ہے۔ میجر شبیر شریف نے لاہور کے سینٹ انتھونی سکول سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی اور وہ لاہور گورنمنٹ کالج کے بھی طالب علم رہے ۔ پاکستانی فوجی درسگاہ کاکول اور 19 اپریل1964ء میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی اس وقت ان کی عمر21 سال تھی ۔1965ء کی پاک بھارت جنگ میں میجر شبیر شریف کے ماموں میجر عزیز بھٹی نے جام شہاد ت نوش کیا۔ میجر شبیر شریف کم عمر شہید ہیں ۔ آ پ شروع سے ہی وطن عزیز پر مر مٹنے کا جذبہ رکھتے تھے،1965ء پاک بھارت جنگ میں انہوں نے سیکنڈلیفٹینٹ کی حیثیت سے جنگ لڑی اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا ۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان کے چھوٹے بھائی جنرل راحیل شریف پاک فوج کے سپہ سالار کے عہدے پر فائض رہے ہیں ۔
1971ء کی پاک بھارت جنگ میں نمایاں کارکردگی دکھانے اور جذبہ حب الوطنی (جب الوطنی کے معنی ہیں کسی شخص کی اپنے ملک اپنی وطن کی ساتھ بے پنا ہ خالص محبت اور اپنے ملک و قوم کی بقاء کے لیے اپنی جان کانذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کرنے کا مطلب ، حب الوطنی کہلاتا ہے)سے سرشار اس نوجوان نے سلیمانکی ہیڈ ورکس پر 3 دسمبر 1971ء کو ملک کی خاطر لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کر دیا۔ وہ ایسی بہادری کے ساتھ لڑے کہ تاریخ رقم کر دی ان کی عظیم قربانی اور بہادری کی داستان ہمیشہ یاد رکھی جائے گی انہوں بیک وقت دشمن کی 43 فوجیوں کو جہنم واصل کیا28 فوجیوں کو قیدی بنایا اوردشمن کی 4 ٹینک بھی تباہ کیے اس بہادر شہید کو لاہورکے میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ان کی خدمات کے اعتراف میں پاک فوج کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدردیا گیا۔ ان کی بہادری اور جرت پر ان کو پہلے ستارہ جرت اور اعزازی شمشیر سے بھی نوازا گیا ۔یاد رہے 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں ان کی زیر قیادت 6ایف ایف رجمنٹ نے سلیمانکی ہیڈ ورکس پر بھارتی سورماؤں کو تہس نہس کر دیا۔ دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا اِن کے کئی ٹینک اور فوجیوں کو نقصان پہنچایا۔ اور اسی میدان میں بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نو ش کیا۔
میجر شبیر شریف جیسے جانثار بہادر جوانوں کی بدولت ملک خداداد ہمیشہ پھلتی اور پھولتی رہے گی اور قوم امن اور سلامتی کی زندگی گذارتی رہے گی۔جب تک مائیں ایسی لعل پیدا کرتی رہیں گے دشمن کبھی میلی آنکھ دیکھنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا ۔
ایہہ شیر بہادر غازی نیں۔ایہہ کسے کولوں وی ہردے نیں
اینا دشمناکولوں کی ڈرنا۔ایہہ موت کولوں وی ڈردے نیں


مکمل تحریر >>

Sunday, 20 May 2018

Nishan E Haider and Story of Raja Aziz Bhati Shaheed by M Tahir Tabassum Durrani




مکمل تحریر >>

Thursday, 3 May 2018

Nishan E Haider ........2nd Episode....Major Tofail Shaheed. by M Tahir Tabassum Durrani



میں کھٹکتا ہوں دل کفر میں کانٹے کی طرح

سلسلہ وار نشانِ حیدر کی دوسری قسط


پاک فوج کاسب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر پانے والے دوسرے عظیم انسان میجر طفیل کی یاد میں تحریر
میں جب سر زمینِ پاک پر آزاد گھومتا ہوں، میں جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بے خطر سفر کرتا ہوں، میں جب اونچے اونچے 
پہاڑوں میں سے گذر کر خوبصور ت جھیل کا دلکش نظارہ کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اس ملک کے امن و امان کو بحال رکھنے میں وہ نوجوان جو کم عمری میں اپنی جان کو وطن عزیز کی سالمیت پر قربان کرتے ہیں یہ اُن ہی کی منہون منت ہے جو آج ہم آزادی کی سانسیں لے رہے ہیں جب بھی دشمن نے اس پاک دھرتی کی طرف میلی نظر سے دیکھا میرے وطن کے ان شیر جوانوں نے اسے جہنم واصل کر کے ہی سانس لیا۔
خیبر سے کراچی تک امن کی صورت حال کا سہرہ بھی پاک فوج کے جوانوں کے سر ہے جنہوں نے جاڑے کی سردی اور ٹھٹرتی راتوں میں اپنے سکون کو بالا طاق رکھتے ہوئے قوم کو سکون مہیا کیا،سخت گرمی میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر ہمیں پُر سکون ماحول فراہم کیا ۔ کبھی ہم نے سوچا برف باری ہو یا طوفان یہ فوجی جوان بھوکے پیاسے اپنوں سے دُور وطن عزیز کی عزت ، حُرمت اور حظاظت کے لیے چوکس کھڑے رہتے ہیں قوم و وطن کی عزت کے لیے 22 بائیس ہزار فٹ کی بُلندی پر ایک ایک سال پڑے رہتے ہیں اٹھارہ بیس کلو وزنی گَن/ کلاشنکوف تھامے تھکان سے چُور چوُر مگر چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنے فرض کی ادائیگی میں مست رہتے ہیں۔اِ ن کے جذبے کو سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں جو اپنے بوڑھے باپ کی کمزور کمر کا سہار ا بننے کی بجائے ملک و قوم کی خاطر بارڈر پر دن رات کھڑا رہنا پسند کرتا ہے جو اپنی بیوی کو بیوہ ہونے اپنے بچوں کو یتیم ہونے کے ڈر سے بے فکر محاذ پر ڈٹے رہتے ہیں۔میں سلام پیش کرتا ہوں پاک فوج کے 
جوانوں کو، پاکستان کی پولیس کو، ائرفورس کی جانبازوں کو تینوں افواج کے سرفروشوں کو، رینجرز کے بہادر سپوتو ں کو ۔واللہ ،آپ کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پوری قوم آپ کے ساتھ ہر لمحہ ہر گھڑی کھڑی ہے ۔
شہید کے رتبے اور مرتبے پر مُسلم اوربُخاری شریف کی حدیث کا ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پیارے آقا کریم حضرت محمد ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ ’’کوئی شخص بھی جنت میں داخل ہونے کے بعد دنیا میں لوٹنے کے لیے تیار نہ ہوگا، خواہ دنیا میں جو کچھ مال اور اسباب بھی موجو د ہے اسے دے دیا جائے، مگر شہید جنت میں جو عزت اور مقام پائے گا تو وہ مزید تمنا کرے گا کہ دنیا میں لوٹ جائے اور اسی شہادت کا مرتبہ اور مقام حاصل کرے یہ خواہش وہ بار بار کرے گا‘‘۔
شہید کے دو معنی ہوتے ہیں حاضر ہونا، دیکھنا، شریعت کی اصطلاح میں اللہ کریم کی راہ میں مارے جانے والوں کوشہید کہتے ہیں،تدفین کے بعد شہید اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کرتے ہیں کہ مجھے دنیا میں پھر بھیجا جائے تا کہ اللہ کی راہ میں پھر جان کا نذرانہ دینے کی لذت اور سُرور سے لطف اندوز ہو ، جو اس سے پہلے مجھے ملی تھی، وفات کے بعد شہید کو رزق ملتا رہتا ہے اور شہید کا جسم زمین نہیں کھاتی اسلام نے شہید کو جو مقام اور مرتبہ عطا کیا ہے وہ اور کسی کو نصیب نہیں ہوا ،یہ تو بات بحیثیت مسلمان ہم خوب جانتے ہیں کہ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتا ہے لیکن شہید کو اللہ جلہ شانہ نے یہ عظیم رتبہ عطا کیا ہے کہ قبر میں اس کا جسم مٹی نہیں کھاتی یہ اللہ کریم کا ایک بڑا معجزہ ہے ۔
سورۃ العمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے،’’ اسلام میں بہت کم لوگ شہداء کے مرتبے کے برابر ہیں، وہی شہداء جو سوچ سمجھ کر اور خلوصِ دل کے ساتھ معرکہ حق و باطل میں قدم رکھتے ہیں اور اپنے پاکیزہ خون کے آخری قطرات تک اللہ کی راہ میں نچھاور کر دیتے ہیں۔
آیئے قارئین پاکستان کے دوسرے عظیم انسان جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے پاک فوج کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر کو اپنے نام کیا اس بہادر قومی ہیرو کا نام ہے میجر طفیل ۔

میجر طفیل محمد شہید


طفیل محمد جن کے والد کا نام چوہدری موج دین تھا 22 جولائی 1914ء کو موضع کھرکال ضلع ہوشیار پور (بھارت) پنجاب میں پیدا ہوئے ، گُجر برادری سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان7 اگست 1958 ء بروز جمعرات کو سرزمین وطن کی خاطر بھارتی سورماؤں کو جہنم واصل کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گیا۔ ان کی شہادت کشمی پور ضلع کومیلا جو کہ مشرقی پاکستان اور آج بنگلہ دیش کے نام سے جانا جاتا ہے ، پر جان جانِ آفرین کے حوالے کی۔
ان کی عظیم قربانی ، جُرت اور بہادری کے پیش نظر نشانِ حیدر دیا گیا، نشانِ حیدر پانے والے یہ دوسرے فوجی ہیں جن کو پاک فوج کا سب سے بڑا اعزاز دیا گیا۔میجر طفیل محمد نے 1943ء میں 16 پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا ،اپنی بٹالین کے علاوہ شہری مسلح فورسز میں مختلف کمانڈ اور تدریسی تقرریوں پر مشتمل ایک امتیازی کیریئر کے بعد انہیں 1958ء میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)رائفلز میں تعینات کر دیا گیا۔7اگست 1958ء میں انہیں کچھ بھارتی دشمنوں کا صفایا کر نے کا مشن دیا گیا ۔ کہ بھارتی دستے لکشمی پور میں مورچہ بند تھے۔ انہوں نے اپنی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے رات کے وقت ایک مارچ کیا ور 7 اگست کو بھارتی چوکی کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے انتہائی قریب جا کر صرف 15 گز کے فاصلے سے عقب سے حملہ آور پارٹی کی قیادت کی اور دشمن کی ہوش اُڑا دیے ا پنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر اتنی بہادری سے لڑے کہ تاریخ رقم کر دی۔گولیوں کی بوچھاڑ کی پرواہ کیے بغیر بہادر اور جُرت سے دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔
جب بھارتی فوج نے مشین گَن سے فائرنگ کی تو میجر طفیل چونکہ صف اول میں تھے اس لیے گولیوں کا شکار ہوئے جس سے آپ شدید زخمی ہوگئے لیکن ان کا جذبہ دیدنی تھازخموں کی پرواہ کیے بغیر اپنے مشن کی ہدایات جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا حکم دیتے رہے ، جسم سے خون بہتا رہا جس سے ان کی زندگی کا چراغ آہستہ آہستہ مدہم ہونے لگا۔ جب دشمن کی دوسری مشین گن نے فائرنگ شروع کی تو میجر طفیل کے سیکنڈ ان کمانڈ اس کا نشانہ بن گئے میجر طفیل نے ایک پختہ یقین کے ساتھ گرنیڈ کے ذریعے اس گن کو بھی تباہ کر دیا۔ میجر طفیل محمد زخموں سے چُور چُور تھے لیکن وہ اپنے دستے کی کمانڈ جاری رکھے ہوئے تھے حملہ اُس وقت تک جاری رکھا جب تک دشمن کو چھٹی کا دودھ نہ پلا دیا بھارتی دشمن اپنے پیچھے 4 لاشیں اور 3 قیدی چھوڑکر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے اور اسی دن 7اگست 1958ء کو ز خموں کی تاب نہ لا سکے اور میجر طفیل محمد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے (شہید ہو گئے )ان کی بہادری اور قومی خدمات ، حب الوطنی اور بلند ہمتی پر انہیں فو ج کا سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر دیا گیا۔آپ کو فاتح لکشمی پور بھی کہا جاتا ہے 5 نومبر 1959ء کو کراچی میں ایوان صدر میں منعقدہ ایک خاص تقریب میں اِن کی بیٹی نسیم اختر کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل صد ر محمد ایوب خان نے یہ اعزاز دیا۔طفیل محمد شہید کا نام پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور آ پ کی خدمات اور حب الوطنی کو یاد رکھا جائے گا۔قارئین یہ سلسلہ نشانِ حیدر جاری رہے گا انشاء اللہ۔ تا کہ ہمارے نوجوان نسل پاکستان کے ان غیور بیٹوں اور وطن عزیز پر اپنے خون کو نچھاور کرنے والے عظیم ہیروز کے بارے جان سکیں کہ کیسے وطن عزیزکی خاطر بہادری سے انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تا کہ نوجوانوں کے اندر جذبہ حب الوطنی اور پاک فوج کے ساتھ عقیدت پیدا ہو۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, 18 April 2018

Nishan E Haider and Story of Raja Sarwar Shaheed by M Tahir Tabassum Durrani



نشانِ حیدر


گلوبلائزیشن پر کریڈٹ سورس کی رپورٹ کی مطابق پاکستان آرمی /پاک فوج دنیا میں گیارہویں (۱۱)نمبر پر مضبوط ترین فوج کے طور پر جانی جاتی ہے ۔پاکستان میں چار بڑے فوجی اعزاز ہیں جو فوجی جوانوں کو اُن کی جرت اور بہادری پر دیئے جاتے ہیں ، یہ چار اعزاز نشانِ حیدر، ہلال جرت، تمغہ جرت اور ستارہ جرت ہیں ۔
نشانِ حیدر پاک فو ج کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے اِ س وقت تک پاک فوج کے دس (۱۰) فوجی جوانوں کو ان کی شجاعت ، بہادری اور پاکستان کی عزت و حرمت پر مٹ جانے پر دیا گیا ہے ۔ *(تاریخ میں کسی جگہ پر نشان حیدر صول پانے والے شہداء کی تعداد گیارہ بھی بتائی جاتی ہے گیارہویں بہاد ر کا ذکر بھی نشانِ حید رمیں ہی کیا جائے گا) ۔پاک فو ج کے مطابق نشانِ حیدر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے نام پر دیا جاتا ہے کیوں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا لقب حیدر کرار تھا، آپ کی بہادری اور شجاعت کی مثالیں ہمارے لیے آج بھی زندہ ہیں آپ کو اسد کا لقب بھی ملا یعنی اللہ کا شیر اسی بہادری کی مناسبت سے پاک فوج کے سب سے بڑے فوجی اعزاز کو نشان حیدر کہتے ہیں۔جن دس بہادر فوجی جوانوں کو یہ اعزاز دیا گیا اُن میں میجر طفیل شہید بڑی عمر کے فوجی تھے جن کی عمر لگ بھگ 44 چوالیس سال تھی جب انہوں نے شہادت پائی اسی طرح کم عمر فوجی جوان جس نے نشانِ حیدر پایا اُن میں راشد منہاس کا نام آتا ہے یہ اعزاز انہوں نے بیس یا اکیس سال کی عمر میں شہادت پا کر اپنے نام کیا۔
نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام یہ ہیں۔۱ ۔ راجہ محمد سرور شہید 2/1 پنجاب رجمنٹ ،عہدہ ۔کیپٹن محاذ۔ پاک بھارت جنگ 1947ء تاریخ شہادت۔ 27 جولائی1948ء ۲۔میجر طفیل محمد 16 پنجاب رجمنٹ مشرقی پاکستان رائفل پاک فوج ،عہدہ۔میجر
محاذ۔پاک بھارت جنگ 1947ء اورتاریخ شہادت۔7 اگست1958ء ۳۔میجر عزیز بھٹی 17 رجمنٹ عہدہ۔میجرمحاذ۔پاک بھارت جنگ 1965ء تاریخ شہادت۔10 ستمبر 1965ء ۴۔ راشد منہاس فائٹر کنورژن یونٹ ایف سی، عہدہ۔پائلٹ آفیسر
محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء ،تاریخ شہادت۔20 اگست 1971ء ۵۔میجر شبیر شریف فرنٹیئرفورس رجمنٹ پاک فوج عہدہ ۔میجر،محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء،تاریخ شہادت۔ 6 دسمبر 1971ء، ۶۔سوار محمد حسین 20 لانسرز (آرمرڈ کور) پاک فوج
عہدہ۔سوار،محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء،تاریخ شہادت ۔ 10 دسمبر 1971 ء، ۷۔میجر محمد اکرم 4 فرنٹیئر فورس رجمنٹ پاک فوج ،عہدہ۔میجر، محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء تاریخ شہادت۔5 دسمبر 1971ء۸۔لانس نائیک محمد محفوظ 15 پنجاب رجمنٹ پاک فوج،عہدہ۔ لانس نائیک،محاذ۔پاک بھارت جنگ 1971ء،تاریخ شہادت۔17 دسمبر 1971ء، ۹۔کرنل شیر خان سندھ رجمنٹ 12/ ناردرن لائٹ انفنٹری پاک فوج عہدہ۔کیپٹن،محاذ۔کارگل جنگ ( پاک بھارت)،تاریخ شہادت۔7 جولائی 1999ء ۱۰۔حوالدار لالک جان12/ ناردرن لائٹ انفنٹری پاک فوج،عہدہ ۔حوالدار،محاذ۔کارگل جنگ ( پاک بھارت)تاریخ شہادت۔7 جولائی 1999ء ۱۱۔ سیف علی جنجوعہ آزاد کشمیر رجمنٹ،عہدہ۔نائیک، محاذ۔پاک بھارت جنگ 1947ء ،تاریخ شہادت۔ اکتوبر 1948ء *(نوٹ) ان کو بہادری اور شجاعت پر ہلال کشمیر کے اعزاز سے نوازا گیا جبکہ 1995 ء میں گورنمنٹ آف پاکستان نے اعلان کیا کہ ہلالِ کشمیر اعزاز نشان حید ر کے برابر ہے لہذا اس کے بعد ہلال کشمیرحاصل کرنے والے اس بہادر سپوت کوگیارہواں فوجی جوان گِنا جاتا ہے جس کوسب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حید ر ملا۔
آیئے اب نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ان عظیم مرتبہ انسانوں کے بارے جانتے ہیں کب پیدا ہوئے ؟ کب پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی اور وطن عزیز کی خاطر کتنی بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی جان جانِ آفرین کے حوالے کر کے ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہوگئے۔ ہماری نئی نسل کو اپنے فوجی جوانوں کے کارنامے اور اُن کی جرت اور بہادری کی ان داستانوں اور کارناموں کا پتہ ہونا چاہیے تا کہ آج کے نوجوانوں کے اندر ملک کے لیے محبت اور اور اس کی حُرمت پر مر مٹنے کا جذبہ پیدا ہواور وہ اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کرردار ادا کر سکیں۔جی قارئین آج سے سلسلہ وار کالم شروع کرتے ہیں آج جس عظیم انسان کا ذکر کرنے جار ہے ہیں ان کا نام ہے

 راجہ محمد سرور شہید۔


سورہ البقرہ آیت نمبر 154 ترجمعہ۔’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مرا ہوا نہ کہا کرو، بلکہ وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے ‘‘ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے سورہ العمران ترجمعہ’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے ہیں ان کو ہرگز مردہ نہ سمجھیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے راب کے پاس روزیاں دیے جاتے ہیں‘‘ پاک فوج کے جوانوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اگر وہ ملک کی عزت اور بقاء کی خاطر جنگ کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں تو انہیں شہید کا رتبہ ملتا ہے اور وہ ہمیشہ کے لیے زندہ و جاوید ہو جاتے ہیں اور جو جنگ کے دوران بچ جاتے ہیں ان کو غازی کا نام دیا جاتا ہے ۔
راجہ محمد سرور پاک فوج میں کیپٹن تھے ضلع راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان کے ایک چھوٹے سے گاؤں جس کا نام سنگھوڑی ہے یہ علاقہ زیادہ تر بنجر اور غیر آباد تھا یہاں کو لوگ زیادہ تر فوج میں ملازمت کرتے ہیں۔ 10 نومبر 1910ء میں راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے، آپ کے والد محترم کا نام حیات خان تھا اوران کے والد کی خواہش تھی کہ ان کا بیٹا فوج میں بھرتی ہو کر ملک و قوم کا نام روشن کرے، ابتدائی تعلیم ایک سرکاری سکول سے حاصل کی ۔ سرور شہید نے سترہ سال کی عمر میں میٹرک فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا تو والد صاحب کی خوشی کی انتہا نہ رہی چونکہ ان کے خاندان کے کافی لوگ پہلے ہی فوج میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے ا ور ان کے والد حیات محمد خان بھی فوج میں حوالدار کے طور پر کام کر رہے تھے ۔ ۔ سرور شہید کو فٹ بال اور کبڈی سے بہت لگاؤ تھا اور شاعری سے بھی دلچسپی رکھتے تھے اس لیے کئی شعر ان کو زبانی یاد تھے مارچ 1936ء میں ان کی شادی ان کے خاندان میں خوبصورتی اورانتہائی سادگی سے اسلامی طرز طریق سے ہوئی 1929ء میں بطور سپاہی انہوں نے پاک فو ج بلوچ رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی ، کراچی سے ابتدائی فوجی کورس مکمل کیا۔1941ء میں اسی رجمنٹ میں حوالدارکے عہدے پرترقی ملی۔ پنجاب رجمنٹ میں 1944ء میں کمیشن حاصل کیا ، برطانیہ کی جانب سے انہوں نے دوسری عالمی جنگ میں بھی حصہ لیااور جرت و بہادری کی ایک عظیم داستان رقم کی۔فوجی خدمات کی پیش نظر فروری 1947ء میں انہیں کیپٹن 
کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
1948ء میں پنجاب رجمنٹ کی 2 بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر فائض ہوئے، انہیں کشمیر آپریشن پر مامور کیا گیا، 1948ء جولائی کے مہینہ میں کشمیر اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا اس حملے میں مجاہدین کی بڑی تعداد کو نقصان پہنچا۔کافی تعداد میں فوجی شہید اور زخمی ہوئے لیکن اس کے باوجودکیپٹن سرور نے جر ت اور بہادری کے ساتھ پیش قدمی جاری رکھی اور دشمن کے مورچوں کے قریب پہنچ گئے وہاں انہیں معلوم ہوا کہ دشمن نے خو کو محفوط کرنے کے لیے خاردار تاروں سے مورچوں کو محفوط بنا لیا ہے لیکن شجاعت اور بہادری کے ساتھ سرور حسین مسلسل فائرنگ کرتے رہے۔
دشمن کی بے رحم گولیاں ان کے جسم میں داخل ہو چکی تھیں لیکن ان کا جذبہ رکنے کو تیار نہ تھا، زخموں کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھتے رہے اور ایک مشین گَن کا چارج سمھبال لیا،اُن کے ساتھ اس وقت صرف 6 جوان رہ گئے تھے ان بہادر جوانوں کے ساتھ مل کر خار دار تاروں کو کاٹ کر دشمن کے مورچے پر حملہ کر دیا۔دشمن نے اپنی توپوں کا رُخ کیپٹن سرور کی طرف کر دیا اور کیپٹن سرور کو ایک گولی سینے میں آلگی خون تیزی سے بہہ رہا تھا دشمن وار پے وار کر رہا تھا گولیاں دائیں بائیں اوپر نیچے سے گذر رہیں تھیں لیکن ان کا جذبہ ان کو آخری تار کاٹنے پر مجبور کر رہا تھا اور وہ سچی لگن سے اسے کاٹنے میں مصروف تھے کہ دشمن کی گولیوں نے سینہ چھلنی کر دیا اس کی باوجود انہوں نے ایک برسٹ دشمن پر پھینکا اوراللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔ دشمن اپنی چوکیا ں چھوڑ کر بھاگ گیا کیپٹن سرور زخموں کی تاب نہ لا سکے اور وہیں انہوں نے جام شہادت نوش کیا۔ اسی پہاڑی پر صج سبز حلالی پرچم کو لہراتے ہوئے سب نے دیکھا اور سلام عقیدت پیش کیا۔ ان کی عظیم اور شاندار خدمات ، جرت اور بہادری کے پیش نظر ان کو مختلف اعزازات سے نوازہ گیا۔ 1959ء میں ان کو سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا اور یہ اعزاز راولپنڈی میں منعقدہ ایک تقریب میں اُن کی بیوہ محترمہ کرم جان نے جنوری 1961ء میں صدر پاکستان محمد ایوب خان سے وصول کیا ۔کیپٹن سرور کی عظیم قربانی اور بہادی کی داستان ہمیشہ یار رکھی جائے گی اور وہ ہمارے سینوں میں آج بھی زندہ ہیں۔
مکمل تحریر >>